المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
85. ذكر خالد بن سنان
حضرت خالد بن سنان کا ذکر
حدیث نمبر: 4218
أخبرنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه وجعفر بن محمد الخُلْدي، قالا: حدثنا عليُّ بن عبد العزيز، حدثنا مُعلَّى بن مَهِدي، حدثنا أبو عَوانة، عن أبي يُونس، عن عِكْرمة، عن ابن عبّاس: أنَّ رجلًا من بني عَبْس، يقال: له خالد بن سنان، قال لقومه: إني أُطفئ عنكم نار الحَدَثان، قال: فقال له عُمارة بن زياد - رجلٌ من قومه -: والله ما قلتَ لنا يا خالدُ قطُّ إلَّا حقًّا، فما شأنُك وشأنُ نارِ الحَدَثان تزعُم أنك تُطفئُها؟ قال: فانطَلَق وانطَلَق معه عُمارة بن زياد في ثلاثين من قومه حتى أتَوها وهي تخرُج من شَقِّ جَبَل من حَرَّة يُقال: لها حَرَّةُ أشجَعَ، فخطَّ لهم خالدٌ خِطَّةً فأجلَسَهم فيها، فقال: إن أبطأتُ عليكم فلا تَدْعُوني باسمي، فخرجَتْ كأنها خَيلٌ شُفْرٌ يَتبَعُ بعضُها بعضًا، قال: فاستقبلَها خالدٌ فضربَها بعصاهُ وهو يقولُ: بدا بدا، بدا كلُّ هُدى، زعم ابن راعِية المِعْزَى أني لا أَخرُجُ منها وثيابي تَنْدى، حتى دخل معها الشَّقّ، قال: فأبطأَ عليهم، قال: فقال عمارة بن زياد: والله لو كان صاحبُكم حَيًّا لقد خرج إليكم بعدُ، قال: فقالوا: إنه قد نهانا أن نَدَعُوَه باسمِه، قال: فدَعَوْه باسمه، قال: فخرج إليهم، وقد أَخذ برأسِه، فقال: ألم أنْهَكُم أن تَدْعُوني باسمي، قد والله قَتَلتُموني فادفِنوني، فإذا مَرَّتْ بكم الحُمُر فيها حِمارٌ أبتَرُ فانبِشُوني، فإنكم ستجدوني حَيًّا، قال: فدفنُوه، فمَرّت بهم الحُمُر فيها حمارٌ أبتَرُ، فقلنا: انبُشُوه، فإنه أمَرَنا أن نَنبُشَه، قال عُمارة بن زياد: لا تُحدِّثُ مُضَرُ أنا ننبُشُ، موتانا، والله لا نَنبُشُه أبدًا، قال: وقد كان أخبَرَهم أن في عُكَن امرأتِه لَوحَين، فإذا أشكَلَ عليكم أمرٌ فانظروا فيهما، فإنكم سَتَرون ما تسألون عنه، وقال: لا يَمسُّهما حائضٌ، قال: فلما رجعُوا إلى امرأتِه سألُوها عنهما، فأخرَجَتْهما وهي حائض، قال: فذُهِب بما كان فيهما من عِلْمٍ. قال: وقال أبو يونس: قال سماك بن حَرْب: سُئل عنه النبيُّ ﷺ، فقال:"ذاك نبيٌّ أضاعَه قَومُه". وقال أبو يونس: قال سِماك بن حَرْب: إنَّ ابن خالد بن سِنانٍ أتى النبيَّ ﷺ، فقال:"مرحبًا بابنِ أخي" (1) قال الحاكم:
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، فإنَّ أبا يونس هذا الذي روى عن عِكْرمة هو حاتم بن أبي صَغِيرةَ، وقد احتجّا جميعًا به، واحتجَّ البخاري بجميع ما يَصِحُّ عن عِكْرمة. فأما موتُ خالد بن سِنانٍ هكذا فمُختلَفٌ فيه، فإني سمعتُ أبا الأصبغ عبد الملك بن نصر وأبا عثمان سعيد بن نصر وأبا عبد الله بن صالح المَعافِري الأندَلُسِيِّين - وجماعتُهم عندي ثِقاتٌ - يذكُرون أن بينهم وبين القَيروان بحرٌ في وسطها جبلٌ عظيمٌ لا يَصعَدُه أحدٌ، وإن طريقَها في البحر على الجبل، وإنهم رأوا في أعلى الجبل في غار هناك رجلًا عليه صُوفٌ أبيض مُحتَبِيًا في صوفٍ أبيضَ، ورأسُه على يديه، كأنه نائمٌ لم يَتغيَّر منه شيءٌ، وإنَّ جماعة أهل الناحية يَشهدُون أنه خالد بن سِنانٍ، والله أعلم (1) . ﷽ ذكر أخبار سيّد المرسلين وخاتَم النبييّن محمدِ بن عبدِ الله بن عبدِ المُطّلِب المُصطَفى، صلواتُ الله عليه وعلى آله الطاهرين، من وقت ولادتِه إلى وقت وفاتِه، ما يصحُّ منها على ما رَسَمْنا في الكتاب، لا على ما أجرَينا عليه أخبارَ الأنبياء قبلَه، إذ لم نجدِ السبيلَ إليها إلَّا على الشرط في أول الكتاب
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، فإنَّ أبا يونس هذا الذي روى عن عِكْرمة هو حاتم بن أبي صَغِيرةَ، وقد احتجّا جميعًا به، واحتجَّ البخاري بجميع ما يَصِحُّ عن عِكْرمة. فأما موتُ خالد بن سِنانٍ هكذا فمُختلَفٌ فيه، فإني سمعتُ أبا الأصبغ عبد الملك بن نصر وأبا عثمان سعيد بن نصر وأبا عبد الله بن صالح المَعافِري الأندَلُسِيِّين - وجماعتُهم عندي ثِقاتٌ - يذكُرون أن بينهم وبين القَيروان بحرٌ في وسطها جبلٌ عظيمٌ لا يَصعَدُه أحدٌ، وإن طريقَها في البحر على الجبل، وإنهم رأوا في أعلى الجبل في غار هناك رجلًا عليه صُوفٌ أبيض مُحتَبِيًا في صوفٍ أبيضَ، ورأسُه على يديه، كأنه نائمٌ لم يَتغيَّر منه شيءٌ، وإنَّ جماعة أهل الناحية يَشهدُون أنه خالد بن سِنانٍ، والله أعلم (1) . ﷽ ذكر أخبار سيّد المرسلين وخاتَم النبييّن محمدِ بن عبدِ الله بن عبدِ المُطّلِب المُصطَفى، صلواتُ الله عليه وعلى آله الطاهرين، من وقت ولادتِه إلى وقت وفاتِه، ما يصحُّ منها على ما رَسَمْنا في الكتاب، لا على ما أجرَينا عليه أخبارَ الأنبياء قبلَه، إذ لم نجدِ السبيلَ إليها إلَّا على الشرط في أول الكتاب
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ بنی عبس کا ایک آدمی جس کو خالد بن سنان کہتے ہیں، اس نے اپنی قوم سے کہا: میں تمہارے لئے ” حدثان “ کی آگ بجھا سکتا ہوں تو اس کی قوم میں سے ایک عمارہ بن زیاد نامی شخص بولا: اے خالد! خدا کی قسم! تو نے ہم سے کبھی جھوٹ بات نہیں کہی لیکن کہاں تو اور کہاں ” حدثان “ کی آگ۔ اور تو یہ سمجھ رہا ہے کہ تو اس کو بجھا دے گا (راوی) کہتے ہیں۔ خالد چل دئیے اور عمارہ بھی اس کے ہمراہ چل پڑا، انہوں نے اپنی قوم کے تیس آدمی اپنے ہمراہ لئے اور اس کے پاس آ پہنچے۔ خالد نے کہا: اگر مجھے تمہارے پاس آنے میں تاخیر ہو جائے تو مجھے میرا نام لے کر آواز مت دینا۔ پھر وہ آگ نکلی گویا کہ سرخ و زرد گھوڑوں کی ایک جماعت ہے، جو ایک دوسرے کے پیچھے چلے آ رہے ہیں۔ خالد اس کے سامنے آ گیا اور اس کو اپنا عصا مارا اور وہ کہہ رہے تھے ظاہر ہو گئی، ظاہر ہو گئی، ظاہر ہو گئی ہر طرح کی ہدایت۔ چرواہے کا بچہ سمجھتا ہے کہ میں وہاں سے نکل نہیں سکوں گا حالانکہ اس کے دانت تو میرے ہاتھ میں ہیں۔ حتیٰ کہ وہ اس کے ہمراہ غار میں داخل ہو گئے اور کافی دیر تک وہ باہر نہ نکلے۔ عمارہ بن زیادہ کہنے لگا: خدا کی قسم! اگر تمہارا ساتھی زندہ ہوتا تو ابھی تک باہر نکل آتا۔ کچھ لوگوں نے کہا: اس کو نام لے کر آواز دو لیکن کچھ لوگوں نے کہا: انہوں نے نام لے کر آواز دینے سے منع کیا ہے لیکن انہوں نے ان کو نام لے کر آواز دی تو وہ ان کی طرف نکل آئے، اس وقت وہ اپنے سر کو پکڑے ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا: کیا میں نے تمہیں نام لے کر آواز دینے سے روکا نہیں تھا۔ خدا کی قسم! تم لوگوں نے مجھے مروا دیا ہے۔ اب تم مجھے دفن کر دو اور جب تمہارے پاس سے گدھے گزریں اور ان میں ایک دم کٹا گدھا ہو گا تو اس وقت تم مجھے قبر کھود کر نکال لینا کیونکہ اس وقت تم مجھے زندہ پاؤ گے (راوی) کہتے ہیں: ان لوگوں نے خالد بن سنان کو دفن کر دیا۔ پھر وہاں سے گدھے گزرے تو ان میں ایک گدھا دم کٹا تھا۔ ہم نے کہا: اب ان کی قبر کھودو کیونکہ اس نے کہا تھا کہ مجھے قبر کھود کر نکال لینا۔ عمارہ بن زیاد نے کہا: نہیں۔ مضر کہیں گے: ہم اپنے مردوں کو اکھاڑتے ہیں۔ خدا کی قسم! ہم اس کو ہرگز نہیں اکھاڑیں گے۔ خالد بن سنان لوگوں کو بتایا کرتے تھے کہ ان کی بیوی کے پاس دو تختیاں ہیں، اگر تمہیں کبھی کوئی مشکل پیش آ جائے تو ان کو دیکھنا اس میں تمہارے ہر مسئلہ کا حل موجود ہو گا (البتہ ایک احتیاط ضرور کرنا کہ) حیض والی عورت اس کو ہاتھ نہ لگائے۔ جب وہ لوگ ان کی بیوی کے پاس گئے اور اس سے ان تختیوں کے بارے میں دریافت کیا تو اس نے وہ تختیاں نکال کر ان کو دے دیں، اس وقت وہ خود حیض سے تھیں تو اس میں جو کچھ بھی علم تھا وہ سب ختم ہو گیا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ امام حاکم رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں: کیونکہ یہ ابویونس وہی ہیں جو عکرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کرتے ہیں۔ وہ حاتم بن ابی صغیرہ رضی اللہ عنہ ہیں۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے ان کی روایات نقل کی ہیں اور امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے عکرمہ رضی اللہ عنہ سے مروی تمام صحیح احادیث نقل کی ہیں اور خالد بن سنان کی اس طرح موت کے متعلق اختلاف ہے کیونکہ میں نے ابوالاصبغ عبدالملک بن نصر، ابوعثمان سعید بن نصر اور ابوعبداللہ بن صالح المعاضری اندلسین سے سنا ہے اور یہ جماعت میرے نزدیک ثقہ ہے۔ یہ کہتے ہیں: ان کے اور قیروان کے درمیان ایک دریا ہے اور اس کے درمیان ایک بہت بڑا پہاڑ ہے، اس کے اوپر کوئی نہیں چڑھ سکتا اور اس کا راستہ دریا میں ہے، جس سے پہاڑ کے اوپر جا سکتے ہیں اور یہ کہ انہوں نے پہاڑ کی چوٹی پر ایک غار دیکھا وہاں پر ایک آدمی تھا، جس کے اوپر سفید اون تھی اور وہ سفید اون میں لپٹا ہوا تھا۔ اس کا سر اس کے ہاتھ پر تھا جیسا کہ سویا ہوا ہو، اس کی کوئی چیز تبدیل نہیں ہوئی اور اس علاقے کے لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ خالد بن سنان ہیں۔ (واللہ تعالیٰ اعلم) [المستدرك على الصحيحين/كتاب : تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين/حدیث: 4218]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4218 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده ضعيف ومتنه منكر، أبو يونس قال عنه الإمام أحمد: لا أعرفه. قلنا: وعلى فرض صحة كونه حاتم بن أبي صَغِيرة، كما جزم به المصنِّف ومن قبله الطبراني، فإنه لم يسمع من عكرمة شيئًا كما جزم به ابن مَعِين. وقد أخرج الطبراني في "الكبير" (11793) هذا الخبر عن علي بن عبد العزيز وخلف بن عمرو العُكبَري، عن معلّى بن مهدي، فزاد في إسناده بين أبي يونس وبين عكرمة رجلًا هو سماك بن حرب.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند ضعیف اور متن منکر ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: راوی ابو یونس کے بارے میں امام احمد بن حنبل نے فرمایا: "میں اسے نہیں جانتا"۔ ہم کہتے ہیں: اگر بالفرض یہ تسلیم کر لیا جائے کہ یہ حاتم بن ابی صغیرہ ہیں (جیسا کہ مصنف حاکم اور ان سے پہلے امام طبرانی نے جزم کے ساتھ کہا ہے)، تب بھی امام یحییٰ بن معین کے جزم کے مطابق انہوں نے عکرمہ سے کچھ نہیں سنا۔ 📖 حوالہ / مصدر: امام طبرانی نے "المعجم الکبیر" (11793) میں اس خبر کو علی بن عبد العزیز اور خلف بن عمرو العکبری سے، انہوں نے معلیٰ بن مہدی سے روایت کیا ہے، جس میں انہوں نے سند میں ابو یونس اور عکرمہ کے درمیان ایک راوی "سماک بن حرب" کا اضافہ کیا ہے۔
وقد أخرجه أبو يعلى الموصلي كما في "البداية والنهاية" لابن كثير 3/ 249، وعلي بن الحسين بن الجُنيد عند أبي سعيد النقاش في "فنون العجائب" (27)، كلاهما يرويه عن معلَّى بن مهدي دون ذكر سماك فيه، وكذلك رواه سليمان بن أيوب بن سليمان صاحب البصري عن أبي عوانة عند عمر بن شبة في "تاريخ المدينة" 2/ 421، فلم يذكر في إسناده سماكًا.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابو یعلیٰ موصلی نے (جیسا کہ ابن کثیر کی "البدایہ والنہایہ" 3/ 249 میں ہے) اور علی بن حسین بن الجنید نے ابو سعید نقاش کی "فنون العجائب" (27) میں معلیٰ بن مہدی سے روایت کیا ہے اور ان دونوں نے سماک کا ذکر نہیں کیا۔ اسی طرح اسے سلیمان بن ایوب بن سلیمان (صاحبِ بصری) نے ابو عوانہ سے، عمر بن شبہ کی "تاریخ المدینہ" 2/ 421 میں روایت کیا ہے اور انہوں نے بھی سند میں سماک کا ذکر نہیں کیا۔
وعلى فرض ثبوت ذكر سماك في الإسناد، فإنَّ في رواية سماك عن عكرمة اضطرابًا كما نبه عليه غير واحد من أهل العلم، على أن هذا الخبر موقوف على ابن عبّاس، وهو منكرٌ من جهة مخالفته لحديث أبي هريرة المتفق عليه عند البخاري (3443)، ومسلم (2365) قال: سمعت رسول الله ﷺ يقول: "أنا أَولى الناس بابن مريم، والأنبياء أولاد عَلّات، وليس بيني وبينه نبيٌّ"، كما أفاده ابن كثير، والحافظ العراقي في "ذيل ميزان الاعتدال" في ترجمة أبي يونس المذكور، وغيرهما.
🔍 فنی نکتہ / علّت: اگر سند میں سماک کا ذکر ثابت مان بھی لیا جائے، تب بھی سماک کی عکرمہ سے روایت میں "اضطراب" (الجھاؤ) پایا جاتا ہے جیسا کہ کئی اہل علم نے تنبیہ کی ہے۔ 📌 اہم نکتہ: علاوہ ازیں یہ خبر ابن عباس پر موقوف ہے اور حضرت ابو ہریرہ کی متفق علیہ حدیث (بخاری 3443، مسلم 2365) کے خلاف ہونے کی وجہ سے "منکر" ہے جس میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "میں لوگوں میں عیسیٰ بن مریم کا سب سے زیادہ حقدار ہوں، انبیاء علاتی بھائی ہیں اور میرے اور ان کے درمیان کوئی نبی نہیں"۔ یہی بات ابن کثیر اور حافظ عراقی نے "ذیل میزان الاعتدال" میں ابو یونس کے ترجمے میں لکھی ہے۔
وقد ضعَّف هذا الخبر الحافظان الهيثمي في "المجمع" 8/ 214، وابن حجر في "الإصابة" 2/ 373 بمعلَّى بن مهدي، وأنَّ أبا حاتم ضعَّفه، ولا يُسلّم لهما تضعيفه بذلك، لمتابعة سليمان بن أيوب صاحب البصري له على روايته كما تقدم، وإنما ضعفُه من جهة نكارته وجهالة أبي يونس في إسناده، والله تعالى أعلم.
⚖️ درجۂ حدیث: حافظ ہیثمی نے "مجمع الزوائد" 8/ 214 میں اور حافظ ابن حجر نے "الاصابہ" 2/ 373 میں معلیٰ بن مہدی کی وجہ سے اس خبر کو ضعیف کہا ہے کیونکہ ابو حاتم نے انہیں ضعیف قرار دیا تھا۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: تاہم ان دونوں (ہیثمی و ابن حجر) کی اس بات سے اتفاق نہیں کیا جا سکتا کیونکہ سلیمان بن ایوب نے معلیٰ کی متابعت کی ہے، بلکہ اس کا اصل ضعف اس کے متن کی نکارت اور سند میں ابو یونس کی جہالت (نامعلوم ہونا) کی وجہ سے ہے، واللہ اعلم۔
ولقوله: "ذاك نبيٌّ ضيَّعه قومُه"، وقوله: "مرحبًا بابن أخي" طرق أخرى:
🧾 تفصیلِ روایت: ان الفاظ کہ "وہ ایک ایسے نبی تھے جنہیں ان کی قوم نے ضائع کر دیا" اور "خوش آمدید اے میرے بھائی کے بیٹے" کے دیگر طرق بھی موجود ہیں:
فقد أخرجه البزار (5091)، والطبراني في "الكبير" (12250)، وابن عدي في "الكامل" 6/ 46، وأبو نُعيم في "تاريخ أصبهان" 2/ 178 من طريق قيس بن الربيع، عن سالم بن عجلان الأفطس، عن سعيد بن جُبَير، عن ابن عبّاس. وهذا مع ما فيه من نكارته لمخالفته لحديث أبي هريرة الذي تقدم ذكره، فيه قيس بن الربيع وليس بذاك القوي، وخالفه الحافظُ الثقةُ سفيان الثوري عند ابن أبي شَيْبة 12/ 200، وعمر بن شبة في "تاريخ المدينة" 2/ 421، فرواه عن سالم الأفطس عن سعيد بن جُبَير مرسلًا، فهو المحفوظ.
📖 حوالہ / مصدر: اسے بزار (5091)، طبرانی (12250)، ابن عدی (6/ 46) اور ابو نعیم نے "تاریخ اصبہان" 2/ 178 میں قیس بن الربیع کے طریق سے، سالم بن عجلان الافطس سے، انہوں نے سعید بن جبیر سے اور انہوں نے ابن عباس سے روایت کیا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: یہ روایت متن کی نکارت کے ساتھ ساتھ قیس بن الربیع کی وجہ سے بھی کمزور ہے جو زیادہ قوی نہیں ہیں۔ نیز ثقہ حافظ سفیان ثوری نے ان کی مخالفت کی ہے (ابن ابی شیبہ 12/ 200) اور انہوں نے اسے سعید بن جبیر سے "مرسل" روایت کیا ہے، لہٰذا یہی (مرسل ہونا ہی) "محفوظ" ہے۔
وأخرجه عمر بن شبة 2/ 423 من طريق هشام بن محمد بن السائب الكلبي، وأبو طاهر في "المخلصيات" (815) من طريق الفضل بن موسى السِّيناني، كلاهما عن محمد بن السائب الكلبي، عن أبي صالح باذام، عن ابن عبّاس. زاد السيناني في روايته عن عائشة. وهشام الكلبي وأبوه متروكان، وأبو صالح باذام ضعيف. وفيمن دون الفضل السيناني مجهولٌ. وأخرجه عمر بن شبة 2/ 420 عن يوسف بن عطية الصَّفّار، عن ثابت، عن أنس، مرفوعًا. ويوسف هذا متروك الحديث.
📖 حوالہ / مصدر: اسے عمر بن شبہ (2/ 423) نے ہشام بن محمد بن السائب الکلبی کے طریق سے، اور ابو طاہر نے "المخلصیات" (815) میں فضل بن موسیٰ سینانی سے، دونوں نے محمد بن السائب الکلبی سے، انہوں نے ابو صالح باذام سے اور انہوں نے ابن عباس سے روایت کیا (سینانی نے حضرت عائشہ کا اضافہ بھی کیا ہے)۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: ہشام الکلبی اور ان کے والد دونوں "متروک" ہیں، ابو صالح باذام ضعیف ہیں، اور فضل سینانی سے نچلے راویوں میں ایک مجہول ہے۔ نیز یوسف بن عطیہ الصفار کے طریق سے مروی انس کی مرفوع روایت (عمر بن شبہ 2/ 420) کا راوی یوسف بھی "متروک الحدیث" ہے۔
وأخرجه ابن سعد في "الطبقات" 1/ 256 عن محمد بن عمر الواقدي، عن علي بن مسلم الليثي، عن المقبري، عن أبي هريرة، مرفوعًا، وانفرد به الواقدي، وليس بحجة فيما ينفرد به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن سعد نے "الطبقات" 1/ 256 میں محمد بن عمر الواقدی سے، انہوں نے علی بن مسلم لیثی سے، انہوں نے مقبری سے اور انہوں نے ابو ہریرہ سے مرفوعاً روایت کیا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: واقدی اس کے بیان میں منفرد ہیں اور ان کا تفرد (اکیلا ہونا) حجت نہیں ہوتا۔
وقد رُوي في نبوته أخبار أخرى مقطوعة ومرسلة بأسانيد لا تقوم بها الحجة، انظر غالبها في "تاريخ المدينة" لعمر بن شَبَّة 2/ 424 - 433.
📝 نوٹ / توضیح: ان (خالد بن سنان) کی نبوت کے بارے میں دیگر مقطوع اور مرسل خبریں ایسی سندوں سے مروی ہیں جن سے حجت قائم نہیں ہوتی۔ ان کی اکثریت عمر بن شبہ کی "تاریخ المدینہ" 2/ 424-433 میں دیکھی جا سکتی ہے۔
(1) قال الحافظ ابن حجر في "الإصابة" 2/ 373: شهادة أهل تلك الناحية بذلك مردودة، فأين بلاد عبس من جبال المغرب؟!
📌 اہم نکتہ: حافظ ابن حجر نے "الاصابہ" 2/ 373 میں فرمایا: "اس علاقے کے لوگوں کی اس بارے میں گواہی مردود (ناقابلِ قبول) ہے، کیونکہ بنو عبس کے علاقے کہاں اور مغرب کے پہاڑ کہاں!" (یعنی جغرافیائی طور پر یہ ممکن نہیں)۔