🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
27. سبب تلقيب عمر بأمير المؤمنين .
حضرت عمرؓ کو امیر المؤمنین کا لقب دیے جانے کی وجہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4530
ما حدَّثَناه علي بن حَمْشاذَ العَدْل، حدثنا أحمد بن إبراهيم بن مِلْحان، حدثنا يحيى بن بُكير، حدثنا يعقوب بن عبد الرحمن الإسكنَدراني، عن موسى بن عُقبة، عن ابن شِهَاب: أنَّ عمر بن عبد العزيز سأل أبا بكر بن سليمان بن أبي حَثْمة: لأيّ شيءٍ كان يُكتَب: من خليفة رسول الله ﷺ في عهد أبي بكر، ثم كان عُمر يكتبُ أولًا: من خليفة أبي بكر، فمن أولُ من كَتَبَ من أمير المؤمنين؟ قال: حدثتني الشِّفاءُ، وكانت من المهاجِرات الأُوَل: أنَّ عمر بن الخطاب كتب إلى عامِلِ العراق بأن يبعثَ إليه رجلَين جَلْدَين يسألُهما عن العراق وأهلِه، فبعثَ عاملُ العراقِ بلَبيدِ بن ربيعةَ وعَديّ بن حاتم، فلما قدما المدينةَ أناخا راحلتَيهما بفِناءِ المسجدِ، ثم دخلا المسجدَ، فإذا هما بعَمرو بن العاص، فقالا: استأذِن لنا يا عمرو على أمير المؤمنين، فقال عمرو: أنتما والله أصبتُما اسمَه، هو الأمير، ونحن المؤمنون، فوَثَب عمرٌو فدخل على عُمرَ، فقال: السلامُ عليك يا أميرَ المؤمنين، فقال عُمر ما بَدَا لك في هذا الاسم يا ابنَ العاص؟ ربّي يعلمُ لَتَخرُجَنّ مما قلتَ قال: إنَّ لبيدَ بن ربَيعةَ وعَديَّ بن حاتم قَدِمَا فأناخا راحلتَيهما بفِناء المسجد، ثم دخلا عليَّ فقالا لي: استأذِنْ لنا يا عَمرو على أمير المؤمنين، فهما واللهِ أصابا اسمَك، نحن المؤمنون وأنت أميرُنا. قال: فمضى به الكتابُ من يومئذٍ. قال: وكانت الشِّفاءُ جدّةَ أبي بكر بن سليمان (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4480 - صحيح
ابن شہاب کہتے ہیں: سیدنا عمر بن عبدالعزیز نے سیدنا ابوبکر بن سلیمان بن ابوخیثمہ سے پوچھا کہ کیا وجہ ہے کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں (مکتوبات میں) من خلیفۃ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلیفہ کی جانب سے) لکھا جاتا رہا، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی شروع میں من خلیفہ ابی بکر (ابوبکر رضی اللہ عنہ کے خلیفہ کی جانب سے) لکھا کرتے تھے۔ تو سب سے پہلے آپ کو امیرالمومنین کس نے لکھا؟ (ابوبکر بن سلیمان بن خیثمہ رضی اللہ عنہ) نے کہا: مجھے سیدنا شفاء رضی اللہ عنہا نے بتایا ہے۔ (اور یہ پہلے پہل ہجرت کرنے والیوں میں سے ہیں) کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عراق کے گورنر کی طرف مکتوب بھیجا کہ میری طرف دو سمجھدار زیرک آدمیوں کو بھیجو تاکہ میں ان سے عراق اور اہل عراق کے احوال دریافت کروں، تو عراق کے گورنر نے سیدنا لبید بن ربیعہ اور سیدنا عدی بن حاتم کو بھیجا۔ جب یہ دونوں مدینہ منورہ پہنچ گئے تو انہوں نے اپنے اونٹ فنائے مسجد میں بٹھائے اور خود مسجد کے اندر آ گئے، ان کی ملاقات سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے ہوئی انہوں نے کہا: اے عمرو! ہمارے لئے امیرالمومنین سے اجازت لیجئے، سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے کہا: خدا کی قسم! تم نے ان کو صحیح نام سے پکارا ہے، واقعی وہ ہمارے امیر ہیں، اور ہم مومن ہیں، تو سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ اٹھ کر کھڑے ہوئے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہو کر کہا: السلام علیک یا امیرالمومنین! سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے ابن العاص! یہ نام تجھے کہاں سے مل گیا؟ میرا رب جانتا ہے کہ تم یہ کہنے کی وجہ سے ضرور نکالے جاؤ گے۔ سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے کہا: لبید بن ربیعہ اور عدی بن حاتم آئے ہیں۔ انہوں نے اپنے اونٹ مسجد کے میدان میں باندھے اور میرے پاس آ گئے، اور مجھ سے کہا: اے عمرو! ہمارے لئے امیرالمومنین سے اجازت لیجئے خدا کی قسم! انہوں نے آپ کو بالکل درست لقب سے پکارا ہے ہم مومن ہیں اور آپ ہمارے امیر ہیں۔ تو اس دن سے مکتوبات میں یہی لکھا جانے لگا اور سیدنا شفاء رضی اللہ عنہا، سیدنا ابوبکر بن سلیمان کی دادی ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4530]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4530 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے۔
وأخرجه البخاري في "الأدب المفرد" (1023)، وعمر بن شبة في "تاريخ المدينة" 2/ 678، وابن أبي عاصم في "الآحاد والمثاني" (68)، والطبراني في "الكبير" (48)، وأبو نُعيم في "معرفة الصحابة" (210)، وابن عبد البر في "التمهيد" 10/ 75 - 77، وفي "الاستيعاب" (1697) ص 476، وابن عساكر في "تاريخ دمشق" 44/ 260 و 261 و 262 و 263، وابن الأثير في "أسد الغابة" 3/ 667 من طرق عن يعقوب بن عبد الرحمن، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اس روایت کو بخاری نے "الادب المفرد" (1023)، عمر بن شبہ نے "تاریخ المدینہ" (2/ 678)، ابن ابی عاصم نے "الآحاد والمثانی" (68)، طبرانی نے "الکبیر" (48)، ابو نعیم نے "معرفۃ الصحابۃ" (210)، ابن عبدالبر نے "التمہید" (10/ 75-77) اور "الاستیعاب" (ص 476)، ابن عساکر نے "تاریخ دمشق" (44/ 260-263) اور ابن اثیر نے "اسد الغابۃ" (3/ 667) میں یعقوب بن عبدالرحمن کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔