🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
79. الدفع عن عبد الله بن عمر .
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کا دفاع
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4648
فحدَّثنا بصحَّة حاله فيه أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفّار، حدثنا أحمد بن مَهدي بن رُستُم، حدثنا بِشْر بن شعيب بن أبي حمزة القرشي، حدثني أبي، عن الزُّهْري، أخبرني حمزة بن عبد الله بن عمر: أنه بينما هو جالس مع عبد الله بن عمر، إذ جاءه رجلٌ من أهل العراق، فقال: يا أبا عبد الرحمن، إني والله لقد حَرَصتُ أن اتَّسَمتُ بسَمْتِك، وأقتدي بك في أمر فُرقةِ الناس، وأعتزلُ الشرَّ ما استطعتُ، وإني أقرأ آيةً من كتاب الله مُحكَمةً قد أخَذَت بقلبي، فأخبرني عنها، أرأيتَ قولَ الله ﷿: ﴿وَإِنْ طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا فَإِنْ بَغَتْ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى فَقَاتِلُوا الَّتِي تَبْغِي حَتَّى تَفِيءَ إِلَى أَمْرِ اللَّهِ فَإِنْ فَاءَتْ فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا بِالْعَدْلِ وَأَقْسِطُوا إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ﴾ [الحجرات: 9] ، أخبِرْني عن هذه الآية؟ فقال عبد الله: ما لكَ ولذلك؟ انصرِفْ عني، فانطَلَقَ حتى تَوارَى عنا سَوادُه، أقبلَ علينا عبدُ الله بن عمر، فقال: ما وجدتُ في نفسي في شيء من أمر هذه الآية، ما وجدتُ في نفسي أني لم أُقاتِل هذه الفئةَ الباغيةَ كما أمرني الله ﷿ (1) . هذا باب كبيرٌ قد رواه عن عبد الله بن عمر جماعةٌ من كبار التابعين، وإنما قدّمتُ حديثَ شُعيب بن أبي حمزة عن الزُّهْري، واقتصرتُ عليه، لأنه صحيح على شرط الشيخين. وأما ما ذُكر من إمساك أسامة بن زيد عن القتال:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4598 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا حمزہ بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک دفعہ وہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، ان کے پاس اہل عراق میں سے ایک آدمی آیا اور بولا: اے ابوعبدالرحمن! خدا کی قسم! میری یہ خواہش ہے کہ لوگوں میں اس تفرقہ کے وقت میں تمہاری اقتداء کروں اور تمہارے راستے کو اپناؤں۔ اور حتی المقدور میں شر سے بچ کر رہوں اور میں نے قرآن کریم کی ایک محکم آیت میں پڑھا ہے اور اس کو اپنے دل سے اپنایا ہے۔ چنانچہ اس سلسلہ میں آپ میری راہنمائی فرمائیں، آپ کا اس آیت طیبہ کے بارے میں کیا خیال ہے؟ وَاِنْ طَآئِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اقْتَتَلُوْا فَاَصْلِحُوْا بَیْنَھُمَا فَاِنْ بَغَتْ اِحْدَاھُمَا عَلَی الاُخْرٰی فَقَاتِلُوا الَّتِیْ تَبْغِیْ حَتّٰی تَفِیٓئَ اِلٰی اَمْرِاللّٰہِ فَاِنْ فَآءَتْ فَاَصْلِحُوْا بَیْنَھُمَا بِالْعَدْلِ وَاَقْسِطُوْا اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ (الحجرات: 9) اور اگر مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں لڑیں تو ان میں صلح کراؤ پھر اگر ایک دوسرے پر زیادتی کرے تو اس زیادتی والے سے لڑو یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف پلٹ آئے تو انصاف کے ساتھ ان میں صلح کرا دو اور عدل کرو بے شک عدل والے اللہ کو پیارے ہیں آپ مجھے اس آیت کے بارے میں بتایئے! تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے وجہ پوچھی (اور فرمایا) تو یہاں سے پلٹ جا۔ تو وہ شخص واپس چلا گیا حتی کہ وہ ہماری نگاہوں سے اوجھل ہو گیا۔ تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ہماری طرف متوجہ ہو کر بولے: اس آیت کے حوالے سے میں نے اپنی سمجھ کے مطابق جو فیصلہ کیا ہے، وہ یہ ہے کہ میں اس باغی گروہ سے جہاد نہیں کروں گا جیسا کہ میرے اللہ نے مجھے حکم دیا ہے۔ ٭٭ یہ باب بہت وسیع ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرنے والے کبار تابعین کی پوری ایک جماعت ہے۔ تاہم میں نے شعیب بن ابی حمزہ کی زہری سے روایت کردہ حدیث مقدم کی ہے اور صرف اسی پر اکتفا کیا ہے کیونکہ وہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے۔ نوٹ: سیدنا اسامہ بن زید کے قتال میں شریک نہ ہونے کا ذکر (درج ذیل ہے) [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4648]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4648 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح، وهو مكرر ما تقدم برقم (3764).
⚖️ درجۂ حدیث: (1) اس کی سند صحیح ہے، اور یہ نمبر (3764) کا تکرار ہے۔