المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
54. كانت بيعة عثمان سنة أربع وعشرين فى عشرة المحرم .
سیدنا عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیعت سن چوبیس ہجری میں دس محرم کو ہوئی
حدیث نمبر: 4587
حَدَّثَنَا أبو النضر الفقيه بالطابَرَان، حَدَّثَنَا علي بن عبد العزيز، حَدَّثَنَا عُبيد الله بن عُمر بن مَيسرة، حَدَّثَنَا القاسم بن الحَكَم بن أوس الأنصاري، حدثني أبو عُبادة الزُّرَقي، حدثني زيد بن أسلم، عن أبيه، قال: شهدتُ عثمان يوم حُصِرَ في موضع الجنائز، فقال: أنشُدُك الله يا طلحةُ، أتذكر يومَ كنتُ أنا وأنت مع رسول الله ﷺ في مكانِ كذا وكذا، وليس معه من أصحابه غيري وغيرُك، فقال لك:"يا طلحةُ، إنه ليس من نبيٍّ إلَّا وله رَفيقٌ من أمّتِه معه في الجنة، وإنَّ عثمانَ رفيقي ومعي في الجنة"؟ فقال طلحة: اللهمَّ نعم، قال: ثم انصرف طلحةُ (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4537 - قاسم هذا قال البخاري لا يصح حديثه
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4537 - قاسم هذا قال البخاري لا يصح حديثه
سیدنا زید بن اسلم اپنے والد کا بیان نقل کرتے ہیں کہ جس دن سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا جنائز کے مقام پر محاصرہ کیا گیا، اس دن میں ان کے پاس گیا تو انہوں نے مجھے اللہ کی قسم دے کر فرمایا: اے طلحہ! کیا تمہیں وہ دن یاد ہے؟ جب فلاں فلاں مقام پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ صرف تو تھا اور میں تھا۔ اور اپنے سوا دوسرا کوئی صحابی اس وقت وہاں موجود نہ تھا۔ اور آپ علیہ السلام نے تمہیں فرمایا تھا: اے طلحہ! ہر نبی کا اس کی امت میں سے ایک دوست ہوتا ہے جو کہ جنت میں بھی اس کے ساتھ ہی ہو گا، اور بے شک میرا دوست عثمان ہے اور یہ جنت میں بھی میرے ساتھ ہو گا۔ سیدنا طلحہ نے جواب دیا: جی ہاں۔ پھر سیدنا طلحہ واپس چلے گئے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4587]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4587 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده ضعيف جدًّا من أجل أبي عُبادة الزُّرَقي - وهو عيسى بن عبد الرحمن - فهو متروك الحديث، والقاسم بن الحكم ليِّن الحديث.
⚖️ درجۂ حدیث: (1) اس کی سند سخت ضعیف (ضعیف جداً) ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اس کی وجہ ابو عبادہ الزرقی (عیسیٰ بن عبد الرحمن) ہے، کیونکہ وہ متروک الحدیث ہے، اور (دوسرا راوی) القاسم بن الحکم ”لین الحدیث“ (کمزور) ہے۔
وأخرجه عبد الله بن أحمد بن حنبل في زياداته على "المسند" 1/ (552) عن عُبيد الله بن عمر القواريري، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے عبد اللہ بن احمد بن حنبل نے ”المسند“ کے زوائد (1/ 552) میں عبید اللہ بن عمر القواریری سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔