المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
413. من قرأ القرآن لم يرد إلى أرذل العمر
جس نے قرآن پڑھا وہ ارذلِ عمر (نہایت بڑھاپے کی رسوا کن عمر) کی طرف نہیں لوٹایا جائے گا
حدیث نمبر: 3996
حدثني علي بن عيسى، حدَّثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدَّثنا ابن أبي عمر، حدَّثنا سفيان، عن عاصم الأحوّل، عن عِكْرمة، عن ابن عبَّاس قال: مَن قرأَ القرآنَ لم يُرَدَّ إلى أرذلِ العُمُر لكيلا يعلمَ بعد علمٍ شيئًا، وذلك قولُه ﷿: ﴿ثُمَّ رَدَدْنَاهُ أَسْفَلَ سَافِلِينَ (5) إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا﴾ قال: إلَّا الذين قرؤُوا القرآنَ (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. 96 - تفسير سورة (اقرأ باسم ربِّك الذي خلق) ﷽
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3952 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. 96 - تفسير سورة (اقرأ باسم ربِّك الذي خلق) ﷽
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3952 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جو قرآن پڑھتا ہے اس کو ارذل عمر سے بچا لیا جاتا ہے تاکہ (کہیں ایسا نہ ہو) کہ وہ علم کے باوجود کچھ نہ جانے (یعنی کہیں وہ عقل و شعور سے محروم نہ ہو جائے) اور یہ ہے اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کا مطلب: ثُمَّ رَدَدْٰنہُ اَسْفَلَ سَافِلِیْنَ اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا (الا الذین امنوا کا مطلب ہے) الَّا الَّذِیْنَ قَرؤُوْا الْقُرْآن (مگر وہ لوگ جو قرآن پڑھتے ہیں) [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3996]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3996 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح. ابن أبي عمر: هو محمد بن يحيى بن أبي عمر العَدَني، وسفيان: هو ابن عيينة.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے۔ ابن ابی عمر سے مراد "محمد بن یحییٰ بن ابی عمر العدنی" اور سفیان سے مراد "ابن عیینہ" ہیں۔
وأخرجه البيهقي في "شعب الإيمان" (2450) عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے بیہقی نے "شعب الایمان" (2450) میں ابو عبد اللہ الحاکم سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه ابن أبي شيبة 10/ 486، والطبري 30/ 246 من طريقين عن عاصم الأحول، عن عكرمة من قوله لم يذكر فيه ابن عبَّاس. وهو أصح.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن ابی شیبہ (10/486) اور طبری (30/246) نے عاصم الاحول سے دو مختلف طریقوں سے عکرمہ کے قول کے طور پر روایت کیا ہے اور اس میں ابن عباس کا ذکر نہیں کیا۔ اور یہی "زیادہ صحیح" ہے۔