المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
407. تفسير سورة { والشمس وضحاها }
سورۃ الشمس وضحاھا کی تفسیر
حدیث نمبر: 3982
أخبرنا عبد الرحمن بن الحسن القاضي، حدَّثنا إبراهيم بن الحسين، حدَّثنا آدم بن أبي إياس، حدَّثنا وَرْقاء، عن ابن أبي نَجيحٍ، عن مجاهدٍ، عن ابن عبَّاس في قوله ﷿: ﴿وَالشَّمْسِ وَضُحَاهَا﴾ قال: ضَوْؤُها ﴿وَالْقَمَرِ إِذَا تَلَاهَا﴾ تَبِعَها ﴿وَالنَّهَارِ إِذَا جَلَّاهَا﴾ قال: أضاءَها ﴿وَالسَّمَاءِ وَمَا بَنَاهَا﴾ قال: الله بَنَى السماء، وقوله: ﴿وَالْأَرْضِ وَمَا طَحَاهَا﴾ قال: دَحَاها، ﴿فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا﴾: قال عرَّفها شقاءَها وسعادتَها ﴿وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسَّاهَا﴾، قال: أَغْواها (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3938 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3938 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما، اللہ تعالیٰ کے ارشاد: وَ الشَّمْسِ وَ ضُحٰھَا ” سورج اور اس کی روشنی کی قسم “ (کی تفسیر کرتے ہوئے) فرماتے ہیں: (ضحاہا سے مراد) اس کی روشنی ہے۔ وَ الْقَمَرِ اِذَا تَلٰھَا ” اور چاند کی جب اس کے پیچھے آئے۔“ (میں تلاھا سے مراد) ” تبعھا “ یعنی اس کے پیچھے آنا ہے۔ اور وَ النَّھَارِ اِذَا جَلّٰھَا ” اور دن کی جب اسے چمکائے “ (میں جلاھا کا معنی) ” اضاء ھا “ یعنی ” اسے چمکائے “ ہے۔ اور: وَ السَّمَآءِ وَ مَا بَنٰھَا ” اور آسمان اور اس کے بنانے والے کی “ (کی تفسیر کرتے ہوئے) فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے آسمان کو بنایا: وَ الْاَرْضِ وَ مَا طَحٰھَا ” اور زمین اور اس کے پھیلانے والے کی “ (میں ” طحاھا “ سے مراد) ” دحاھا “ یعنی اس کو پھیلایا ہے۔ اور: وَ نَفْسٍ وَّ مَا سَوّٰھَا فَاَلْھَمَھَا فُجُوْرَھَا وَ تَقْوٰھَا ” اور جان کی اور جس نے اسے ٹھیک بنایا، پھر اس کی بدکاری اور اس کی پرہیزگاری دل میں ڈالی “ (کی تفسیر کرتے ہوئے) فرماتے ہیں: اس کو اس کی بدبختی اور نیک بختی کی پہچان کرا دی۔ قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَکّٰھَا وَ قَدْ خَابَ مَنْ دَسّٰھَا ” بیشک مراد کو پہنچایا جس نے اسے ستھرا کیا، اور نامراد ہوا جس نے اسے معصیت میں چھپایا “ (میں دساھا کا معنی) ” اغواھا “ یعنی (اسے چھپایا) ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3982]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3982 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) صحيح عن مجاهدٍ من تفسيره، وعبد الرحمن بن الحسن فيه ضعف لكنه متابع.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ مجاہد سے ان کی تفسیر کے طور پر "صحیح" ہے، عبد الرحمن بن حسن میں ضعف ہے لیکن وہ "متابع" ہیں۔
فقد رواه الحارث بن أبي أسامة عن الحسن بن موسى الأشيب عن ورقاء عند الطبري 30/ 208 وما بعدها مقطعًا، ولم يجاوزه مجاهدًا. وإسناده صحيح.
📖 حوالہ / مصدر: چنانچہ اسے حارث بن ابی اسامہ نے حسن بن موسیٰ اشیب سے، انہوں نے ورقاء سے (طبری 30/208 اور بعد میں ٹکڑوں میں) روایت کیا ہے اور اسے مجاہد سے آگے نہیں بڑھایا۔ اور اس کی سند "صحیح" ہے۔
وهو كذلك عن مجاهدٍ من تفسيره في رواية أبي علي بن شاذان لـ "تفسير آدم بن أبي إياس" 2/ 762 - 764 عن عبد الرحمن بن حسن القاضي.
📖 حوالہ / مصدر: یہ اسی طرح مجاہد کی تفسیر کے طور پر ابو علی بن شاذان کی "تفسیر آدم بن ابی ایاس" (2/762-764) کی روایت میں عبد الرحمن بن حسن القاضی سے مروی ہے۔
وأخرج آخره البيهقي في "القضاء والقدر" (353) عن أبي عبد الله الحاكم بهذا الإسناد بذكر ابن عبَّاس. ثم قال (354): وأخبرنا به أبو عبد الله - يعني الحاكم - في تفسير مجاهد بهذا الإسناد فلم يجاوزه مجاهدًا … وقال في قوله: ﴿وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسَّاهَا﴾ يعني: خاب من أغواه الله. قلنا: وهو بهذا اللفظ أيضًا في رواية ابن شاذان.
📖 حوالہ / مصدر: اس کے آخر کو بیہقی نے "القضاء والقدر" (353) میں ابو عبد اللہ الحاکم سے اسی سند کے ساتھ (ابن عباس کے ذکر کے ساتھ) روایت کیا ہے۔ پھر (354 میں) فرمایا: ہمیں ابو عبد اللہ (حاکم) نے تفسیر مجاہد میں اسی سند کے ساتھ خبر دی اور اسے مجاہد سے آگے نہیں بڑھایا... اور فرمایا: ﴿وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسَّاهَا﴾ کا مطلب ہے: وہ نامراد ہوا جسے اللہ نے گمراہ کیا۔ ہم کہتے ہیں: ابن شاذان کی روایت میں بھی یہ اسی لفظ کے ساتھ ہے۔