🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
385. تفسير سورة المرسلات
تفسیر سورۂ المرسلات
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3931
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفّار، حدَّثنا أحمد بن مِهْران، حدَّثنا عُبيد الله بن موسى، حدَّثنا إسرائيل، حدَّثنا سِمَاك بن حَرْب، عن خالد بن عَرعَرة قال: قام رجل إلى علي فقال: ما العاصفاتُ عَصْفًا؟ قال: الرِّياح (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3887 - صحيح
سیدنا خالد بن عرعرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ایک آدمی سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے پوچھا: فَالْعَاصِفَاتِ عَصْفًا (المرسلات: 2) پھر زور سے جھونکا دینے والیاں۔ (سے کیا مراد؟) ہے آپ نے فرمایا: ہوائیں۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3931]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3931 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) إسناده حسن.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "حسن" ہے۔
وأخرجه إسحاق بن راهويه في "مسنده" كما في "المطالب العالية" (3773)، والبيهقي في "شعب الإيمان" (3704) من طريقين عن سماك بن حرب، به - ضمن خبر طويل.
📖 حوالہ / مصدر: اسے اسحاق بن راہویہ نے اپنی "مسند" (جیسا کہ "المطالب العالیہ" 3773 میں ہے) اور بیہقی نے "شعب الایمان" (3704) میں سماک بن حرب سے دو مختلف طریقوں سے روایت کیا ہے - ایک طویل خبر کے ضمن میں۔