🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
34. فضيلة العتاق
غلام آزاد کرنے کی فضیلت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4419
أخبرنا أبو عمرو عثمان بن أحمد بن عبد الله الزاهد ببغداد، حدَّثنا عبد الرحمن بن محمد بن منصور، حدَّثنا معاذ بن هشام، حدّثني أبي، عن قتادة، عن سالم بن أبي الجَعْد، عن معدان بن أبي طلحة، عن أبي نجيح السُّلَمي، قال: حاصَرْنا مع رسول الله ﷺ قَصْرَ الطائف، فسمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"من بَلَغَ بسهمٍ، فلَه درجةٌ في الجنّة"، فبلَّغتُ يومئذٍ ستةَ عشرَ سهمًا. وسمعتُ رسولَ الله ﷺ يقول:"مَن رَمَى بسهمٍ في سبيل الله فهو عَدْلُ مُحرَّرٍ، ومن شابَ شَيْبةً في الإسلام كانت له نُورًا يومَ القيامة، وأيُّما رجلٍ أعتقَ رجلًا مُسلمًا، فإنَّ الله [جاعلٌ كلَّ عَظمٍ من عِظامِه] (1) وقاءً كلَّ عَظمٍ بعَظمٍ، وأيُّما امرأةٍ مسلمةٍ أعتقتْ امرأةً مسلمةً، فإنَّ الله جاعِلٌ كلَّ عظمٍ من عِظامِها وِقاءَ كلِّ عظمٍ من عظامِ مُحرَّرِها مِن النار" (2) . صحيحُ عالٍ، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4371 - صحيح
سیدنا ابونجیح سلمی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ طائف کے قلعہ کا محاصرہ کیا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو (اس موقع پر) یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس نے ایک تیر ٹھیک نشانے پر لگایا، اس کے لئے جنت کا ایک درجہ ہے اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے بھی سنا ہے کہ جس نے اللہ تعالیٰ کی راہ میں ایک تیر چلایا تو یہ ایک غلام آزاد کرنے کے برابر ہے اور جو شخص اسلام (کی حالت) میں بوڑھا ہوا، اس کے لئے قیامت کے دن نور ہو گا۔ اور جس نے کسی مسلمان کو آزاد کیا اللہ تعالیٰ اس کی ہر ہر ہڈی کے عوض اس کی ہڈیاں دوزخ سے آزاد کرے گا۔ اور جس مسلمان عورت نے کسی مسلمان عورت کو آزاد کیا اس کے ہر عضو کے بدلے اللہ تعالیٰ اس کے اعضاء کو دوزخ سے آزاد کرے گا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح ہے، اس کی سند عالی ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المغازي والسرايا/حدیث: 4419]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4419 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) سقطت من أصولنا الخطية، وثبتت في المطبوع، وفي رواية البيهقيّ في "دلائل النبوة" 5/ 159 عن أبي عبد الله الحاكم، وهي ثابتة لسائر من روى هذا الحديث.
📝 نوٹ / توضیح: یہ لفظ ہمارے قلمی نسخوں سے ساقط تھا لیکن مطبوعہ نسخوں اور بیہقی (5/159) کی روایت میں حاکم کے واسطے سے ثابت ہے، اور دیگر تمام راویوں کے ہاں بھی موجود ہے۔
(2) حديث صحيح، وهذا إسناد حسن في المتابعات والشواهد من أجل عبد الرحمن بن محمد بن منصور - وهو الحارثي - وقد توبع. هشام هو ابن أبي عبد الله سَنْبَر الدَّسْتُوائي.
⚖️ درجۂ حدیث: حدیث صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: عبد الرحمن بن محمد بن منصور حارثی کی وجہ سے سند حسن ہے اور ان کی متابعت کی گئی ہے۔ یہاں ہشام سے مراد ہشام بن ابی عبد اللہ دستوائی ہیں۔
وقد تقدَّم منه ذكر الرمي بالسهم والبلوغ به بالرقمين (2500) و (2592) من طريقين عن معاذ بن هشام.
🧾 تفصیلِ روایت: تیر اندازی اور نشانے پر تیر لگنے کا ذکر معاذ بن ہشام کے دو طرق سے نمبر (2500) اور (2592) پر گزر چکا ہے۔
وأما فضل العِتق فأخرجه أبو داود (3965) عن محمد بن المثنَّى، عن معاذ بن هشام، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: غلام آزاد کرنے کی فضیلت والا حصہ امام ابو داؤد (3965) نے محمد بن مثنیٰ کے طریق سے معاذ بن ہشام سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 32/ (19428) عن يحيى بن سعيد، والنسائي (4859) من طريق خالد بن الحارث، كلاهما عن هشام الدَّستُوائي، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے (32/19428) میں یحییٰ بن سعید کے طریق سے، اور نسائی نے (4859) میں خالد بن الحارث کے طریق سے روایت کیا ہے؛ یہ دونوں ہشام دستوائی سے اسی سند کے ساتھ نقل کرتے ہیں۔
وأخرجه أحمد (19429) من طريق سعيد بن أبي عروبة، عن قَتَادة، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے (19429) میں سعید بن ابی عروبہ کے طریق سے قتادہ کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔