المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
81. ذكر حرف الأنبياء - عليهم السلام -
انبیاء علیہم السلام کے پیشوں کا ذکر
حدیث نمبر: 4210
حدَّثَناه الحسن بن محمد الإسفراييني، حدثنا محمد بن أحمد بن البَرَاء، حدثنا عبد المنعم بن إدريس، عن أبيه، عن وهب بن مُنبِّه، عن عبد الله بن عبّاس: أنه قال لرجلٍ جالسٍ عندَه وهو يُحدَّث أصحابه: ادْنُ منّي، فقال له الرجلُ: أبقاك اللهُ، والله ما أُحسِنُ أن أسألك كما سأل هؤلاء، فقال: ادْنُ منّي فأُحدّثَك عن الأنبياء المذكورين في كتاب الله، أُحدِّثُك عن آدمَ أنه كان عبدًا حَرّاثًا، وأحدِّثُك عن نوح أنه كان عبدًا نجّارًا، وأحدِّثُك عن إدريس أنه كان عبدًا خَيّاطًا، وأحدِّثُك عن داود أنه كان عبدًا زَرّادًا، وأحدّثُك عن موسى أنه كان عبدًا راعِيًا، وأحدِّثُك عن إبراهيم أنه كان عبدًا زَرّاعًا، عظيمَ الضِّيافة، يُؤثِرُ المساكين على نفسه، ويَجبُرهم في ماله، وأحدِّثُك عن شعيب أنه كان عبدًا راعِيًا، وأحدِّثُك عن لوط أنه كان عبدًا زَرّاعًا، وأحدِّثُك عن صالح أنه كان عبدًا، تاجِرًا، وأحدِّثُك عن سليمان أنه كان عبدًا آتاه الله المُلكَ وكان يَصومُ في أول الشهر ستةَ أيام، وفي وسطِه ثلاثةَ أيام، وفي آخره ثلاثةَ أيام، وكانت له تسعُ مئة سُرِّيّة، وثلاثُ مئة مَهْرِيّة (1) ، وأحدِّثُك عن ابن العَذْراء البَتُول عيسى ابن مريم أنه كان لا يَخبَأُ شيئًا لِغَدٍ، ويقول: الذي غَدَّاني سوف يُعشِّيني، والذي عَشَّاني سوف يُغدِّيني، يَعبُدُ الله ليلتَه كلَّها، يُصلِّي حتى تَطلُعَ الشمسُ، وهو بالنهار سائِحٌ، ويصوم الدهرَ كلَّه، ويقوم الليلَ كلَّه. وأحدِّثُك عن النبي المصطفى ﷺ أنه كان يَرعى غنمَ أهل بيتِه بأجيادٍ، وكان يصومُ فنقول: لا يُفطِر، ويُفطِر، فنقول: لا يصومُ، قَلَّما (2) رأيناهُ صائمًا، ويصومُ من كل شهر ثلاثةَ أيام، وكان ألْينَ الناس جانبًا، وأطيَبَهم خَبَرًا، وأطولَهم علمًا، وأُخبِرُك عن حَوّاء أنها كانت تَغزِلُ الشعرَ فتحوّلُه بيدِها، فتَكسُو نفسَها وولدَها، وأنَّ مريم بنت عِمران كانت تَصنعُ ذلك (3) . قال الحاكم: فأما الحديثُ المُسنَد العالي الذي يَدلُّ على الجُملة مُفسّرًا فهو الذي:
سیدنا وہب بن منبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس ایک آدمی بیٹھا ہوا تھا، وہ اپنے ساتھیوں سے محو گفتگو تھا۔ آپ نے اس سے کہا: میرے قریب آ جائیے۔ اس آدمی نے کہا: خدا کی قسم! جس طرح دوسرے لوگ سوالات کر رہے ہیں، اسی طرح میرا آپ سے سوال کرنا کتنا ہی اچھا ہے۔ آپ نے فرمایا: میرے قریب آ جائیے! میں تمہیں ان انبیاء کرام علیہم السلام کے بارے میں بتاتا ہوں جن کا تذکرہ قرآن کریم میں موجود ہے۔ سیدنا آدم علیہ السلام کھیتی باڑی کیا کرتے تھے۔ سیدنا نوح علیہ السلام بڑھئی تھے۔ سیدنا ادریس علیہ السلام درزی تھے۔ سیدنا داؤد علیہ السلام زرہیں بنایا کرتے تھے۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام بکریاں چرایا کرتے تھے۔ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کھیتی باڑی کیا کرتے تھے۔ سیدنا صالح علیہ السلام تاجر تھے۔ سیدنا سلیمان علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے شاندار حکومت عطا کی تھی۔ آپ ہر مہینے کے پہلے 6 دن، درمیان میں 3 دن اور آخر میں 3 دن روزہ رکھا کرتے تھے، آپ کے 700 فوجی دستوں کی تعداد ایک ہزار ہے۔ اور میں تجھے یہ بھی بتاتا ہوں کہ کنواری مریم علیہا السلام کے بیٹے، سیدنا عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام اگلے دن کے لئے کبھی کچھ بچا کر نہیں رکھتے تھے اور فرمایا کرتے تھے، جس ذات نے مجھے ناشتہ دیا ہے، وہ شام کا کھانا بھی دے گی اور جس ذات نے مجھے شام کا کھانا دیا ہے، وہ ناشتہ بھی دے گی۔ آپ پوری پوری رات نماز میں گزار دیا کرتے تھے، یہاں تک کہ سورج طلوع ہو جاتا۔ آپ دن میں سیاحت کرتے تھے، آپ کا تمام دن روزے سے گزرتا اور تمام رات قیام میں گزرتی اور میں تجھے محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں بتاتا ہوں۔ آپ اپنے گھر والوں کی بکریاں چرایا کرتے تھے اور آپ روزے رکھتے رہتے حتیٰ کہ ہم یہ سمجھتے کہ اب آپ کبھی روزہ کا ناغہ نہیں کریں گے اور جب آپ ناغہ کرتے تو اتنے کرتے کہ ہم سمجھتے کہ اب آپ روزہ نہیں رکھا کریں گے۔ بہرحال ہم نے آپ کو اکثر روزے سے دیکھا۔ آپ ہر مہینے میں تین روزے رکھا کرتے تھے۔ آپ سب سے زیادہ نرم مزاج، اچھی خبر دینے والے اور سب سے زیادہ علم رکھنے والے اور میں تجھے سیدنا حواء کے بارے میں بتاتا ہوں، آپ چرخہ کاتا کرتی تھیں۔ آپ روئی کات کر اپنے ہاتھ سے اس کو بن کر پہنتی تھیں اور اپنے بچوں کو بھی پہناتی تھیں اور سیدنا مریم بنت عمران بھی یہی کام کیا کرتی تھیں۔ امام حاکم رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں: وہ حدیث جو سند عالی کے ہمراہ مروی ہے جس میں انبیاء و مرسلین علیہم السلام کی تعداد کی وضاحت موجود ہے درج ذیل ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين/حدیث: 4210]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4210 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) والمراد بالمهرية: ذات المَهر، أي التي دُفع لها مهر من الحرائر.
📝 نوٹ / توضیح: "مھریہ" سے مراد مہر والی عورت ہے، یعنی وہ آزاد خواتین جنہیں (نکاح کے وقت) مہر ادا کیا گیا ہو۔
(2) تحرَّف في (ز) و (ب) إلى: وكلها ما، وفي (ص) و (ع) إلى: كلما.
🔍 فنی نکتہ / علّت: نسخہ (ز) اور (ب) میں یہ عبارت تحریف ہو کر "وکلھا ما" ہو گئی ہے، جبکہ نسخہ (ص) اور (ع) میں "کلما" لکھی گئی ہے۔
(3) إسناده واهٍ كسابقه.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند سابقہ سند کی طرح واہی (انتہائی کمزور) ہے۔
(3) إسناده واهٍ كسابقه. وقد صحَّ عن ابن عبّاس في ذكر صيام النبي ﷺ أنه ﷺ كان يصوم حتى نقول: لا يَفطر، ويُفطر حتى نقول: لا يصوم. أخرجه أحمد 3/ (1998)، والبخاري (1971)، ومسلم (1157)، وأبو داود (2430)، وابن ماجه (1711)، والنسائي (2667) من طريق سعيد بن جُبَير، عن ابن عبّاس.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند سابقہ سند کی طرح واہی ہے۔ 📌 اہم نکتہ: نبی ﷺ کے روزوں کے متعلق حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے صحیح طور پر مروی ہے کہ آپ ﷺ (کبھی) اس طرح روزے رکھتے کہ ہم کہتے اب آپ افطار نہیں کریں گے، اور (کبھی) اس طرح افطار فرماتے (روزہ نہ رکھتے) کہ ہم کہتے اب آپ روزہ نہیں رکھیں گے۔ 📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد 3/ (1998)، بخاری (1971)، مسلم (1157)، ابو داود (2430)، ابن ماجہ (1711) اور نسائی (2667) نے سعید بن جبیر کے طریق سے حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے۔
وصحَّ مثله عن عائشة عند أحمد 40/ (24116)، والبخاري (1969)، ومسلم (1156).
🧩 متابعات و شواہد: اسی طرح کی روایت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے بھی صحیح سند کے ساتھ احمد 40/ (24116)، بخاری (1969) اور مسلم (1156) کے ہاں موجود ہے۔
وصحَّ في صومه ﷺ ثلاثةَ أيام من كل شهر حديثُ عبد الله بن مسعود عند أحمد 6/ (3860)، وأبي داود (2450)، والترمذي (742)، والنسائي (2689) و (2771)، وابن حبان (3641).
📌 اہم نکتہ: نبی ﷺ کے ہر مہینے میں تین دن کے روزے رکھنے کے بارے میں حضرت عبد اللہ بن مسعود کی حدیث صحیح ہے۔ 📖 حوالہ / مصدر: احمد 6/ (3860)، ابو داود (2450)، ترمذی (742)، نسائی (2689، 2771) اور ابن حبان (3641)۔
وحديثُ عائشة عند مسلم (1160)، وأبي داود (2453)، وابن ماجه (1709)، والترمذي (763)، وابن حبان (3654).
🧩 متابعات و شواہد: اسی طرح (تین دن کے روزوں کے متعلق) حضرت عائشہ کی حدیث مسلم (1160)، ابو داود (2453)، ابن ماجہ (1709)، ترمذی (763) اور ابن حبان (3654) میں موجود ہے۔