المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
22. أمر النبى لأبي بكر بإمامة الناس فى الصلاة .
نبی کریم ﷺ کا حضرت ابو بکرؓ کو نماز کی امامت کا حکم دینا
حدیث نمبر: 4511
حدثني أبو جعفر أحمد بن عُبيدٍ بن إبراهيم الأَسدي الحافظ بهَمَذَان، حدثنا أبو عبد الله محمد بن إبراهيم، حدثنا عَمرو بن زياد، حدثنا غالب القَرْقَساني، عن أبيه، عن جدِّه حبيب بن حبيب، قال: شهدتُ رسولَ الله ﷺ قال لحسان بن ثابت:"هل قُلتَ في أبي بكر شيئًا؟ قُلْ حتى أسمعَ"، قال: قلتُ: وثانيَ اثنين في الغار المُنِيفِ وقد … طافَ العَدوُّ به إِذْ صَاعَدَ الجَبَلا وكان حِبَّ رسولِ الله قد عَلِمُوا … مِن الخلائقِ لم يَعدِلْ به أَحدا (2)
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4461 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4461 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
سیدنا حبیب ابن ابی حبیب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر تھا۔ آپ نے سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا تم نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کی شان میں بھی کچھ کہا ہے؟ سیدنا حسان رضی اللہ عنہ نے عرض کی: جی ہاں۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا: مجھے سناؤ۔ تو (سیدنا حسان رضی اللہ عنہ) کہتے ہیں: میں نے کہا: وہ بلند پہاڑ کے غار میں دو میں سے دوسرے تھے اور جب وہ پہاڑ پر چڑھ رہے تھے تو دشمن بھی ان کا ہم پلہ نہ تھا۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے محبوب تھے اور یہ بات سب جانتے ہیں کہ مخلوقات میں سے کوئی بھی ان کا ہم پلہ نہ تھا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4511]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4511 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده تالف، وهو مكرر الخبر المتقدم برقم (4461). غير أنه قال في آخر البيت الثاني هناك: بدلًا، بدل أحدًا.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند ’’تالف‘‘ (برباد/ سخت ضعیف) ہے، اور یہ خبر (نمبر 4461) پر گزر چکی ہے اور مکرر ہے۔ سوائے اس کے کہ وہاں دوسرے شعر کے آخر میں ’’احدا‘‘ کی جگہ ’’بدلا‘‘ تھا۔