🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
355. شرح معنى آية: ومن يوق شح نفسه
آیتِ ومن یوق شح نفسہ کی وضاحت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3858
حدثنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الزاهد، حدثنا محمد بن مسلمة (2) ، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا محمد بن إسحاق، عن العلاء بن عبد الرحمن، عن أبيه، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ:"يقولُ الله ﷿: استَقرَضتُ عبدي فَأَبَى أن يُقرِضَني، ولا يدري (3) يقولُ: وادَهراهْ، وادَهْراهْ، وأنا (4) الدَّهرُ". ثم تلا أبو هريرة قولَ الله ﷿: ﴿إِنْ تُقْرِضُوا اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا يُضَاعِفْهُ لَكُمْ﴾ [التغابن: 17] (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه [65 - ومن تفسير سورة الطلاق]
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3816 - على شرط مسلم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں نے اپنے بندے سے قرضہ مانگا لیکن اس نے مجھے قرضہ دینے سے انکار کر دیا اور میرا بندہ مجھے گالی دیتا ہے اور اس کو پتہ نہیں چلتا کہ وہ کیا کہہ رہا ہے۔ یہ کہتا ہے وادھراہ وادھراہ (ہائے زمانہ ہائے زمانہ) حالانکہ دھر (کو چلانے والا اور اس کا انتظام کرنے والا) تو خود میں ہوں۔ پھر سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت پڑھی: اِنْ تُقْرِضُوا اللّٰہَ قَرْضًا حَسَنًا یُّضٰعِفْہُ لَکُمْ وَ یَغْفِرْ لَکُمْ (التغابن: 17) اگر تم اللہ کو اچھا قرض دو گے وہ تمہارے لیے اس کے دونے کرے گا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3858]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3858 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) تحرَّف في (ز) وحدها إلى: سلمة. ومحمد بن مسلمة هذا: هو الواسطي.
📝 نوٹ / توضیح: صرف نسخہ (ز) میں یہ تحریف ہو کر "سلمہ" بن گیا ہے، اور یہاں محمد بن مسلمہ سے مراد "الواسطی" ہیں۔
(3) في المطبوع: "وسبَّني عبدي ولا يدري"، وقوله: و"سبني عبدي"، ليس في شيء من نسخنا في هذا الموضع، وقد سلف الحديث برقم (1540) من طريق الحسن بن مكرم عن يزيد بن هارون، وفيه هذه الزيادة.
📝 نوٹ / توضیح: مطبوعہ نسخے میں "اور میرے بندے نے مجھے برا بھلا کہا اور وہ نہیں جانتا" کے الفاظ ہیں، جبکہ "سبنی عبدی" (میرے بندے نے مجھے برا بھلا کہا) کے الفاظ ہمارے کسی بھی قلمی نسخے میں یہاں موجود نہیں ہیں۔ یہ حدیث پہلے نمبر (1540) پر حسن بن مکرم کے طریق سے گزر چکی ہے جو یزید بن ہارون سے روایت کرتے ہیں، اور وہاں یہ زیادتی موجود ہے۔
(4) في (ز): وما. وهو تحريف.
📝 نوٹ / توضیح: نسخہ (ز) میں "وما" لکھا ہے، جو کہ "تحریف" ہے۔
(1) حديث صحيح، محمد بن مسلمة - وإن كان فيه مقال - قد توبع فيما سلف برقم (1540)، ومحمد بن إسحاق حسن الحديث وقد عنعن، لكنه متابع أيضًا كما سلف.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث "صحیح" ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: محمد بن مسلمہ پر اگرچہ کلام ہے، لیکن ان کی متابعت گزشتہ حدیث نمبر (1540) میں ہو چکی ہے۔ اور محمد بن اسحاق "حسن الحدیث" ہیں اور انہوں نے (عن) کے ساتھ روایت کیا ہے (جو تدلیس کا شبہ پیدا کرتا ہے)، لیکن وہ بھی متابع ہیں جیسا کہ گزر چکا ہے۔