المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
26. ومن مناقب أمير المؤمنين عمر بن الخطاب - رضى الله عنه -
امیر المؤمنین حضرت عمر بن خطابؓ کے مناقب — حضرت عمرؓ کے نسب کا بیان
حدیث نمبر: 4529
أخبرني عبد الله بن الحسين القاضي، حدثنا الحارث بن أبي أسامة، حدثنا أبو النضر، حدثنا شَيبان بن عبد الرحمن النَّحْوي عن عاصم، عن زِرٍّ، قال: خرجتُ مع أهل المدينة في يوم عيد، فرأيتُ عمرَ بن الخطاب يمشي حافِيًا، شيخًا أصلعَ آدمَ أعْسَرَ يَسَرًا طوالًا مشرفًا على الناس كأنه على دابّةٍ، ببُرْدٍ قِطْرِيّ، يقول: عبادَ الله، هاجِروا ولا تَهجُروا، وليتَّقِ أحدُكُم الأرنبَ يَخِذفها بالحصَى أو يَرمِيها بالحجَر فيأكلَها، ولكن ليُذكِّ لكم الأسَلُ: الرِّماحُ والنَّبْلُ (1) . قال الحاكم: وكان السببُ في تلقيبِه بأميرِ المؤمنين:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4479 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4479 - صحيح
سیدنا زر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں اہل مدینہ کے ہمراہ عیدکے دن (عید پڑھنے) نکلا تو میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ ننگے پاؤں پیدل چل رہے تھے، وہ بزرگ تھے اصلع تھے (اصلع اس آدمی کو کہتے ہیں جس کے سر کے اگلے حصے کے بال نہ ہوں) ان کا رنگ گندمی تھا، آپ ” اعسریسر “ تھے (” اعسریسر “ ایسے آدمی کو کہتے ہیں جو بائیں ہاتھ کے ساتھ بھی اسی طرح کام کر لیتا ہو جیسے دائیں ہاتھ کے ساتھ کر لیتا ہے) آپ دراز قد تھے اور آپ لوگوں کے درمیان چلتے ہوئے یوں بلند نظر آتے تھے گویا کہ سواری پر سوار ہوں۔ آپ نے قطری چادر (ایک خاص قسم کی چادر ہے) اوڑھ رکھی تھی، آپ نے فرمایا: اے اللہ کے بندو! سفر کرو مگر دوپہر کے وقت سفر پر مت نکلو، اور کوئی شخص کنکری یا پتھر سے خرگوش (یا کسی بھی شکار) کو مار کر مت کھائے بلکہ تیر یا نیزے تیز دھار والے پھل سے ذبح کر کے کھائے۔ ٭٭ امام حاکم کہتے ہیں: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو ” امیرالمومنین “ کا لقب دینے کی وجہ یہ تھی (جو درج ذیل حدیث میں مذکور ہے) [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4529]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4529 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده حسن من أجل عاصم: وهو ابن أبي النُّجود، ويُعرف أيضًا بابن بهدلة. أبو النضر: هو هاشم بن القاسم، وزِرٌّ: هو ابن حُبيش.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "حسن" ہے کیونکہ اس میں عاصم ہیں (جو ابن ابی النجود ہیں اور ابن بہدلہ کے نام سے بھی معروف ہیں)۔ 🔍 تعینِ راویان: ابو النضر سے مراد "ہاشم بن قاسم" ہیں اور زر سے مراد "زر بن حبیش" ہیں۔
وأخرجه عبد العزيز بن أحمد الكِتَّاني في "مسلسل العيدين" (18) من طريق الوليد بن مسلم، عن شيبان النحوي به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے عبدالعزیز بن احمد الکتانی نے "مسلسل العیدین" (18) میں ولید بن مسلم -> شیبان النحوی کے طریق سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه ابن سعد 3/ 301، والبلاذُري في "أنساب الأشراف" 10/ 403 - 404، والطبري في "تاريخه" 4/ 196، وابن عساكر في "تاريخ دمشق" 44/ 19 و 20 من طرق عن عاصم بن بهدلة به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن سعد (3/ 301)، بلاذری نے "انساب الاشراف" (10/ 403-404)، طبری نے "تاریخ" (4/ 196) اور ابن عساکر نے "تاریخ دمشق" (44/ 19-20) میں عاصم بن بہدلہ کے مختلف طرق سے روایت کیا ہے۔
والآدَمُ: ما كان لونه بين البياض والسواد، وهو الأسمر.
📝 لغوی تحقیق: "آدم" اس رنگ کو کہتے ہیں جو سفیدی اور سیاہی کے درمیان ہو، یعنی گندمی یا سانولا رنگ۔
وأعسرُ يَسَرٌ: هو مَن يعمل بيديه جميعًا سواء.
📝 لغوی تحقیق: "أعسر یسر" اس شخص کو کہتے ہیں جو اپنے دونوں ہاتھوں سے یکساں کام کر لیتا ہو (یعنی دونوں ہاتھ چلتے ہوں)۔
والبُرْد القِطْري: نسبة إلى قَطَر، والأصل أنَّ النسبة إليها بفتح القاف والطاء، ولكن العرب يخففونها فيكسرون القاف ويسكنون الطاء. وهو ضرب من البُرود فيها حُمرة.
📝 لغوی تحقیق: "بُرد قِطری" کی نسبت "قطر" علاقے کی طرف ہے۔ اصل قاعدے کے مطابق تو اس کی نسبت قاف اور طاء کی زبر (قَطَری) کے ساتھ ہونی چاہیے، لیکن عرب تخفیف کرتے ہوئے قاف کے نیچے زیر اور طاء کو ساکن (قِطری) پڑھتے ہیں۔ یہ چادروں کی ایک قسم ہے جس میں سرخی ہوتی ہے۔