🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
21. ذكر الاختلاف فى أمر الخلافة ثم الإجماع على خلافة أبى بكر - رضى الله عنه - .
خلافت کے معاملے میں ابتدائی اختلاف اور پھر حضرت ابو بکرؓ پر اجماع کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4506
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا جعفر بن محمد بن شاكر، حدثنا عفَّان بن مُسلِم، حدثنا وُهَيب، حدثنا داود بن أبي هند، حدثنا أبو نَضْرة، عن أبي سعيد الخُدْري، قال: لما تُوفّي رسول الله ﷺ قام خُطباءُ الأنصارِ، فجعلَ الرجلُ منهم يقول: يا مَعشرَ المهاجرين، إنَّ رسول الله ﷺ كان إذا استعملَ رجلًا منكُم فَرَنَ معه رجلًا منّا، فنَرى أن يَلِيَ هذا الأمرَ رجلان، أحدُهما منكم والآخرُ منّا، قال: فتتابعتُ خطباءُ الأنصارِ على ذلك، فقام زيدُ بن ثابتٍ فقال: إنَّ رسول الله ﷺ كان من المهاجرين، وإنَّ الإمامَ يكونُ من المهاجرين، ونحن أنصارُه كما كنا أنصارَ رسولِ الله ﷺ، فقام أبو بكر فقال: جزاكُم الله خيرًا يا معشرَ الأنصار، وثَبّت قائلَكم، ثم قال: أمَا لو فَعلتُم غيَر ذلك لما صالَحناكُم، ثم أخذَ زيدُ بن ثابتٍ بيدِ أبي بكر، فقال: هذا صاحبُكم فبايِعُوه. ثم انطلَقوا. فلما قعدَ أبو بكر على المِنبَر نَظَر في وُجوهِ القوم، فلم يَرَ عليًّا، فسألَ عنه، فقام ناسٌ من الأنصار فأتَوْا به، فقال أبو بكر: ابن عمِّ رسولِ الله ﷺ وخَتَنُه، أردتَ أن تَشُقّ عصا المسلمين؟! فقال: لا تَثريبَ يا خليفةَ رسولِ الله، فبايَعَه، ثم لم يَرَ الزُّبيرَ بنَ العوّام، فسأل عنه حتى جاؤوا به، فقال: ابن عَمّة رسولِ الله ﷺ وحَوارِيُّه، أردتَ أن تَشُقَّ عصا المسلمين؟! فقال مثل قولِه: لا تَثريبَ يا خليفةَ رسولِ الله، فبايَعَاه (1)
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4457 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہوا تو انصار کے خطباء کھڑے ہو گئے۔ ان میں سے ایک یہ کہہ رہا تھا: اے مہاجرو! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی تم میں سے کسی کو کسی کام پر مقرر فرماتے تھے تو اس کے ساتھ ایک آدمی ہمارا بھی شامل کرتے تھے۔ اس لئے ہم سمجھتے ہیں کہ اس معاملہ (خلافت) میں بھی ایک آدمی ہمارا ہو اور ایک تمہارا۔ انصار کے تمام خطباء اسی موقف کو دہراتے رہے۔ پھر سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ اٹھ کر کھڑے ہوئے اور بولے: بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود مہاجرین میں سے تھے اور امام بھی مہاجرین میں سے ہو گا اور ہم سب اس کے مددگار اور معاونین ہوں گے جیسا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے معاونین ہوا کرتے تھے۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اٹھ کر کھڑے ہوئے اور فرمایا: اے گروہ انصار! اللہ تعالیٰ تمہیں جزائے خیر عطا فرمائے اور تمہارے خطباء کو قائم رکھے۔ پھر فرمایا: اگر تم اس کے علاوہ (کچھ) کرتے تو ہم تم سے صلح نہ کرتے۔ پھر سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا ہاتھ تھام کر کہا: یہ تمہارا ساتھی ہے تم اس کی بیعت کر لو، تو لوگوں نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی بیعت کر لی۔ جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ منبر پر بیٹھے تو تمام لوگوں پر نظر دوڑائی، آپ کو ان میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ نظر نہ آئے، آپ نے ان کے متعلق لوگوں سے پوچھا تو کچھ انصاری سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو آپ کے پاس لے آئے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچازاد (بھائی) اور ان کے داماد! کیا تم نے مسلمانوں کی اجتماعیت کو توڑنے کا ارادہ کیا ہے؟ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلیفہ! مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے۔ پھر انہوں نے بھی سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی بیعت کر لی۔ پھر آپ نے سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کو بھی مفقود پایا تو ان کے بارے میں لوگوں سے دریافت کیا تو لوگوں نے ان کو بھی آپ کے سامنے پیش کر دیا۔ آپ نے فرمایا: اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پھوپھی زاد (بھائی) اور ان کے مددگار! کیا تم مسلمانوں کی جمعیت کو کمزور کرنا چاہتے تھے؟ انہوں نے بھی سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی طرح جواب دیتے ہوئے کہا: اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلیفہ مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے۔ چنانچہ دونوں نے ہی سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیعت کر لی۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4506]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4506 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح، وقال مسلم بن الحجاج صاحب الصحيح" فيما أسنده عنه البيهقي في "السنن الكبرى" 8/ 143: هذا حديث يَسْوى بَدَنةً، فقال له ابن خُزَيمة: يَسْوى بدنة؟! بل هو يَسْوى بَدْرة. قلنا: البَدْرة: كيس فيه ألف أو عشرة آلاف درهم، أو سبعة آلاف دينار، والبدنة: الناقة السمينة.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند ’’صحیح‘‘ ہے۔ مسلم بن حجاج (صاحبِ صحیح) نے (بیہقی: 8/ 143) فرمایا: ’’یہ حدیث ایک اونٹنی (بدنہ) کے برابر قیمت رکھتی ہے‘‘۔ تو ابن خزیمہ نے ان سے کہا: ’’اونٹنی کے برابر؟! بلکہ یہ تو ایک بدرہ (سونے/چاندی کی تھیلی) کے برابر ہے‘‘۔ ہم کہتے ہیں: بدرہ وہ تھیلی ہے جس میں ایک ہزار یا دس ہزار درہم، یا سات ہزار دینار ہوں، اور بدنہ موٹی تازی اونٹنی کو کہتے ہیں۔
وُهَيب: هو ابن خالد، وأبو نَضْرة: هو المنذر بن مالك.
🔍 فنی نکتہ / علّت: وہیب: یہ ابن خالد ہیں۔ ابو نضرہ: یہ منذر بن مالک ہیں۔
وأخرجه البيهقي في "السنن الكبرى" 8/ 143، وفي الاعتقاد" ص 349 عن أبي عبد الله الحاكم ورجلٍ آخر، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے بیہقی نے ’’السنن الکبریٰ‘‘ 8/ 143 اور ’’الاعتقاد‘‘ ص 349 میں ابو عبداللہ الحاکم اور ایک دوسرے شخص سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
وأخرج الشطر الأول منه إلى قوله "صالحناكم": أحمد 35/ (21617) عن عفان بن مسلم، به.
📖 حوالہ / مصدر: اس کا پہلا حصہ (قول: صالحناکم تک) احمد 35/ (21617) نے عفان بن مسلم سے تخریج کیا ہے۔
وأخرجه بتمامه البيهقي في "السنن الكبرى" 8/ 143، وفي الاعتقاد ص 349، وابن عساكر في "تاريخ دمشق" 3/ 276 - 277 من طريق أبي هشام المغيرة بن سَلَمة المخزومي، عن وُهيب بن خالد، به. غير أنه قال في روايته: قال عمر بن الخطاب: صدق قائلكم، أما لو قلتم غير هذا لم نتابعكم. فجعله من قول عمر بن الخطاب لا من قول أبي بكر الصَدّيق.
📖 حوالہ / مصدر: اسے مکمل طور پر بیہقی (8/ 143، ص 349) اور ابن عساکر (3/ 276-277) نے ابو ہشام المغیرہ بن سلمہ المخزومی > وہیب بن خالد کے طریق سے تخریج کیا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: مگر انہوں نے اپنی روایت میں کہا: ’’عمر بن خطاب نے فرمایا: تمہارے کہنے والے نے سچ کہا، اگر تم اس کے علاوہ کچھ کہتے تو ہم تمہاری پیروی نہ کرتے۔‘‘ یوں اسے عمر بن خطاب کا قول بنا دیا نہ کہ ابوبکر صدیق کا۔
وأخرج الشطر الثاني منه في قصة عليّ والزبير: ابن عساكر 30/ 278 من طريق علي بن عاصم، عن سعيد الجَريري، عن أبي نضرة، به.
📖 حوالہ / مصدر: اور اس کا دوسرا حصہ (علی اور زبیر کے قصے میں): ابن عساکر (30/ 278) نے علی بن عاصم > سعید الجریری > ابو نضرہ کے طریق سے تخریج کیا ہے۔
وأخرجه أيضًا عبد الله بن أحمد بن حنبل في "السنة" (1292) من طريق عبد الأعلى بن عبد الأعلى، عن داود بن أبي هند، عن أبي نَضْرة، مرسلًا.
📖 حوالہ / مصدر: اسے عبداللہ بن احمد (السنتہ: 1292) نے عبدالاعلیٰ بن عبدالاعلیٰ > داود بن ابی ہند > ابو نضرہ سے مرسلاً بھی تخریج کیا ہے۔
والخَتَن: الصِّهر.
📝 نوٹ / توضیح: ’’الخَتَن‘‘: داماد / سسرالی رشتہ دار۔