المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
55. ذكر بعض خصوصيات عثمان - رضى الله عنه - .
سیدنا عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بعض خصوصیات کا بیان
حدیث نمبر: 4588
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا يحيى بن محمد بن يحيى، حَدَّثَنَا مُسدَّد، حَدَّثَنَا المُعتمِر بن سليمان، قال: سمعت كُليب بن وائل، قال: حدثني حَبيب بن أبي مُلَيكة قال: جاء رجلٌ إلى ابن عمر، فقال: أَشَهِدَ عثمانُ بيعة الرِّضْوان؟ قال: لا، قال: فشَهِدَ بدرًا، قال: لا، قال فكان ممَّن استزلَّه الشيطانُ؟ قال: نعم، فقام الرجل: فقال له بعضُ القوم: إِنَّ هذا يَزعُم الآن أنك وقعتَ في عثمان، قال: كذلك يقول؟ قال: رُدُّوا عليَّ الرجلَ، فقال: عَقَلتَ ما قلتُ لك؟ قال: نعم، سألتُك هل شهدَ عثمانُ بيعةَ الرِّضوان؟ فقلت: لا، وسألتُك هل شهِد بدرًا؟ فقلت: لا، وسألتك هل كان ممَّن استزلَّه الشيطانُ؟ فقلت: نعم، فقال: أما بيعةُ الرِّضْوان، فإِنَّ رسولَ الله ﷺ قام فقال:"إنَّ عثمانَ انطلقَ في حاجةِ اللهِ وحاجةِ رسوله، وإني أُبايعُ له" فضرب إحدى يدَيه على الأخرى، وأما يوم بدرٍ، فإنَّ نبيَّ الله ﷺ قام فقال:"إنَّ عثمان انطَلَق في حاجةِ اللهِ وحاجةِ رسولِه" فضربَ له بسهمٍ، ولم يضربْ لأحدٍ غابَ غيرَه، وأما الذين تَولَّوا يوم التقى الجَمْعَانِ ﴿إِنَّمَا اسْتَزَلَّهُمُ الشَّيْطَانُ بِبَعْضِ مَا كَسَبُوا وَلَقَدْ عَفَا اللَّهُ عَنْهُمْ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ حَلِيمٌ﴾ [آل عمران: 155] (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4538 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4538 - صحيح
سیدنا حبیب ابن ابی ملیکہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک آدمی سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور بولا: کیا عثمان بیعت رضوان میں شریک تھے؟ انہوں نے کہا: جی نہیں۔ اس نے کہا: وہ جنگ بدر میں شریک ہوئے تھے؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ اس نے کہا: کیا وہ ان لوگوں میں سے ہیں جن کو شیطان نے اپنے بہکاوے میں لے لیا تھا؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ پھر وہ شخص اٹھ کر چلا گیا، ایک آدمی نے کہا: اس نے یہ سمجھا ہے کہ آپ بھی سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے مخالف ہیں۔ آپ نے فرمایا: وہ ایسے ہی کہہ رہا ہو گا۔ فرمایا: اس آدمی کو میرے پاس واپس بلاؤ (جب وہ واپس آیا تو) آپ نے فرمایا: میں نے تجھے جو کچھ کہا تھا تم وہ سمجھ گئے تھے؟ اس نے کہا: جی ہاں۔ میں نے آپ سے پوچھا تھا کہ کیا سیدنا عثمان بیعت رضوان میں شریک تھے؟ آپ نے کہا: جی نہیں۔ میں نے آپ سے پوچھا کہ کیا وہ جنگ بدر میں شریک ہوئے تھے؟ آپ نے کہا: نہیں۔ میں نے آپ سے پوچھا کہ کیا وہ ان لوگوں میں سے تھے جن کو شیطان نے اپنے بہکاوے میں لے لیا تھا؟ آپ نے کہا: جی ہاں۔ آپ نے فرمایا: جہاں تک بیعت رضوان کا تعلق ہے تو (اصل بات یہ ہے کہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا ” عثمان اللہ اور اس کے رسول کے کام سے گئے ہوئے ہیں۔ تو آپ نے ان کے لئے حصہ بھی رکھا۔ حالانکہ آپ کے علاوہ دوسرے ایسے کسی بھی آدمی کے لئے آپ نے حصہ نہیں رکھا جو وہاں غیر حاضر تھا۔ اور باقی رہی بات جنگ بدر کے موقع پر غیر حاضری کی (تو ان کو معاف کر دیا گیا تھا جیسا کہ قرآن کریم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے) اِنَّمَا اسْتَزَ لَّھُمُ الشَّیْطَانُ بِبَعْضِ مَا کَسَبُوا (اٰل عمران: 155) ” انہیں شیطان ہی نے لغزش دی ان کے بعض اعمال کے باعث اور بے شک اللہ نے انہیں معاف فرما دیا: بے شک اللہ بخشنے والا، حلم والا ہے “ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4588]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4588 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح. مسدَّد: هو ابن مُسَرْهَد.
⚖️ درجۂ حدیث: (1) اس کی سند صحیح ہے۔ 📝 نوٹ / توضیح: مسدد سے مراد ابن مسرہد ہیں۔
وأخرجه ابن حبان (6909) من طريق زائدة بن قدامة، عن كليب بن وائل، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن حبان (رقم: 6909) نے زائدہ بن قدامہ کے طریق سے، انہوں نے کلیب بن وائل سے اسی طرح روایت کیا ہے۔
وأخرجه مختصرًا أبو داود (2726) من طريق أبي إسحاق الفزاري، عن كليب بن وائل، عن هانئ بن قيس، عن حبيب بن أبي مليكة، به. بذكر تخلّف عثمان عن بدر، وبزيادة راوٍ بين كليب بن وائل وبين حبيب بن أبي مليكة، لكنه صرَّح بسماعه لهذا الخبر من حبيب عند المصنّف وغيره، فقال الضياء في "المختارة" بإثر 13 / (261): في هذه الرواية دليل أنَّ كليب بن وائل قد سمعه من حبيب بن أبي مليكة، وسمعه من هانئ بن قيس عنه، فكان يرويه بالطريقتين.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابو داود (رقم: 2726) نے مختصراً روایت کیا ہے ابو اسحاق الفزاری کے طریق سے، انہوں نے کلیب بن وائل سے، انہوں نے ہانی بن قیس سے، انہوں نے حبیب بن ابی ملیکہ سے اسی طرح۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اس میں غزوہ بدر سے عثمان رضی اللہ عنہ کے پیچھے رہ جانے کا ذکر ہے، اور اس سند میں کلیب بن وائل اور حبیب بن ابی ملیکہ کے درمیان ایک راوی (ہانی بن قیس) کا اضافہ ہے۔ لیکن مصنف وغیرہ کے ہاں انہوں نے حبیب سے اپنے سماع کی تصریح کی ہے۔ چنانچہ ضیاء المقدسی نے ”المختارۃ“ (13/ 261) کے بعد فرمایا: اس روایت میں دلیل ہے کہ کلیب بن وائل نے اسے حبیب بن ابی ملیکہ سے بھی سنا ہے اور ہانی بن قیس کے واسطے سے بھی سنا ہے، لہٰذا وہ دونوں طریقوں سے روایت کرتے تھے۔
وأخرجه بنحوه أحمد 10/ (5772) و (6011)، والبخاري (3130) و (3698) و (4066)، والترمذي (3706) من طريق عثمان بن عبد الله بن موهب عن ابن عمر.
📖 حوالہ / مصدر: اسے اسی طرح امام احمد (10/ 5772 اور 6011)، بخاری (3130، 3698، 4066) اور ترمذی (3706) نے عثمان بن عبد اللہ بن موہب کے طریق سے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے۔