المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
355. شرح معنى آية: ومن يوق شح نفسه
آیتِ ومن یوق شح نفسہ کی وضاحت
حدیث نمبر: 3857
حدثنا علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حدثنا أبو المثنَّى، حدثنا محمد بن كَثير، حدثنا سفيان، عن جامع بن شدَّاد، عن الأسود بن هلال قال: جاء رجلٌ إلى عبد الله بن مسعود فسأله عن هذه الآية: ﴿وَمَنْ يُوقَ شُحَّ نَفْسِهِ فَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ﴾ [التغابن: 16] ، وإني امْرُؤٌ ما قَدَرتُ، ولا يخرجُ من يدي شيءٌ، وقد خَشِيتُ أن يكون قد أصابتني هذه الآيةُ، فقال عبد الله: ذكرتَ البخلَ وبِئسَ الشيءُ البخلُ، وأمّا ما ذَكَرَ اللهُ في القرآن، فليس كما قلت، ذاك أن تَعمِدَ إلى مال غيرِك أو مالِ أخيك فتأكلَه (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3815 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3815 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا اسود بن ہلال رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک شخص سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور اس نے اس آیت: وَ مَنْ یُّوْقَ شُحَّ نَفْسِہٖ فَاُولٰٓئِکَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ (التغابن: 16) ” اور جو اپنی جان کے لالچ سے بچایا گیا تو وہی فلاح پانے والا ہے۔“ پڑھی (پھر بولا) میں نادار شخص ہوں اور میں کبھی بھی (اللہ کی راہ میں) خرچ نہیں کر سکا مجھے خدشہ ہے کہ میں بھی اس آیت کے حکم میں شامل نہ ہو جاؤں تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جو بات تم کہہ رہے ہو وہ بخل ہے اور بخل واقعی بہت بری چیز ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے قرآن (کی اس آیت) میں جس چیز کا ذکر کیا ہے، وہ بخل نہیں ہے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ تم اپنے بھائی یا کسی غیر کا مال کھاؤ۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3857]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3857 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح. أبو المثنى: هو معاذ بن المثنى العنبري، ومحمد بن كثير: هو العبدي، وسفيان: هو الثوري.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: ابو المثنیٰ سے مراد "معاذ بن مثنیٰ عنبری" ہیں، محمد بن کثیر سے مراد "العبدی" ہیں اور سفیان سے مراد "سفیان الثوری" ہیں۔
وأخرجه البيهقي في "شعب الإيمان" (10347) عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام بیہقی نے "شعب الایمان" (10347) میں ابو عبد اللہ الحاکم سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه الطبراني (9060) من طريق محمد بن يوسف الفريابي، عن سفيان، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے طبرانی (9060) نے محمد بن یوسف فریابی کے طریق سے، انہوں نے سفیان سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه بنحوه ابن أبي شيبة 9/ 98، والطبري في "تفسيره" 28/ 43، وفي "تهذيب الآثار" له في مسند عمر 1/ 120 من طريق الأعمش، عن جامع بن شداد، به - ورواية ابن أبي شيبة مختصرة.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن ابی شیبہ (9/98) اور طبری نے اپنی تفسیر (28/43) میں اور "تہذیب الآثار" (مسند عمر 1/120) میں اسی طرح روایت کیا ہے، یہ اعمش کے طریق سے، انہوں نے جامع بن شداد سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے، لیکن ابن ابی شیبہ کی روایت "مختصر" ہے۔
وأخرجه الطبري أيضًا في كتابيه من طريق المسعودي، عن أشعث بن أبي الشعثاء، عن أبيه، عن ابن مسعود.
📖 حوالہ / مصدر: اسے طبری نے بھی اپنی دونوں کتابوں میں مسعودی کے طریق سے، انہوں نے اشعث بن ابی شعثاء سے، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔