🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
20. بيان الاختلاف فى أن الذبيح إسماعيل أو إسحاق
اس بات میں اختلاف کا بیان کہ ذبیح سیدنا اسماعیل علیہ السلام تھے یا سیدنا اسحاق علیہ السلام
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4083
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبار، حدثنا يونس بن بكير، عن محمد بن إسحاق، قال: سمعتُ محمد بن كعب القرظي يقول: إِنَّ الذي أمر الله إبراهيم بذبحه من ابنيه: إسماعيل، وإنا لنجد ذلك في كتاب الله في قصة الخبر عن إبراهيم وما أمر به من ذبح ابنه أنه إسماعيل، وذلك أنَّ الله يقول حين فرغ من قصة المذبوح من ابنَي إبراهيم، قال: ﴿وَبَشَّرْنَاهُ بِإِسْحَاقَ نَبِيًّا مِنَ الصَّالِحِينَ﴾ [الصافات: 112] ، ثم يقول: ﴿فَبَشَّرْنَاهَا بِإِسْحَاقَ وَمِنْ وَرَاءِ إِسْحَاقَ يَعْقُوبَ﴾ [هود: 71] ، يقول: بابن وبابن ابن، فلم يكن يأمرُ بذَبْح إسحاق، وله فيه من الله موعود بما وَعَدَه، وما الذي أُمِرَ بذَبْحه إلّا إسماعيل (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4039 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
محمد بن کعب قرظی رحمہ اللہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام کو ان کے دونوں بیٹوں میں سے جسے ذبح کرنے کا حکم دیا تھا وہ اسماعیل علیہ السلام ہیں، اور ہم اسے کتاب اللہ میں ابراہیم علیہ السلام کے واقعے اور انہیں اپنے بیٹے کو ذبح کرنے کے حکم میں پاتے ہیں کہ وہ اسماعیل علیہ السلام ہیں۔ اور اس کی دلیل یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام کے دو بیٹوں میں سے ذبح کیے جانے والے کے واقعے کو مکمل کیا تو فرمایا: ﴿وَبَشَّرْنَاهُ بِإِسْحَاقَ نَبِيًّا مِنَ الصَّالِحِينَ﴾ اور ہم نے اسے اسحاق کی بشارت دی جو کہ صالحین میں سے ایک نبی ہوگا۔ [سورة الصافات: 112] پھر ایک اور جگہ فرماتا ہے: ﴿فَبَشَّرْنَاهَا بِإِسْحَاقَ وَمِنْ وَرَاءِ إِسْحَاقَ يَعْقُوبَ﴾ پس ہم نے اس (ابراہیم کی بیوی) کو اسحاق کی بشارت دی اور اسحاق کے بعد یعقوب کی۔ [سورة هود: 71] یعنی بیٹے اور پھر پوتے کی بشارت۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ اسحاق کو ذبح کرنے کا حکم نہیں دے سکتا تھا حالانکہ اس کا ان کے بارے میں ایک وعدہ تھا جو اس نے ان سے کیا تھا (کہ ان سے آگے یعقوب پیدا ہوں گے)۔ پس جس کو ذبح کرنے کا حکم دیا گیا وہ اسماعیل کے سوا کوئی اور نہیں ہو سکتا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين/حدیث: 4083]
تخریج الحدیث: «رجاله لا بأس بهم.» [ترقيم الرساله 4083] [ترقيم الشركة 4061] [ترقيم العلميه 4039]

الحكم على الحديث: رجاله لا بأ
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4083 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) رجاله لا بأس بهم.
⚖️ درجۂ راوی: اس کے رجال (راویوں) میں کوئی حرج نہیں ہے (یعنی قابلِ قبول ہیں)۔
وأخرجه الطبري في "تفسيره" 23/ 84، وفي "تاريخه" 1/ 269 من طريق سلمة بن الفضل، عن محمد بن إسحاق، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے طبری نے اپنی تفسیر 23/ 84 اور تاریخ 1/ 269 میں سلمہ بن فضل کے طریق سے، انہوں نے محمد بن اسحاق سے، اسی طرح روایت کیا ہے۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 4083 in Urdu