🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
18. نزول جبريل عليه السلام فى صورة دحية الكلبي ليزلزل بني قريظة
حضرت جبرئیلؑ کا دِحیہ کلبی کی صورت میں آ کر بنی قریظہ پر رعب ڈالنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4380
حدَّثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا أبو مسلم، حدَّثنا حجَّاج بن مِنْهال، حدَّثنا حمّاد بن سَلَمة، عن عبد الملك بن عُمير قال: حدّثني عَطيّة القُرَظي، قال: عُرِضْنا على رسولِ الله ﷺ زَمَنَ قُريظةَ، فمن كان منا مُحتلِمًا أو نَبَتَت عانَتُه قُتِلَ، فنَظَروا إليَّ فلم تكُن نبتتْ عانتي، فتُرِكْتُ (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، وله طُرق عن عبد الملك بن عُمَير، منهم الثَّوْري وشُعْبة وزُهَير (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4333 - صحيح
سیدنا عطیہ قرظی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: قریظہ (کے محاصرہ) کے ایام میں ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا ہم میں جو بالغ ہوتا یا جس کے موئے زیر ناف اگے ہوتے اس کو قتل کر دیا جاتا۔ انہوں نے مجھے بھی دیکھا تو میرے موئے زیر ناف نہیں اگے تھے اس لئے انہوں نے مجھے چھوڑ دیا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ عبدالملک بن عمیر سے اس کی متعدد سندیں ہیں۔ ان میں ثوری شعبہ اور زہیر بھی ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المغازي والسرايا/حدیث: 4380]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4380 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
وقد تقدم برقم (2600) من طريق شعبة عن عبد الملك. وتقدمت هناك الإشارة إلى طرقه.
📖 حوالہ / مصدر: یہ روایت پیچھے نمبر (2600) پر شعبہ عن عبدالملک کے طریق سے گزر چکی ہے، اور وہاں اس کے دیگر طرق کی طرف بھی اشارہ گزر چکا ہے۔
(2) رواية زهير - وهو ابن معاوية - عند ابن أبي خيثمة في السفر الثاني من "تاريخه الكبير" (1548).
📖 حوالہ / مصدر: زہیر (بن معاویہ) کی روایت ابن ابی خیثمہ کے ہاں "التاریخ الکبیر" (1548) کے دوسرے سفر (حصے) میں موجود ہے۔