المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
385. تفسير سورة المرسلات
تفسیر سورۂ المرسلات
حدیث نمبر: 3932
أخبرني أبو بكر الشافعي، حدَّثنا إسحاق بن الحسن، حدَّثنا أبو حُذَيفة، حدَّثنا سفيان، عن عبد الرحمن بن عابس: سمعتُ ابنَ عبَّاس وسُئِل عن هذه الآية: (تَرْمِي بِشَرَرٍ كالقَصَرِ (1) ) [المرسلات: 32] ، قال: كنا في الجاهلية نَقصُر (2) ذراعين أو ثلاثةً، فنَرفعُه في الشتاء ونسمِّيه القَصَرَ. قال: وسمعتُ ابنَ عبَّاس وسُئِل عن ﴿جِمَالَتٌ صُفْرٌ﴾ [المرسلات: 33] قال: حِبالُ السُّفن يُجمَع بعضُها إلى بعض حتى تكون كأوساط الرِّجال (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه! 78 - تفسير (عمَّ يتساءلون) ﷽
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3888 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه! 78 - تفسير (عمَّ يتساءلون) ﷽
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3888 - صحيح
سیدنا عبدالرحمن بن عابس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اس آیت کے متعلق پوچھا گیا: اِنَّھَا تَرْمِیْ بِشَرَرٍ کَالْقَصْرِ (المرسلات: 32) ” بیشک دوزخ چنگاریاں اڑاتی ہے۔“ تو آپ نے فرمایا: ہم زمانہ جاہلیت میں دو یا تین گز کی لکڑیاں توڑ لیتے تھے اور موسم سرما میں اونچی کر دیتے تھے اس عمل کا نام ” نصر “ رکھتے تھے۔ نیز آپ سے ” جمالات صفر “ کے متعلق پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا (اس سے مراد) کشتیوں کی رسیاں ہیں جو ایک دوسرے کے ساتھ باندھ دی جاتیں تو وہ کجاوے کے درمیانی حصے کی طرح ہو جاتیں۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3932]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3932 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) بفتح القاف والصاد، وهي قراءة ابن عبَّاس وذكرها ابن جنّي في "المحتسب في تبيين وجوه شواذ القراءات" 2/ 346. والقَصَر: أصول الشجر، واحدها: قَصَرة.
📝 نوٹ / توضیح: یہ "قاف" اور "صاد" کے زبر کے ساتھ (قَصَر) ہے، اور یہ ابن عباس کی قرأت ہے۔ ابن جنی نے اسے "المحتسب فی تبیین وجوہ شواذ القراءات" (2/346) میں ذکر کیا ہے۔ "القَصَر": درختوں کی جڑیں، اس کا واحد "قَصَرَہ" ہے۔
(2) في المطبوع: نقصر الخشب، بزيادة الخشب، وليست في شيء من نسخنا الخطية ولا في رواية البيهقي عن المصنف في "البعث والنشور" (521)، وهي ثابتة في رواية البخاري.
📝 نوٹ / توضیح: مطبوعہ نسخے میں "نقصر الخشب" ہے، یعنی "الخشب" کے اضافے کے ساتھ، حالانکہ یہ ہمارے کسی قلمی نسخے میں نہیں اور نہ ہی بیہقی کی مصنف سے روایت (البعث والنشور 521) میں ہے، البتہ یہ بخاری کی روایت میں ثابت ہے۔
(3) خبر صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل أبي حذيفة: وهو موسى بن مسعود النَّهدي، وقد توبع. سفيان: هو الثوري.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ خبر "صحیح" ہے اور اس کی سند ابو حذیفہ (موسیٰ بن مسعود نہدی) کی وجہ سے "حسن" ہے، اور ان کی متابعت موجود ہے۔ سفیان سے مراد "الثوری" ہیں۔
وأخرجه البخاري (4932) عن محمد بن كثير العبدي، و (4933) من طريق يحيى بن سعيد القطان، كلاهما عن سفيان الثوري، بهذا الإسناد. فاستدراك الحاكم له ذهولٌ منه.
📖 حوالہ / مصدر: اسے بخاری (4932) نے محمد بن کثیر عبدی سے، اور (4933) نے یحییٰ بن سعید قطان کے طریق سے، دونوں نے سفیان ثوری سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ لہٰذا حاکم کا اسے مستدرک میں لانا ان کا "ذہول" ہے۔