المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
17. قتل على عمرو بن عبد ود رأس الكفار
حضرت علیؓ کا عمرو بن عبد ود سردارِ کفار کو قتل کرنا
حدیث نمبر: 4378
أخبرنا أبو جعفر محمد بن محمد بن عبد الله البغدادي، حدَّثنا أبو عُلَاثَة محمد بن خالد، حدَّثنا أبي، حدَّثنا ابن لَهِيعة، قال: قال [أبو الأسود: قال] (1) عُرْوة بن الزبير: وقُتِلَ من كفار قُريش يومَ الخندقِ من بني عامر بن لُؤي، ثُمَّ من بني مالك بن حِسْل: عَمرو بن عَبد وَدِّ بن نَصْر بن مالك بن حِسْلٍ، قتلَه عليُّ بن أبي طالب ﵁ (2) . قد ذكرتُ في مقتل عَمرو بن عَبد وَدِّ من الأحاديث المُسنَدَة ومَغازي (3) عُروة بن الزبير وموسى بن عُقبة ومحمد بن إسحاق بن يَسار ما بَلَغَني، ليتَقرّر عند المُنصِفِ من أهل العلم أنَّ عمرو بن عبد وَدٍّ لم يَقتلْه ولم يَشترك في قتله غيرُ أمير المؤمنين عليّ بن أبي طالب ﵁، وإنما حَمَلَني على هذا الاستقصاءِ فيه قولُ مَن قال من الخَوارِج: إنَّ محمد بن مسلمة أيضًا ضربه ضربةً، وأخذ بعض السَّلَبِ (4) ، ووالله ما بلَغَنا هذا عن أحدٍ من الصحابة والتابعين ﵃، وكيف يجوزُ هذا وعليٌّ ﵇ يقول ما بلغنا: إني ترفَّعتُ عن سَلَبِ ابن عمِّي فتركته، وهذا جوابُه لأمير المؤمنين عمر بن الخطاب ﵁ بحضرةِ رسول الله ﷺ.
سیدنا عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جنگ خندق کے دن بنی عامر بن لؤی پھر مالک بن حسل میں سے عمرو بن عبد ود بن نسر بن مالک بن حصل کو قتل کیا گیا۔ اس کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے قتل کیا تھا اور عمرو بن عبد ود کے قتل کے متعلق میں نے مسند احادیث ذکر کر دی ہیں، ان تمام روایات سمیت جو سیدنا عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ، سیدنا موسیٰ بن عقبہ رضی اللہ عنہ، اور محمد بن اسحاق بن یسار رضی اللہ عنہ ایسے اہل علم کے حوالے سے ہم تک پہنچی ہیں، تاکہ مصنف کا نقطہ نظر واضح ہو جائے کہ عمرو بن عبد ود کو صرف سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ہی قتل کیا تھا، اس کے قتل میں ہم کسی کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا شریک نہیں سمجھتے۔ یہ وضاحت کرنے کی ضرورت خوارج کے اس قول کی وجہ سے پیش آئی ” محمد بن مسلمہ نے بھی اس کو ایک ضرب ماری تھی اور اس کی سلب کا کچھ حصہ بھی اس کو ملا تھا “ خدا کی قسم! صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور تابعین رضی اللہ عنہم میں سے کسی ایک کے حوالے سے بھی ہم تک یہ بات نہیں پہنچی۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے جبکہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ خود فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے چچا کے بیٹے کی سلب خود چھوڑی تھی اور یہ بات سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی بات کے جواب میں کہی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المغازي والسرايا/حدیث: 4378]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4378 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) سقط ذكر أبي الأسود - وهو محمد بن عبد الرحمن المعروف بيتيم عروة - من أصول "المستدرك"، وذكره ابن حجر في "إتحاف المهرة" (24704)، ولا بد من ذكره، وهي صحيفة في المغازي وأخبار الصحابة ومناقبهم يرويها عبد الله بن لهيعة عن أبي الأسود عن عروة بن الزبير، وسيُورد المصنف منها عشرات من الأخبار، وخصوصًا في المناقب، وقد أكثر منها أيضًا الطبراني والبيهقي وغيرهما، وشهرتها أعلى من أن يُدلَّل عليها.
🔍 فنی نکتہ / سقوطِ راوی: "مستدرک" کے اصل نسخوں سے "ابو الاسود" کا ذکر گر گیا تھا - یہ محمد بن عبدالرحمن ہیں جو "یتیمِ عروہ" کے نام سے معروف ہیں۔ حافظ ابن حجر نے "اتحاف المہرۃ" (24704) میں ان کا ذکر کیا ہے، اور ان کا ذکر ہونا ضروری ہے۔ 🧾 تفصیلِ روایت: یہ مغازی، اخبارِ صحابہ اور مناقب میں ایک "صحیفہ" ہے جسے عبداللہ بن لہیعہ، ابو الاسود سے اور وہ عروہ بن زبیر سے روایت کرتے ہیں۔ مصنف (حاکم) اس صحیفے سے، خاص طور پر مناقب میں، درجنوں روایات لائیں گے۔ طبرانی اور بیہقی وغیرہ نے بھی اس سے کثرت سے روایات لی ہیں، اور اس کی شہرت محتاجِ دلیل نہیں۔
(2) رجاله لا بأس بهم غير ابن لهيعة - واسمه عبد الله - ففيه مقال معروف من جهة حفظه، وكان عنده المغازي عن عروة بن الزبير من رواية أبي الأسود محمد بن عبد الرحمن المعروف بيتيم عروة عنه، فالظاهر أنها كانت صحيفةً عنده ضبطها عن أبي الأسود، على أنه قد رُوي مثلُ روايته بأبسط مما هنا عن عروة بن الزبير من طريق أخرى عند ابن إسحاق كما تقدم بيانه برقم (4375) بإسناد حسن إليه. لكن ليس فيها نسب عمرو بن عبد وَدٍّ. وأبو عُلاثة محمد بن خالد: هو محمد بن عمرو بن خالد الحَرَّاني ثم المصري، نُسب هنا لجده.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کے رجال میں "ابن لہیعہ" (عبداللہ) کے علاوہ کوئی حرج نہیں ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / جرح و تعدیل: ابن لہیعہ کے حفظ کے بارے میں کلام معروف ہے۔ ان کے پاس عروہ بن زبیر کی "مغازی" تھی جو ابو الاسود (یتیمِ عروہ) کی روایت سے تھی، بظاہر یہ ایک "صحیفہ" تھا جسے انہوں نے ابو الاسود سے ضبط کیا تھا۔ 🧩 متابعات و شواہد: تاہم عروہ بن زبیر سے اسی طرح کی روایت، بلکہ یہاں سے زیادہ تفصیل کے ساتھ، ابن اسحاق کے دوسرے طریق سے بھی مروی ہے جیسا کہ نمبر (4375) کے تحت بیان گزرا، اور اس کی سند ان تک "حسن" ہے۔ لیکن اس میں عمرو بن عبد وَدّ کا نسب موجود نہیں ہے۔ 📝 نوٹ / توضیح: "ابو عُلاثہ محمد بن خالد" سے مراد "محمد بن عمرو بن خالد الحرانی" (پھر المصری) ہیں، یہاں انہیں ان کے دادا کی طرف منسوب کیا گیا ہے۔
(3) تحرّف هذا اللفظ في النُّسخ الخطية أو بُيِّض له، والصواب ما أثبتنا.
🔍 فنی نکتہ / تحقیقِ متن: قلمی نسخوں میں یہ لفظ محرف (بگڑ) گیا تھا یا اس کی جگہ خالی چھوڑی گئی تھی، درست وہی ہے جو ہم نے (ترجمے/ متن میں) ثابت کیا ہے۔
(4) الظاهر أنَّ من قال ذلك التبس عليه ما حصل في غزوة الخندق من قتل علي بن أبي طالب لعمرو بن عبد وَدّ، مع ما حصل في غزوة خيبر من قتل علي بن أبي طالب لمرحب اليهودي، فهذا الأخير هو الذي اختُلف فيه هل قتله عليّ أو محمد بن مسلمة على ما بَسَطَه الحافظُ ابن حجر في "فتح الباري" 12/ 407، فاشتبه الأمر على مَن عَناهُم المصنف، والله أعلم.
📌 اہم نکتہ / ازالہ ابہام: بظاہر لگتا ہے کہ جس نے یہ بات کہی، اسے غزوہ خندق میں حضرت علی ؓ کے ہاتھوں عمرو بن عبد ود کے قتل کا واقعہ، غزوہ خیبر میں حضرت علی ؓ کے ہاتھوں "مرحب یہودی" کے قتل کے واقعے سے گڈمڈ (ملتبس) ہو گیا۔ مرحب کے قتل کے بارے میں اختلاف ہے کہ اسے حضرت علی ؓ نے قتل کیا یا محمد بن مسلمہ ؓ نے، جیسا کہ حافظ ابن حجر نے "فتح الباری" (12/ 407) میں تفصیل دی ہے۔ تو مصنف نے جن لوگوں کی طرف اشارہ کیا ہے انہیں اشتباہ ہو گیا ہے۔ واللہ اعلم۔