المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
53. رفع نعش هارون إلى السماء ثم نزوله بدعاء موسى - عليه السلام -
حضرت ہارون علیہ السلام کے جنازے کا آسمان کی طرف اٹھایا جانا، پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دعا سے اس کا واپس آنا
حدیث نمبر: 4154
حدثنا محمد بن إسحاق الصَّفّار العَدْل، حدثنا أحمد بن نَصْر، حدثنا عمرو بن طلحة القَنّاد، حدثنا أسباط بن نَصْر، عن السُّدِّي، في خبر ذَكَره عن أبي مالك، عن ابن عبّاس، وعن مُرَّة الهَمْداني، عن عبد الله بن مسعود، وعن ناسٍ من أصحاب النبي ﷺ: أن الله أوحَى إلى موسى بن عِمران أني مُتَوفٍّ هارون فائتِ به جَبَلَ كذا وكذا، فانطلَقَ موسى وهارون نحو ذلك الجبل، فإذا هم فيه بشجرةٍ لم يُرَ شجرةٌ مثلُها، وإذا هم ببيتٍ مَبنيٍّ، وإذا هم فيه بسَريرٍ عليه فَرْشٌ، وإذا فيه رِيحٌ طَيِّبٌ، فلما نظر هارون إلى ذلك الجبل والبيتِ وما فيه أعجَبَه، قال: يا موسى، إنِّي لأحِبُّ أن أنامَ على هذا السَّرير، قال له موسى: فنَمْ عليه، قال: إني أخافُ أن يأتيَ ربُّ هذا البيتِ فيغضبَ علَيَّ، قال له موسى: لا تَرْهَب، أنا أكفيكَ ربَّ هذا البيت فنَمْ، فقال: يا موسى، بل نَمْ معي، فإن جاء ربُّ هذا البيت غَضِبَ علَيَّ وعليك جميعًا، فلما ناما أَخَذَ هارونَ الموتُ، فلما وَجَدَ حِسَّه، قال: يا موسى، خَدَعْتَني، فلما قُبِضَ رُفِع ذلك البيتُ، وذهبتْ تلك الشَجرةُ، ورُفِعَ السريرُ إلى السماء، فلما رَجَعَ موسى إلى بني إسرائيل وليس معه هارون، قالوا: إنَّ موسى قتل هارون وحَسَده حُبَّ بني إسرائيل له، وكان هارون أكفَّ عنهم وألْينَ لهم من موسى، كان في موسى بعضُ الغِلَظِ عليهم، فلما بلغه ذلك قال لهم: وَيحَكُم إنه كان أخي، أفترَوني أقتُلُه؟ فلما أكثَروا عليه قام فصلَّى ركعتَين، ثم دعا الله فنزَل بالسريرِ، حتى نَظَروا إليه بين السماء والأرض، فصدَّقُوه (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4109 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4109 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما، عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور دیگر کئی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ نے سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی طرف وحی فرمائی کہ میں ہارون علیہ السلام کو وفات دینے والا ہوں، اس لئے اس کو فلاں فلاں پہاڑ پر لے آؤ تو سیدنا موسیٰ علیہ السلام سیدنا ہارون علیہ السلام کو ہمراہ لے کر اس پہاڑ پر چلے گئے۔ وہاں انہوں نے ایک درخت دیکھا جو ایک مکان کی طرح تھا۔ اچانک انہوں نے اپنے آپ کو ایک چارپائی پر موجود پایا جس کے اوپر بستر بچھا ہوا تھا اور اس سے بہت عمدہ خوشبو آ رہی تھی۔ جب سیدنا ہارون علیہ السلام نے وہ پہاڑ اور مکان اور جو کچھ اس میں تھا اس کو دیکھا تو یہ سب ان کو بہت اچھا لگا اور بولے: اے موسیٰ علیہ السلام میرا دل چاہ رہا ہے کہ میں اس چارپائی پر سو جاؤں، سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: سو جائیے۔ سیدنا ہارون علیہ السلام نے کہا: لیکن مجھے یہ خدشہ ہے کہ اگر اس گھر کا مالک آ گیا تو وہ مجھ پر ناراض ہو گا۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: اس کی آپ فکر نہ کریں، اس سے میں خود نمٹ لوں گا۔ آپ سو جائیے۔ وہ بولے! آپ بھی میرے ساتھ لیٹیں تاکہ اگر اس گھر کا مالک آئے تو ہم دونوں پر ناراض ہو۔ جب وہ دونوں سو گئے تو سیدنا ہارون علیہ السلام کی وفات ہو گئی۔ جب انہوں نے اپنی موت کو محسوس کر لیا تو بولے: اے موسیٰ علیہ السلام! تم نے میرے ساتھ دھوکہ کیا ہے۔ جب ان کی روح قبض ہو گئی تو وہ مکان اوپر اٹھا لیا گیا اور وہ درخت بھی چلا گیا اور وہ چارپائی آسمانوں کی طرف اٹھا لی گئی۔ جب سیدنا موسیٰ علیہ السلام واپس بنی اسرائیل کی طرف آئے اور ان کے ہمراہ سیدنا ہارون علیہ السلام نہ تھے تو وہ ولے: بنی اسرائیل کی ہارون علیہ السلام کے ساتھ محبت کی وجہ سے حسد میں آ کر موسیٰ علیہ السلام نے ہارون علیہ السلام کو قتل کر دیا ہے۔ بنی اسرائیل، ہارون علیہ السلام سے بہت الفت رکھتے تھے اور ویسے بھی سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی بہ نسبت آپ نرم مزاج تھے جبکہ موسیٰ علیہ السلام کی طبیعت میں کچھ سختی تھی۔ جب آپ تک یہ بات پہنچی تو آپ نے ان سے فرمایا: وہ تو میرے بھائی تھے، کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ میں نے اپنے بھائی کو قتل کیا ہے؟ جب ان لوگوں کی طرف سے یہ الزام زور پکڑ گیا تو سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے دو رکعت نماز پڑھ کر اللہ تعالیٰ سے دعا مانگی تو اللہ تعالیٰ نے وہ چارپائی اتار دی اور ان لوگوں نے خود اپنی آنکھوں سے زمین اور آسمان کے درمیان دیکھا۔ تب انہوں نے سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی بات کا اعتبار کیا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين/حدیث: 4154]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4154 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده حسن من أجل أسباط بن نَصْر والسُّدِّي: واسمه إسماعيل بن عبد الرحمن بن أبي كريمة. أبو مالك: هو غَزوان الغفاري، ومُرَّة الهَمْداني: هو ابن شَراحيل.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند حسن ہے، اسباط بن نصر اور سدی کی وجہ سے۔ (راویوں کا تعارف): سدی کا نام اسماعیل بن عبد الرحمن بن ابی کریمہ ہے، ابو مالک سے مراد غزوان الغفاری ہیں، اور مرہ الہمذانی سے مراد ابن شراحیل ہیں۔
وأخرجه الطبري في "تاريخه" 1/ 432 عن موسى بن هارون، عن عمرو بن حماد بن طلحة القَنّاد بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے طبری نے "تاریخ" 1/ 432 میں موسیٰ بن ہارون سے، انہوں نے عمرو بن حماد بن طلحہ القناد سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔