🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
58. ذكر مقتل أمير المؤمنين عثمان بن عفان رضي الله - تعالى - عنه .
ذِكْرُ مَقْتَلِ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ - تَعَالَى - عَنْهُ .
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4595
فحدَّثنا أبو عبد الله محمد بن أحمد الأصبهاني، حَدَّثَنَا الحسن (3) بن الجَهْم، حَدَّثَنَا الحسين بن الفَرَج، حَدَّثَنَا محمد بن عُمر، أنه قال: اسمُ أبي سَرْح الحُسام بن الحارث بن حُبَيب بن جَذيمة (4) . قال الحاكم: ولمَّا استولى عبدُ الله بن سَعْد على مصر أعقَبَ، ومنهم عمرو بن سَوَّاد السَّرْحيُّ صاحبُ عبد الله بن وهب. وأما الوليد بن عُقبة بن أبي مُعَيط، فإنه وُلد في حياة رسول الله ﷺ وحُمِل إليه، فحُرم بركتَه ﷺ:
محمد بن عمر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ابوسرح کا نام الحسام بن الحارث بن حبیب بن خزیمہ ہے۔ امام حاکم فرماتے ہیں: جب عبداللہ بن سعد کو مصر کا حاکم بنایا گیا تو وہ واپس آ گئے اور ان میں عمرو بن سواد السرحی، عبداللہ بن وہب کا ساتھ بھی تھا اور ولید بن عقبہ بن ابی معیط، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ میں پیدا ہو چکے تھے، ان کو آپ کی خدمت میں پیش کیا گیا لیکن یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی برکت سے محروم رہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4595]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4595 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) تحرَّف في (ز) و (ب) إلى: الحسين. وسقط الاسم برمته من (ص) و (م)، وهذا الإسناد معروف إلى الواقدي، وقد أكثر المصنّف من النقل عن الواقدي بواسطة، وسُمّي على الصواب في جميع ذلك.
📝 نوٹ / توضیح: (3) نسخہ (ز) اور (ب) میں نام تحریف ہو کر ”الحسین“ بن گیا ہے، اور نسخہ (ص) اور (م) سے پورا نام ہی گر گیا ہے۔ یہ سند واقدی تک معروف ہے، اور مصنف نے واقدی سے بالواسطہ کثرت سے نقل کیا ہے اور وہاں ہر جگہ نام درست لکھا ہے۔
(4) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: خُزَيمة، بالخاء المعجمة والزاي، وإنما هو بالجيم والذال المعجمة، كما في مصادر الأنساب، وضبطه النووي في "تهذيب الأسماء واللغات" ص 194 (طبعة الرسالة العالمية) في ترجمة عبد الله بن سعد بن أبي سَرْح.
📝 نوٹ / توضیح: (4) قلمی نسخوں میں یہ نام تحریف ہو کر ”خُزیمہ“ (خاء اور زاء کے ساتھ) بن گیا ہے، جبکہ درست ”جذیمہ“ (جیم اور ذال کے ساتھ) ہے جیسا کہ انساب کے مصادر میں ہے۔ امام نووی نے ”تہذیب الاسماء واللغات“ (صفحہ 194) میں عبد اللہ بن سعد بن ابی سرح کے ترجمے میں اسے ضبط کیا ہے۔