🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2. ذكر خلق رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم
رسول اللہ ﷺ کے اخلاقِ کریمانہ کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4268
أخبرني أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا يحيى بن سعيد، عن سعيد بن أبي عَرُوبة، عن قَتَادة، عن زُرَارة بن أوفَى، عن سعدِ بن هِشام: أنه دخل مع حكيم بن أفْلَحَ على عائشةَ، فسألَها فقال: يا أم المؤمنين، أنبِئيني عن خُلُقِ رسولِ الله ﷺ، قالت: أليس تَقرأُ القرآنَ؟ قال: بلى، قالت: فإِنَّ خُلُقَ نبيِّ الله ﷺ القُرآن (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4222 - على شرط البخاري ومسلم
سعید بن ہشام سے روایت ہے کہ وہ حکیم بن افلح کے ہمراہ ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور ان سے عرض کی: اے ام المومنین رضی اللہ عنہا! ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کے متعلق کچھ بتائیے! آپ نے فرمایا: کیا تم قرآن نہیں پڑھتے ہو؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں۔ آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے نبی کا اخلاق قرآن ہی تو ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : آيات رسول الله صلى الله عليه وسلم التي في دلائل النبوة/حدیث: 4268]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4268 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح. يحيى بن سعيد: هو القطان. وهو في "مسند أحمد" 40/ (24269).
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: یحییٰ بن سعید سے مراد "القطان" ہیں۔ 📖 حوالہ / مصدر: یہ روایت "مسند احمد" 40/ (24269) میں موجود ہے۔
وأخرجه أبو داود (1343) عن محمد بن بشّار، عن يحيى بن سعيد القطان، بهذا الإسناد. لكنه لم يسُق لفظه بتمامه.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابوداؤد (1343) نے محمد بن بشار سے، انہوں نے یحییٰ بن سعید القطان سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے، لیکن انہوں نے مکمل الفاظ نقل نہیں کیے۔
وأخرجه مسلم (746)، والنسائي (424) طرق عن سعيد بن أبي عَروبة به. واستدراك الحاكم له ذهولٌ منه.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام مسلم (746) اور نسائی (424) نے سعید بن ابی عروبہ کے مختلف طرق سے روایت کیا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: حاکم کا اس پر استدراک کرنا ان کا "سہو" (ذہول) ہے (کیونکہ یہ مسلم میں موجود ہے)۔
وقد تقدَّم برقم (3884) من طريق معمر عن قَتَادة.
📖 حوالہ / مصدر: یہ روایت معمر عن قتادہ کے طریق سے نمبر (3884) میں گزر چکی ہے۔