المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
6. ذكر اختلاف الرواة والألفاظ فى حديث القلتين
حدیثِ قلتین میں روایات اور الفاظ کے اختلاف کا بیان۔
حدیث نمبر: 466
ما حدَّثَنيهِ أبو علي محمد بن علي الإسفرايِني من أصل كتابه - وأنا سألتُه - حدثنا علي بن عبد الله بن مُبشِّر الواسطي، حدثنا شعيب بن أيوب، حدثنا أبو أسامة، حدثنا الوليد بن كثير، عن محمد بن جعفر بن الزُّبير ومحمد بن عبَّاد بن جعفر، عن عبد الله بن عبد الله بن عمر، عن أبيه قال: سُئِلَ رسولُ الله ﷺ عن الماء وما يَنُوبُه من الدوابِّ والسِّباع، فقال النبي ﷺ:"إذا كان الماء قُلَّتينِ، لم يَحمِل الخَبَث" (3) . وقد صحَّ وثَبَتَ بهذه الرواية صحةُ الحديث، وظهر أنَّ أبا أسامة ساق الحديث عن الوليد بن كثير عنهما جميعًا، فإنَّ شعيب بن أيوب الصَّرِيفيني ثقة مأمون، وكذلك الطريق إليه. وقد تابع الوليدَ بنَ كثير على روايته عن محمد بن جعفر بن الزُّبير محمدُ بنُ إسحاق بن يَسَار القرشي:
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس پانی اور جانوروں کے اس پر آنے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب پانی دو مٹکوں (قلتین) کے برابر ہو تو وہ ناپاک نہیں ہوتا۔“
اس روایت سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ابو اسامہ نے یہ حدیث ولید بن کثیر کے واسطے سے ان دونوں (محمد بن جعفر اور محمد بن عباد) سے سنی تھی، کیونکہ شعیب بن ایوب ثقہ اور مأمون راوی ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 466]
اس روایت سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ابو اسامہ نے یہ حدیث ولید بن کثیر کے واسطے سے ان دونوں (محمد بن جعفر اور محمد بن عباد) سے سنی تھی، کیونکہ شعیب بن ایوب ثقہ اور مأمون راوی ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 466]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 466 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) إسناده قوي من أجل شعيب بن أيوب.
⚖️ درجۂ حدیث: شعیب بن ایوب کی موجودگی کی وجہ سے اس کی سند قوی ہے۔