🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
51. كان ملك الموت يأتى الناس عيانا قبل موسى
حضرت موسیٰ علیہ السلام سے پہلے فرشتۂ موت لوگوں کے پاس ظاہر ہو کر آتا تھا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4152
حدثنا علي بن حمشاذ ومحمد بن صالح، قالا: حدثنا الحسين بن الفضل، حدثنا عفّان بن مُسلِم، حدثنا حمّاد بن سَلَمة، أخبرنا عمار بن أبي عمار، قال: سمعتُ أبا هريرةَ يقول: قال رسول الله ﷺ:"إنَّ مَلَكَ الموت كان يأتي الناسَ عِيانًا، فأتى موسى بنَ عِمران، فلَطَمَهُ موسى فَفَقأ عينَه، فعَرَجَ مَلَكُ الموتِ، فقال: يا رب، عبدُك موسى فَعَلَ بي كذا وكذا، ولولا كرامتُه عليك لَشَقَقْتُ عليه، فقال الله: ائتِ عبدي موسى فخَيِّرْه بين أن يَضَعَ يدَه على مَتْنِ ثَور، فله بكل شَعرةٍ وارَتْها كفُّه سنةً، وبين أن يموتَ الآن، فأتاه فخَيَّرَه، فقال موسى: فما بعدَ ذلك؟ قال: الموتُ، قال: فالآنَ إذًا، فشَمَّه شَمَّةً فقبض رُوحَه، وردَّ الله على ملك الموت (2) بَصَرَه، فكان بعد ذلك يأتي الناسَ في خُفْيةٍ" (3) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. ذكر وفاة هارون بن عِمران، فإنه مات قبل موسى ﵉
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4107 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: سیدنا عزرائیل علیہ السلام لوگوں کے پاس ظاہراً آیا کرتے تھے۔ اسی طرح یہ سیدنا موسیٰ بن عمران علیہما السلام کے پاس آ گئے۔ موسیٰ علیہ السلام نے ان کو تھپڑ مارا، جس کی وجہ سے ان کی آنکھ پھوٹ گئی تو ملک الموت علیہ السلام واپس چلے گئے اور عرض کی: اے میرے رب! تیرے بندے موسیٰ علیہ السلام نے میرے ساتھ یہ معاملہ کیا۔ اگر وہ تیری بارگاہ میں معزز نہ ہوتا تو میں اسے مشقت میں ڈال دیتا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میرے بندے کے پاس چلا جا اور اسے اختیار دے دے کہ وہ بیل کی کمر پر ہاتھ رکھیں، جتنے بال ان کے ہاتھ کے نیچے آئیں، ان میں سے ہر بال کے بدلے ان کی عمر میں ایک سال کا اصافہ کر دیا جائے گا یا وہ موت کے لئے تیار ہو جائیں۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا (جو اضافی سال مجھے مل جائیں گے جب) وہ بھی گزر جائیں گے تو پھر کیا ہو گا؟ اس نے کہا: موت۔ آپ نے فرمایا: تو پھر ابھی جان نکال لے۔ ملک الموت علیہ السلام نے آپ کو ایک خوشبو سونگھائی اور ان کی روح قبض کر لی اور اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کی آنکھ لوٹا دی۔ اس کے بعد ملک الموت لوگوں کے پاس خفیہ طریقے سے آنے لگ گئے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين/حدیث: 4152]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4152 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) في (ز) و (ب): ورَدَّ الله عليه، والمثبت من (ص) و (ع) أوضح.
📝 نوٹ / توضیح: نسخہ (ز) اور (ب) میں "ورَدَّ الله عليه" (اللہ نے اسے لوٹا دیا) کے الفاظ ہیں، جبکہ نسخہ (ص) اور (ع) سے جو متن ثابت کیا گیا ہے وہ زیادہ واضح ہے۔
(3) إسناده صحيح. وقد روى هذا الخبر بنحوه عن أبي هريرة أيضًا همّام بن مُنبِّه وطاووس اليماني، ولهذا صحَّحه الإمامُ أحمد فيما نقله عنه أبو يعلى الفراء في "إبطال التأويلات" (410) و (411)، وصحَّحه أيضًا محمد بن يحيى الذُّهلي فيما أسنده عنه أبو إسحاق الثعلبي في "تفسيره" 4/ 46، وكذلك صحَّحه غير واحدٍ ممن جاء بعدهما.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ 🧩 متابعات و شواہد: اسی طرح کی خبر ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ہمام بن منبہ اور طاؤس الیمانی نے بھی روایت کی ہے، اسی وجہ سے امام احمد نے اسے صحیح قرار دیا ہے (جیسا کہ ابو یعلیٰ الفراء نے "ابطال التاویلات" 410 اور 411 میں نقل کیا)، اور محمد بن یحییٰ الذہلی نے بھی اسے صحیح کہا ہے (جیسا کہ ثعلبی نے اپنی "تفسیر" 4/ 46 میں ان سے نقل کیا)، نیز بعد میں آنے والے کئی دیگر محدثین نے بھی اسے صحیح قرار دیا ہے۔
وأخرجه أحمد 16/ (10904) عن أمية بن خالد ويونس بن محمد المؤدِّب، و (10905) عن مؤمَّل بن إسماعيل، ثلاثتهم عن حمّاد بن سلمة، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد 16/ (10904) نے امیہ بن خالد اور یونس بن محمد المؤدب سے، اور (10905) نے مؤمل بن اسماعیل سے روایت کیا ہے، یہ تینوں حماد بن سلمہ سے اسی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں۔
وأخرجه أحمد 13/ (8172)، والبخاري بإثر (3407)، ومسلم (2372) من طريق همّام بن مُنبِّه، عن أبي هريرة. إلّا أنه لم يذكر في روايته ما جاء في رواية عمار هذه من أن ملك الموت كان يأتي إلى الناس عِيانًا، ولا ما جاء في آخره من أنه صار يأتي بعد ذلك في خُفية.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد 13/ (8172)، بخاری (بغیر نمبر کے، 3407 کے بعد)، اور مسلم (2372) نے ہمام بن منبہ کے طریق سے ابو ہریرہ سے روایت کیا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: البتہ ہمام نے اپنی روایت میں ان باتوں کا ذکر نہیں کیا جو عمار کی اس روایت میں ہیں کہ "ملک الموت لوگوں کے پاس اعلانیہ (ظاہری شکل میں) آتے تھے"، اور نہ ہی آخر میں یہ ذکر ہے کہ "اس کے بعد وہ پوشیدہ طور پر آنے لگے۔"
وأخرجه كذلك دون هاتين الزيادتين: أحمدُ 13/ (7646)، والبخاري (3407)، ومسلم (2372) من طريق طاووس بن كيسان اليماني، عن أبي هريرة من قوله، لكن جاء في آخر روايته ما يدلُّ على رفعه، ووقع التصريح برفعه في رواية ابن حبان (6223)، وأبي عبد الله بن مَنْدَهْ في "التوحيد" (613).
📖 حوالہ / مصدر: اسی طرح ان دو زیادتیوں (اضافی باتوں) کے بغیر اسے احمد 13/ (7646)، بخاری (3407) اور مسلم (2372) نے طاؤس بن کیسان الیمانی کے طریق سے ابو ہریرہ کے قول (موقوف) کے طور پر روایت کیا ہے، لیکن ان کی روایت کے آخر میں ایسی بات موجود ہے جو اس کے مرفوع (نبی ﷺ کا فرمان) ہونے پر دلالت کرتی ہے، اور ابن حبان (6223) اور ابن مندہ کی "التوحید" (613) میں اسے صراحتاً مرفوع بیان کیا گیا ہے۔