🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
323. توضيح معنى إلا اللمم
آیت ”إلا اللمم“ کے معنی کی وضاحت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3793
أخبرنا أبو زكريا العَنبَري، حَدَّثَنَا محمد بن عبد السلام، حَدَّثَنَا إسحاق، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا مَعمَر، عن الأعمش، عن أبي الضُّحى، عن مسروق، أنَّ ابن مسعود قال في قوله ﷿: ﴿إِلَّا اللَّمَمَ﴾، قال: زنى العين النَّظَرُ، وزنى الشَّفَتين التقبيلُ، وزنى اليدين البطشُ، وزنى الرِّجلين المشيُ، ويصدِّقُ ذلك أو يكذِّبُه الفَرْجُ، فإن تقدَّم بفَرْجِه كان زانيًا، وإلَّا فهو اللَّمَمُ (3) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3751 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد الا اللمم کے متعلق فرماتے ہیں: آنکھوں کا زنا دیکھنا ہے، ہونٹوں کا زنا بوسہ ہے، ہاتھوں کا زنا پکڑنا ہے، قدموں کا زنا چلنا ہے اور شرمگاہ اس کی تصدیق یا تکذیب کرتی ہے۔ اگر بات شرمگاہ تک جا پہنچی تو وہ شخص زانی قرار پاتا ہے ورنہ اس کو لمم کہتے ہیں۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3793]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3793 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) إسناده صحيح. إسحاق: هو ابن راهويه، وأبو الضُّحى: هو مسلم بن صُبَيح.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اسحاق سے مراد ابن راہویہ، اور ابو الضحیٰ سے مراد مسلم بن صبیح ہیں۔
وأخرجه البيهقي في "شعب الإيمان" (6659) عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے بیہقی نے "شعب الایمان" (6659) میں ابو عبد اللہ الحاکم کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وهو في "تفسير عبد الرزاق" 2/ 255.
📖 حوالہ / مصدر: یہ "تفسیر عبد الرزاق" (2/ 255) میں موجود ہے۔
ورواه عن الأعمش أيضًا أبو بكر بن عياش كما ذكر الدارقطني في "العلل" 5/ (856). ورواه عاصم بن بهدلة بنحوه عن أبي الضحى، واختلف عليه في رفعه ووقفه، والموقوف أصح كما قال الدارقطني في "العلل".
📖 حوالہ / مصدر: اسے اعمش سے ابو بکر بن عیاش نے بھی روایت کیا ہے جیسا کہ دارقطنی نے "العلل" (5/ 856) میں ذکر کیا۔ نیز عاصم بن بہدلہ نے بھی اسے ابو الضحیٰ سے اسی طرح روایت کیا، مگر اس کے مرفوع اور موقوف ہونے میں اختلاف ہوا ہے، اور دارقطنی کے بقول "موقوف" ہونا زیادہ صحیح ہے۔
أخرجه من طريق عاصم بن بهدلة مرفوعًا أحمد في "مسنده" 7/ (3912) من طريق همام بن يحيى، عنه، عن أبي الضحى، به. وانظر تتمة تخريجه فيه.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد نے "مسند" (7/ 3912) میں ہمام بن یحییٰ عن عاصم عن ابی الضحیٰ کے طریق سے "مرفوعاً" تخریج کیا ہے۔ مزید تخریج وہیں دیکھیں۔
ورواه موقوفًا زكريا بن أبي زائدة، عن عامر الشعبي، عن مسروق، عن ابن مسعود. أخرجه الخرائطي في "اعتلال القلوب" (179)، و"مساوئ الأخلاق" (500). وإسناده صحيح.
📖 حوالہ / مصدر: اور زکریا بن ابی زائدہ عن عامر شعبی عن مسروق عن ابن مسعود نے اسے "موقوفاً" روایت کیا ہے۔ اسے خرائطی نے "اعتلال القلوب" (179) اور "مساوی الاخلاق" (500) میں نکالا۔ ⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے۔