🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
17. قتل على عمرو بن عبد ود رأس الكفار
حضرت علیؓ کا عمرو بن عبد ود سردارِ کفار کو قتل کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4375
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبار، حدثنا يونس بن بكير، عن ابن إسحاق، قال: كان عمرو بن عبد وَد ثالث قريش (3) ، وكان قد قاتَلَ يومَ بدرٍ حتى أثبتته الجراحةُ، ولم يشهد أحدًا، فلما كان يوم الخندق خرجَ مُعْلِمًا ليُرى مَشهَدُه، فلما وقَفَ هو وخيله قال له عليٌّ: يا عمرو، قد كنتَ تُعاهِدُ الله لقريشٍ أن لا يدعُو رجلٌ إلى خَلَّتين إلَّا قَبلْتَ منه أحداهما، فقال عمرو: أجل، فقال له عليٌّ: فإني أدعُوك إلى الله ﷿ وإلى رسوله ﷺ والإسلام، فقال: لا حاجة لي في ذلك، قال: فإني أدعُوك إلى البِرازِ، قال: يا ابن أخي، لِمَ؟ فوالله ما أُحِبُّ أن أقتُلَكَ، فقال عليٌّ: لكني واللهِ أُحبُّ أن أقتُلَكَ، فَحَمِيَ عَمرو فاقتحم عن فرسه فعَقَرَه، ثم أقبل فجاء إلى عليّ، وقال: من يُبارزُ، فقام عليٌّ وهو مُقنَّع في الحديد، فقال: أنا له يا نبي الله، فقال: إنه عَمرو بن عبد ودٍّ، اجلس، فنادى عمرو: ألَا رَجُلٌ، فأذِنَ له رسول الله ﷺ، فمشى إليه علي وهو يقول: لا تَعجَلَنَّ فقد أتا … كَ مُجيب صوتك غير عاجِزْ ذو نِيّة وبَصيرة … والصدقُ مَنْجا كل فائزْ إني لأرجو أن أُقِيـ … م عليك نائحة الجنائزْ مِن ضَرْبةٍ نجلاء يب … قى ذِكْرُها عند الهَزاهِزْ فقال له: عمرو: مَن أنت؟ قال: أنا عليٌّ، قال: ابن من؟ قال: ابن عبد مناف، أنا علي بن أبي طالب، فقال: عندك يا ابن أخي من أعمامك من هو أسن منك، فانصرف فإني أكره أن أُهريق دمك، فقال علي: لكني والله ما أكره أن أُهريق دمك، فغضب، فنزل فسَلَّ سيفه كأنه شُعله نارٍ، ثم أقبل نحو عليٍّ مُغضَبًا واستقبله عليٌّ بدَرَقَتِه، فضربه عمرو في الدَّرَقة فقَدَّها وأثبت فيها السيف، وأصاب رأسَه فشَجَّه، وضربه علي على حبل العاتق، فسقط وثارَ العَجَاجُ، فسمع رسول الله ﷺ التكبير، فعرف أنَّ عليًّا قتله، فثَمّ يقول عليٌّ: أعليَّ يَقتحم الفَوارِسُ هكذا … عني وعنهم أخَّرُوا أصحابي اليومَ يَمنعُني الفِرارَ حَفِيظَتي … ومُصَمِّمٌ في الرأس ليس بِنَابِي آلى ابن عَبدٍ حينَ شَدَّ أَلِيَّةً … وحلفتُ فاستمعوا من الكذاب أنْ لا أُصدِّقَ مَن يُهلِّلُ فالْتَقَى (1) … رجُلانِ يضطربان كل ضراب فصدَرْتُ حين تركتُه مُتجدِّلًا … كالجذع بين دكادِكِ وروابي وعَفَفْتُ عن أثوابه وَلَوَ انَّني … كنتُ المُقطَّرَ بَزَّني (2) أَثوابي عَبَدَ الحجارة من سَفَاهِةِ عَقْلِهِ … وعَبَدْتُ ربَّ محمدٍ بصَوابِ ثم أقبل على نحو رسول الله ﷺ ووجهه يتهلل، فقال عمر بن الخطاب: هلا استَلَبْتَه دِرْعَه، فليس للعرب دِرْعٌ خيرٌ (1) منها، فقال: ضربته فاتقاني بسَواتِه، فَاسْتَحْييتُ ابنَ عَمِّي أَن أَستَلِبَه، وخَرجَتْ خَيلُه مُنهزمةً حتى أقحَمَتْ من الخَندق (2) .
ابن اسحاق کہتے ہیں: عمرو بن عبد ود قریش کا ثالث تھا، اس نے بدر کا معرکہ لڑا تھا اور اس میں زخمی بھی ہوا تھا پھر یہ احد میں نہیں آیا تھا۔ جب خندق کا موقع آیا تو یہ اپنے جنگی جواہر دکھانے کے لئے اعلان کرتا ہوا نکلا، جب وہ اپنے گھوڑے سمیت کھڑا ہوا، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا: اے عمرو! تو نے قریش سے عہد کر رکھا ہے کہ کوئی آدمی بھی اس سے دو چیزیں مانگے گا تو، تو اس کی ایک قبول کر لے گا، عمرو نے کہا: جی ہاں۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تجھے اللہ، اس کے رسول اور اسلام کی دعوت دیتا ہوں۔ اس نے کہا: مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تو پھر میں تجھے جنگ کی دعوت دیتا ہوں۔ اس نے کہا: اے میرے چچا کے بیٹے! کیوں؟ خدا کی قسم! میں تجھے قتل نہیں کرنا چاہتا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: لیکن تجھے قتل کرنا مجھے بہت پسند ہے۔ (یہ سن کر) وہ آگ بگولا ہو گیا، وہ گھوڑے کو حقیر جانتے ہوئے اس سے نیچے اترا اور اس کی کونچیں کاٹ ڈالیں اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی جانب بڑھنے لگا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کے ساتھ کون لڑے گا؟ سیدنا علی رضی اللہ عنہ لوہے کا لباس پہنے ہوئے اٹھ کر کھڑے ہوئے اور عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے ساتھ میں لڑوں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ عمرو بن عبد ود ہے تم بیٹھ جاؤ۔ عمرو نے پھر آواز دی: کیا کوئی مرد نہیں ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو اجازت دی۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ درج ذیل اشعار پڑھتے ہوئے اس کی جانب بڑھے۔ تو جلد بازی نہ کر، بے شک تیرا چیلنج قبول کرنے والا آ گیا ہے اور وہ عاجز نہیں ہے جو کہ دانائی، بصیرت اور سچائی والا ہے۔ بے شک میں امید رکھتا ہوں کہ میں تجھ پر جنازوں پر رونے والیاں کھڑی کر دوں گا۔ ایسی چوڑی ضرب کے ساتھ جس کا ذکر جنگوں میں باقی رہے گا۔ عمرو بولا: تم کون ہو؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں علی ہوں۔ اس نے کہا: کس کا بیٹا؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: عبد مناف کی اولاد میں سے۔ میں ابوطالب کا بیٹا ہوں۔ اس نے کہا: میرے چچا کے بیٹے تمہارے پاس تمہارے چچے موجود ہیں جو تم سے بڑے بھی ہیں۔ اس لئے تو واپس چلا جا، کیونکہ میں تیرا خون بہانا اچھا نہیں سمجھتا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا لیکن خدا کی قسم تیرا خون بہانا مجھے ہرگز ناپسند نہیں ہے، (اس بات پر) اس کو شدید غصہ آ گیا۔ اس نے تلوار لہرائی گویا کہ آگ کا شعلہ ہو پھر وہ بہت غصے کی حالت میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی جانب بڑھا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اپنی ڈھال اس کے آگے کر دی، عمرو نے ڈھال پر تلوار ماری تو یہ تلوار کو چیرتی ہوئی آپ کے سر تک پہنچی جس سے آپ کے سر میں زخم ہو گیا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس کے کندھے کی رگ پر وار کیا (جو کہ کاری ثابت ہوا) اور وہ گر گیا اور گردوغبار پھیل گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کی آواز سنی تو سمجھ گئے کہ علی رضی اللہ عنہ نے اس کو مار ڈالا ہے۔ اس موقع پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے یہ اشعار پڑھے: اے علی! جنگجو ہمیں یوں حقیر جانتے ہیں اور میرے ان ساتھیوں کو جو میرے پیچھے ہیں۔ آج میرے جذبہ حمیت نے مجھے فرار سے روکا اور میرے سر کا زخم میرے لئے کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے۔ مگرابن عبد ود کو جب مارا گیا اور میں نے قسم کھائی تو تم غور سے کتاب سنو۔ دو سخت لڑائی کرنے والوں میں سے میں اس کی تصدیق کرتا ہوں جو متقی ہو۔ جب میں نے اس کو زمین پر ٹپکایا ہوا چھوڑا تو وہ ایسا ہو گیا جیسے انسانی دھڑ سخت زمین اور محتاجی کے درمیان ہو۔ اور میں اس کے کپڑوں سے بچ کر رہا اگر میں ان کو اتار لیتا تو میرے کپڑوں کے برابر ہوتے۔ وہ اپنی بے وقوفی کی وجہ سے پتھروں کی عبادت کرتا ہے اور میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے برحق رب کی درست عبادت کرتا ہوں۔ پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف آئے، تو ان کا چہرہ چمک رہا تھا۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: تم نے اس کی زرہ کیوں نہ اتار لی؟ کیونکہ اس کی زرہ سے اچھی زرہ پورے عرب میں نہیں ہے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے اس پر ضرب لگائی، اس نے اپنا لاشہ مجھ سے بچانے کی کوشش کی۔ تو مجھے اس بات سے حیاء آئی کہ میں اپنے چچا کے بیٹے کی زرہ اتاروں اور اس کا گھوڑا واپس بھاگا تو خندق میں جا گرا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المغازي والسرايا/حدیث: 4375]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4375 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) كذا في النسخ الخطية، وفي "دلائل النبوة" للبيهقي 3/ 437: فارس قريش، وهو أوجه.
🔍 فنی نکتہ / تحقیقِ متن: قلمی نسخوں میں ایسا ہی ہے، جبکہ بیہقی کی "دلائل النبوۃ" (3/ 437) میں "فارس قریش" (قریش کا شہسوار) کے الفاظ ہیں، اور یہی زیادہ راجح معلوم ہوتا ہے۔
(1) في النسخ الخطية: يُهلِّل بالتُّقى. ولعلّ معناه: من يرفع صوته ويصدع بالتقوى، ويكون ما بعده مستأنفًا، والمثبت من سائر مصادر تخريج الخبر، ومن "الروض الأنف" للسُّهيلي، وهو أحسن وأوجه.
🔍 فنی نکتہ / تحقیقِ متن: قلمی نسخوں میں "یُہلِّل بالتُّقی" (وہ تقویٰ کے ساتھ آواز بلند کرتا ہے) کے الفاظ ہیں، شاید اس کا معنی یہ ہو: "وہ شخص جو اپنی آواز بلند کرتا ہے اور تقویٰ کا اظہار کرتا ہے۔" اور اس کے بعد والا کلام نیا جملہ (مستانفہ) ہو۔ 📌 اہم نکتہ: تاہم جو متن یہاں ثابت کیا گیا ہے وہ خبر کے دیگر تخریج مصادر اور سہیلی کی "الروض الانف" سے لیا گیا ہے، اور وہی زیادہ بہتر اور موزوں ہے۔
(2) أي: سلبني.
📝 نوٹ / توضیح: (لفظ کا مطلب ہے): اس نے میرا مال و اسباب چھین لیا۔
(1) وقع في النسخ الخطية: درعًا خيرًا، بالنصب، والمثبت من رواية البيهقي في "السنن الكبرى" 9/ 308 و الدلائل 3/ 439 عن أبي عبد الله الحاكم، وكذلك جاء في سائر المصادر التي خرجت هذا الخبر، وهو الوجه.
🔍 فنی نکتہ / تحقیقِ متن: قلمی نسخوں میں "درعًا خیرًا" (حالتِ نصب میں) واقع ہوا ہے۔ ہم نے جو متن ثابت کیا ہے وہ بیہقی کی "السنن الکبریٰ" (9/ 308) اور "الدلائل" (3/ 439) کی روایت سے لیا گیا ہے جو ابو عبداللہ الحاکم سے مروی ہے، اور دیگر مصادر میں بھی اسی طرح آیا ہے، اور یہی درست وجہ ہے۔
(2) رجاله لا بأس بهم، وقد سمعه ابن إسحاق - وهو محمد - من يزيد بن رومان عن عروة بن الزبير مرسلًا، وإسناده حسن إليه، وسمعه أيضًا من يزيد بن زياد المدني، عن محمد بن كعب القُرَظي وعثمان بن يهوذا، عن رجالٍ من قومه. ويغلب على الظن أنَّ هذا متصل، ويكون محمد بن كعب وعثمان، سمعاه ممن كان سُبِيَ يومَ قُريظة ممَّن لم يكن أنبَتَ فلم يُقتل، فإن ثبت ذلك فالإسناد حسن، والله تعالى أعلم.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کے رجال میں کوئی حرج نہیں (لا بأس بہم)۔ 🔍 فنی نکتہ / اتصالِ سند: ابن اسحاق (محمد بن اسحاق) نے اسے یزید بن رومان سے، انہوں نے عروہ بن زبیر سے "مرسلًا" سنا ہے، اور اس کی سند ان (عروہ) تک "حسن" ہے۔ نیز ابن اسحاق نے اسے یزید بن زیاد المدنی سے، انہوں نے محمد بن کعب القرظی اور عثمان بن یہوذا سے، اور انہوں نے اپنی قوم کے لوگوں سے سنا ہے۔ 📌 اہم نکتہ: غالب گمان یہی ہے کہ یہ سند "متصل" ہے، اور محمد بن کعب و عثمان نے یہ واقعہ ان لوگوں سے سنا ہوگا جو غزوہ قریظہ کے دن قیدی بنائے گئے تھے اور نابالغ ہونے (لم یکن انبت) کی وجہ سے قتل نہیں کیے گئے تھے۔ اگر یہ بات ثابت ہو جائے تو سند "حسن" ہے، واللہ تعالیٰ اعلم۔
وأخرجه البيهقي في "السنن الكبرى" 6/ 308، وفي "دلائل النبوة" 3/ 435 - 437 عن أبي عبد الله الحاكم، عن أبي العباس محمد بن يعقوب، عن أحمد بن عبد الجبار، عن يونس بن بكير، عن ابن إسحاق، حدثني يزيد بن رومان، عن عروة بن الزبير، قال - يعني ابن إسحاق -: وحدثني يزيد بن زياد، عن محمد بن كعب القرظي وعثمان بن يهوذا، عن رجال من قومه، قالوا: فذكره. ولم يسق البيهقي لفظه بتمامه في "السنن".
📖 حوالہ / مصدر: اسے بیہقی نے "السنن الکبریٰ" (6/ 308) اور "دلائل النبوۃ" (3/ 435 - 437) میں ابو عبداللہ الحاکم سے، انہوں نے ابو العباس محمد بن یعقوب سے، انہوں نے احمد بن عبدالجبار سے، انہوں نے یونس بن بکیر سے، انہوں نے ابن اسحاق سے روایت کیا ہے۔ ابن اسحاق نے کہا: مجھے یزید بن رومان نے عروہ سے بیان کیا، اور مجھے یزید بن زیاد نے محمد بن کعب القرظی و عثمان بن یہوذا سے، انہوں نے اپنی قوم کے لوگوں سے بیان کیا... پھر پوری روایت ذکر کی۔ بیہقی نے "السنن" میں اس کے مکمل الفاظ ذکر نہیں کیے۔
وأخرجه ابن عساكر في "تاريخ دمشق" 42/ 77 - 78 من طريق رضوان بن أحمد، عن أحمد بن عبد الجبار، به كإسناده الذي ساقه البيهقي بتمامه.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن عساکر نے "تاریخ دمشق" (42/ 77 - 78) میں رضوان بن احمد کے طریق سے، احمد بن عبدالجبار سے اسی طرح روایت کیا ہے، جیسی کہ بیہقی کی مکمل سند گزری۔
الخَلَّة، بالفتح: الخَصْلة.
📝 نوٹ / توضیح: "الخَلَّۃ": (خاء کے فتحہ کے ساتھ) اس کا معنی ہے: خصلت / عادت۔
وأثبتته الجراحة، أي: أثخنته حتى لم يستطع أن يقوم معها.
📝 نوٹ / توضیح: "أثبتتہ الجراحۃ": یعنی زخموں نے اسے اتنا نڈھال کر دیا کہ وہ کھڑا ہونے کے قابل نہ رہا۔
ومُعلِمًا، أي: أعلم نفسه بعلامة في الحرب ليُعلم مكانه.
📝 نوٹ / توضیح: "مُعلِمًا": یعنی اس نے جنگ میں اپنے آپ کو کسی خاص نشانی سے نمایاں کیا تاکہ اس کی جگہ پہچانی جا سکے۔
والبراز: مصدر كالمبارزة.
📝 نوٹ / توضیح: "البراز": یہ مصدر ہے، مبارزت (مقابلہ) کے معنی میں۔
واقتحم عن فرسه، أي: نزل عن فرسه في الحرب مسرعًا.
📝 نوٹ / توضیح: "اقتحم عن فرسہ": یعنی وہ جنگ میں اپنے گھوڑے سے تیزی سے کود کر نیچے اترا۔
والضربة النجلاء: الضربة الواسعة.
📝 نوٹ / توضیح: "الضربۃ النجلاء": گہرا اور وسیع زخم/ ضرب۔
والهزاهز: الحروب والشدائد التي يهتز فيها الناس.
📝 نوٹ / توضیح: "الھزاھز": جنگیں اور وہ سختیاں جن میں لوگ ہل کر رہ جائیں (اضطراب)۔
والدَّرَقة: الترس الذي يكون من جلود ليس فيها خشب ولا عَصَب.
📝 نوٹ / توضیح: "الدَّرَقۃ": وہ ڈھال جو صرف کھال سے بنی ہو، اس میں لکڑی یا پٹھے نہ ہوں۔
وقدَّها، أي: قطعها. وحبل العاتق: عَصَبُه.
📝 نوٹ / توضیح: "قَدَّھا": یعنی اسے کاٹ دیا۔ "حبل العاتق": کندھے کا پٹھا۔
والعَجَاج: الغبار.
📝 نوٹ / توضیح: "العَجَاج": غبار / مٹی۔
وقوله: أَخَّرُوا أصحابي، أي: تأخَّروا، وهو على لغة: أكلوني البراغيث.
🔍 فنی نکتہ / لغوی تحقیق: ان کا قول "أَخَّرُوا أصحابي": اس کا معنی ہے "تأخروا" (وہ پیچھے ہٹے)۔ یہ عربی لغت "أکلونی البراغیث" (فعل کے ساتھ فاعلِ جمع کا لاحقہ لگانا) کے اسلوب پر ہے۔
والحفيظة: اسم للمحافظة على العهد والوفاء بالعقد والتمسك بالوُد. أو المحافظة على المحارم ومنعها عند الحروب.
📝 نوٹ / توضیح: "الحفیظۃ": عہد کی پاسداری، وعدہ وفائی اور دوستی کو قائم رکھنے کا نام ہے۔ یا اس سے مراد جنگوں کے دوران محترم چیزوں کی حفاظت اور دفاع کرنا ہے۔
والمُصمِّ: هو السيف الماضي في الضربة الذي يمر في العِظام.
📝 نوٹ / توضیح: "المُصمِّم": وہ تیز دھار تلوار جو ضرب لگانے میں اتنی کاری ہو کہ ہڈیوں میں سے گزر جائے۔
والنابي: هو الذي ارتد ولم يمض أو لم يقطع.
📝 نوٹ / توضیح: "النابی": وہ تلوار جو پلٹ جائے (اچٹ جائے)، نہ گہرا زخم لگائے اور نہ کاٹے۔
والألية: اليمين.
📝 نوٹ / توضیح: "الألیۃ": قسم / حلف۔
والمتجدِّل: المرمي على الجَدَالة، أي: الأرض.
📝 نوٹ / توضیح: "المتجدِّل": زمین (جَدالہ) پر گرا ہوا شخص۔
والدَّكَادِك: ما التبد من الرمل بعضه فوق بعض بالأرض ولم يرتفع كثيرًا.
📝 نوٹ / توضیح: "الدَّکَادِک": ریت کا وہ ڈھیر جو زمین پر تہہ در تہہ جم جائے لیکن زیادہ بلند نہ ہو۔
والروابي: ما أشرف من الرمل.
📝 نوٹ / توضیح: "الروابی": ریت کا بلند ٹیلہ۔
والمُقطَّر: الذي أُلقي على أحد قُطريه، أي: جَنْبَيه.
📝 نوٹ / توضیح: "المُقطَّر": وہ شخص جسے اس کے کسی ایک پہلو (کروٹ) کے بل گرا دیا گیا ہو۔
وأقْحمتْ خيله، أي: سارت بغير سائق.
📝 نوٹ / توضیح: "أقحمت خیلہ": یعنی اس کے گھوڑے بغیر سائبان (کوچوان) کے بھاگ نکلے۔