المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
17. قتل على عمرو بن عبد ود رأس الكفار
حضرت علیؓ کا عمرو بن عبد ود سردارِ کفار کو قتل کرنا
حدیث نمبر: 4376
حدثنا أبو بكر بن أبي دارم الحافظ، حدثنا المنذر بن محمد اللخمي، حدثنا أبي، حدثنا يحيى بن محمد بن عباد بن هانئ، عن محمد بن إسحاق بن يَسار قال: حدثني عاصم بن عُمر بن قتادة، قال: لما قتل علي بن أبي طالب عمرو بن عبد وَدٍّ أنشأت أختُه عَمْرةُ بنت عبد وَدٍّ ترثيه، فقالت: لو كان قاتل عمرو غير قاتلِهِ … بَكَيْتُه ما أقام الروحُ فِي جَسَدي لكنَّ قاتِلَه مَن لا يُعاب به … وكانَ يُدعَى قديمًا بَيضةَ البَلَدِ (1)
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4330 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4330 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا عاصم بن عمر بن قتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب سیدنا علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے عمرو بن عبد ود کو قتل کر دیا تو اس کی بہن عمرہ بنت عبد ود نے اس پر مرثیہ پڑھتے ہوئے یہ اشعار کہے: اگر عمرو کو علی کے علاوہ کسی اور نے قتل کیا ہوتا تو میں ساری زندگی اس پر روتی، لیکن اس کا قاتل وہ ہے جس پر کوئی عیب نہیں لگایا جا سکتا اور وہ اول دن سے شہر کا باعزت آدمی شمار ہوتا ہے۔ “ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المغازي والسرايا/حدیث: 4376]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4376 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده واهٍ بمرة، فمن دون محمد بن إسحاق ما بين متروك ومجهول. والمنذر بن محمد: هو ابن سعيد بن أبي الجهم القابوسي الكوفي. على أنَّ هذه الأبيات مشهورة عند علماء السير والمغازي.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "انتہائی کمزور" (واہٍ بمرۃ) ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: محمد بن اسحاق سے نیچے والے راوی یا تو "متروک" ہیں یا "مجہول"۔ منذر بن محمد سے مراد "ابن سعید بن ابی الجہم القابوسی الکوفی" ہے۔ 📌 اہم نکتہ: البتہ یہ اشعار سیرت اور مغازی کے علماء کے ہاں مشہور ہیں۔
وبيضة البلد، أي: أنه فردٌ ليس مثله في الشرف.
📝 نوٹ / توضیح: "بیضۃ البلد": یعنی وہ یکتا اور تنہا ہے، شرف و عزت میں اس کی کوئی مثال نہیں۔