🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
361. حكاية أخرى فى خشية الله تعالى
اللہ تعالیٰ کے خوف سے متعلق ایک اور واقعہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3871
أخبرنا أبو عبد الله على أثرِه، حدثنا أبو بكر بن أبي الدُّنيا، حدثني محمد بن إسحاق الثَّقفي. وحدَّثَناه أبو إسحاق إبراهيم بن محمد بن يحيى إملاءً، حدثنا أبو العبَّاس محمد بن إسحاق الثقفي، حدثني أحمد بن منصور (1) الأنصاري، عن منصور بن عمَّار، قال: حَجَجَتُ حَجَّةً فنزلتُ سِكَّةً من سِكَك الكوفة، فخرجتُ في ليلةٍ مظلمةٍ فإذا بصارخ يَصرُخ في جوف الليل وهو يقول: إلهي، وعزَّتِك وجلالِك ما أردتُ بمعصيتي إياك مخالفتَك، ولقد عصيتُك إذ عصيتُك وما أنا بذلك (2) جاهلٌ، ولكنْ خطيئةٌ عَرَضَت أَعانني عليها شقائي، وغرَّني سِتْرُك المَرخيُّ عليَّ، وقد عصيتُك بجَهْلي، وخالفتُك بجهلي، فالآن مِن عذابك (1) مَن يستنقذُني، وبحبل مَن أتَّصِلُ إن أنت قطعتَ حبلَك عني، واشَبَاباهُ واشَبَاباهْ، فلما فَرَغَ من قوله تلوتُ آيةً من كتاب الله: ﴿نَارًا وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ عَلَيْهَا مَلَائِكَةٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ﴾ الآية [التحريم: 6] ، فسمعُت حركةً شديدةً، ثم لم أسمع بعدها حِسًّا، فمضيتُ. فلما كان من الغدِ، رجعتُ في مَدْرَجتي، فإذا أنا بجنازة قد وُضِعَت، وإذا عجوزٌ كبيرة، فسألتُها عن أمر الميِّت، ولم تكن عرفَتني، فقالت: مرَّ هاهنا رجلٌ لا جزاه الله إلَّا جزاءَه، مرَّ بابني البارحةَ وهو قائمٌ يصلي، فتلا آيةً من كتاب الله، فلما سمعها ابني تَفطَّرَت مَرارتُه فوقع مَيّتًا (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3829 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا منصور بن عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں حج کرنے گیا اور کوفہ کے ایک محلہ میں قیام کیا۔ پھر ایک اندھری رات میں نکلا تو میں نے ایک چیخنے والے کو سنا کہ وہ رات کے سناٹے میں چیخ چیخ کر کہہ رہا تھا: اے اللہ! تیری عزت اور تیرے جلال کی قسم! تیری نافرمانی کرنے سے میرا ارادہ تیری مخالفت کرنا نہ تھا۔ میرا نافرمانی کرنا محض نافرمانی ہی تھا اور میں اس سے جاہل نہ تھا لیکن ایک خطا مجھ سے سرزد ہوئی، میری بدبختی نے اس پر میری مدد کی اور تیری پردہ پوشیوں سے میں دھوکے میں رہا۔ میں نے اپنی جہالت کی وجہ سے تیری نافرمانی کی اور اپنی جہالت کی وجہ سے تیری مخالفت کی اور اب مجھے تیرے عذاب سے کون بچائے گا؟ اور اگر تو نے اپنا تعلق مجھ سے توڑ لیا تو میرا تعلق تیرے ساتھ کون بحال کروائے گا؟ ہائے میری جوانی! ہائے میری جوانی! جب وہ اپنی بات سے خاموش ہوا تو میں نے قرآن کریم کی اس آیت کی تلاوت کی: قُوْآ اَنْفُسَکُمْ وَ اَھْلِیْکُمْ نَارًا وَّ قُوْدُھَا النَّاسُ وَ الْحِجَارَۃُ عَلَیْھَا مَلٰٓئِکَۃٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ (التحریم: 6) اپنی جانوں اور اپنے گھر والوں کو آگ سے بچاؤ، جس کے ایندھن آدمی اور پتھر ہیں، اس پر سخت کرے (طاقتور) فرشتے مقرر ہیں جو اللہ کا حکم نہیں ٹالتے۔ اس کے بعد میں نے شدید حرکت سنی اور پھر میں نے کوئی حرکت وغیرہ محسوس نہ کی اور میں وہاں سے گزر گیا۔ اگلے دن میں اپنے خیمے میں لوٹا تو میں نے دیکھا کہ ایک جنازہ رکھا ہوا ہے اور ایک بوڑھی خاتون وہاں موجود تھی، میں نے اس خاتون سے اس میت کے متعلق پوچھا (وہ خاتون مجھے پہچانتی نہ تھی) اس نے کہا: گزشتہ رات ایک آدمی (اللہ تعالیٰ اس کو صرف اس کی جزا دے) میرے بیٹے کے پاس سے گزرا۔ اس وقت یہ نماز پڑھ رہا تھا۔ اس آدمی نے قرآن کریم کی ایک آیت تلاوت کی، جب میرے بیٹے نے وہ آیت سنی تو اس کا پتا پھٹ گیا، جس سے اس کی موت واقع ہو گئی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3871]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3871 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) كذا وقع للمصنف وعنه البيهقي في "شعب الإيمان" (909): أحمد بن منصور، وقد عدَّه الحافظ ابن حجر في "إتحاف المهرة" 6/ 114 أحمد بن منصور الرمادي، وهذا من شيوخه، وهو ثقة، إلّا أنه وقع منسوبًا في النسخ الخطية للمستدرك انصاريًا، وأحمد بن منصور الرمادي ليس كذلك، ووقع في مصادر التخريج التي خرجته من طريق أبي العبَّاس الثقفي - وهو السَّرّاج -: أحمد بن موسى الأنصاري، ولم نقف في هذه الطبقة على من اسمه أحمد بن موسى الأنصاري، إلّا أن يكون أحمد بن موسى بن إسحاق أبا عبد الله الأنصاري، وهو ثقة وثقه الخطيب البغدادي في "تاريخه" 6/ 352، إلّا أنَّ هذا من أقران أبي العبَّاس السراج، فإن كان هو فالإسناد بينه وبين منصور بن عمار منقطع، والله تعالى أعلم.
🔍 فنی نکتہ / علّت: مصنف کے ہاں اور ان سے بیہقی ("شعب الایمان" 909) کے ہاں "احمد بن منصور" واقع ہوا ہے، اور حافظ ابن حجر نے "اتحاف المہرہ" (6/114) میں انہیں "احمد بن منصور الرمادی" شمار کیا ہے جو کہ ثقہ اور مصنف کے شیوخ میں سے ہیں۔ لیکن مستدرک کے قلمی نسخوں میں یہ "انصاری" کی نسبت کے ساتھ واقع ہوئے ہیں، حالانکہ الرمادی انصاری نہیں ہیں۔ اور تخریج کے مصادر میں جو ابو عباس ثقفی (السراج) کے طریق سے مروی ہیں، وہاں "احمد بن موسیٰ الانصاری" ہے، اور ہمیں اس طبقے میں "احمد بن موسیٰ الانصاری" نام کا کوئی راوی نہیں ملا، سوائے اس کے کہ یہ "احمد بن موسیٰ بن اسحاق ابو عبد اللہ الانصاری" ہوں جو ثقہ ہیں اور خطیب بغدادی نے تاریخ (6/352) میں ان کی توثیق کی ہے۔ مگر یہ ابو عباس السراج کے ہم عصر (اقران) میں سے ہیں، اگر یہ وہی ہیں تو ان کے اور منصور بن عمار کے درمیان سند "منقطع" ہو گی۔ واللہ اعلم۔
(2) في نسخنا الخطية: إذ عصيتك وأنا بذلك جاهل، على الإثبات، والمثبت من (ب) وهو كذلك في النسخة المحمودية كما في طبعة الميمان، وهو الصواب الموافق لما في مصادر التخريج، ففيها وما أنا بنكالك جاهل.
📝 نوٹ / توضیح: ہمارے قلمی نسخوں میں "إذ عصيتك وأنا بذلك جاهل" (جب میں نے تیری نافرمانی کی تو میں اس سے جاہل تھا) اثبات کے ساتھ ہے، جبکہ ہم نے نسخہ (ب) سے جو ثابت کیا ہے (وہ نفی کے ساتھ ہے) اور یہی نسخہ محمودیہ میں بھی ہے (طبع میمانی کے مطابق)، اور یہی درست ہے جو دیگر مصادرِ تخریج کے موافق ہے، جن میں الفاظ ہیں: "وما أنا بنكالك جاهل" (اور میں تیرے عذاب سے بے خبر نہیں تھا)۔
(1) هكذا في المطبوع، وهو الموافق لما في مصادر التخريج، وفي نسخنا الخطية: عدلك، والأول أوجه.
📝 نوٹ / توضیح: مطبوعہ نسخے میں اسی طرح ہے اور یہی مصادرِ تخریج کے موافق ہے۔ ہمارے قلمی نسخوں میں "عدلک" ہے، لیکن پہلا (مطبوعہ والا) زیادہ بہتر ہے۔
(2) رجاله إلى منصور بن عمار ثقات، ومنصور بن عمار واعظ بليغ صالحٌ، وانظر ترجمته في "سير أعلام النبلاء" 9/ 93، وقد نقل فيه الذهبي هذا الخبر عن أبي العبَّاس.
⚖️ درجۂ حدیث: منصور بن عمار تک اس کے تمام راوی ثقہ ہیں۔ منصور بن عمار ایک بلیغ اور صالح واعظ ہیں۔ 📖 حوالہ / مصدر: ان کا تذکرہ "سیر اعلام النبلاء" (9/93) میں دیکھیں، جہاں ذہبی نے یہ خبر ابو عباس سے نقل کی ہے۔
ومن طريق أبي العبَّاس أخرجه أيضًا أبو نعيم في "حلية الأولياء" 9/ 327 - 328 و 10/ 187، وابن عساكر في "تاريخ دمشق" 60/ 330 - 331، وابن قدامة المقدسي في كتاب "التوابين" ص 171.
📖 حوالہ / مصدر: ابو عباس کے طریق سے اسے ابو نعیم نے "حلیۃ الاولیاء" (9/327-328، 10/187)، ابن عساکر نے "تاریخ دمشق" (60/330-331) اور ابن قدامہ مقدسی نے "کتاب التوابین" (ص 171) میں روایت کیا ہے۔
وأخرجه أبو نعيم 9/ 328 - 329 من طريق أحمد بن محمد بن يوسف، عن أبيه، قال: أُخبرتُ عن منصور بن عمار …
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابو نعیم (9/328-329) نے احمد بن محمد بن یوسف کے طریق سے، انہوں نے اپنے والد سے روایت کیا ہے، وہ کہتے ہیں: مجھے منصور بن عمار کے حوالے سے بتایا گیا...
وأخرجه ابن الجوزي في "التبصرة" ص 36 من طريق علي بن الموفّق، عن منصور بن عمار.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن الجوزی نے "التبصرہ" (ص 36) میں علی بن موفق کے طریق سے، انہوں نے منصور بن عمار سے روایت کیا ہے۔