🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
21. ذكر الاختلاف فى أمر الخلافة ثم الإجماع على خلافة أبى بكر - رضى الله عنه - .
خلافت کے معاملے میں ابتدائی اختلاف اور پھر حضرت ابو بکرؓ پر اجماع کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4507
حدثنا أبو عمرو عثمان بن أحمد بن السّمّاك الزاهد ببغداد، حدثنا إبراهيم بن الهيثم البَلَدي، حدثنا محمد بن كثير الصَّنْعاني، حدثنا مَعمَر، عن الزُّهْري، عن عُرْوة، عن عائشة قالت: لما أُسري بالنبيّ ﷺ إلى المسجد الأقصى أصبحَ يتحدّثُ الناسُ بذلك، فارتدَّ ناسٌ ممّن كانوا آمَنُوا به وصدَّقوه، وسَعَى رجالٌ من المشركين إلى أبي بكر، فقالوا: هل لك إلى صاحبِك يَزعُم أنه أُسري به الليلةَ إلى بيتِ المَقدِس! قال: أوَقال ذلك؟ قالوا: نعم، قال: لئن قال ذلك لقد صَدَق، قالوا: وتُصدِّقه أنه ذهب الليلةَ إلى بيت المَقدِس وجاء قبل أن يُصبح؟! فقال: نعم، إني لأصدِّقُه بما هو أبعدُ من ذلك؛ أُصدِّقه في خَبرِ السماء في غَدُوةٍ أو رَوْحة؛ فلذلك سُمِّي أبا بكر الصِّدِّيق (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه، فإنَّ محمد بن كثير الصَّنْعاني صَدُوق.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4458 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: جس رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد اقصی کی جانب سیر کرائی گئی تو صبح کے وقت لوگوں میں اس کی چہ میگوئیاں ہونے لگیں۔ اور کئی ایسے لوگ جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لا چکے تھے اور آپ کی تصدیق کر چکے تھے، مرتد ہو گئے۔ اور کئی مشرک لوگ دوڑ کر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہنے لگے: کیا تم اپنے ساتھی پر اعتبار کرتے ہو؟ وہ یہ سمجھتا ہے کہ رات کو اسے بیت المقدس کی سیر کرائی گئی؟ (سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے) فرمایا: کیا انہوں نے نے یہ بات کہی ہے؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر انہوں نے یہ کہا ہے تو میں اس کی تصدیق کرتا ہوں۔ لوگوں نے کہا: کیا تم اس کی تصدیق کرتے ہو کہ وہ راتوں رات بیت المقدس تک گیا اور صبح ہونے سے پہلے لوٹ کے بھی آ گیا؟ آپ نے فرمایا: جی ہاں۔ میں تو اس سے بھی بڑھ کر ان کی تصدیق کرتا ہوں۔ صبح و شام ان کے پاس جو آسمانی خبریں آتی ہیں، میں ان کی بھی تصدیق کرتا ہوں۔ اسی بناء پر ان کو ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کہا جاتا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہیں لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ محمد بن کثیر الصنعانی صدوق ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4507]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4507 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده ضعيف موصولًا كما تقدم بيانه عند مُكرَّره المتقدم برقم (4455).
⚖️ درجۂ حدیث: موصولاً (متصل ہونے کی صورت میں) اس کی سند ’’ضعیف‘‘ ہے، جیسا کہ (نمبر 4455) پر اس کے مکرر کے بیان میں گزر چکا۔