🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
6. ذكر اختلاف الرواة والألفاظ فى حديث القلتين
حدیثِ قلتین میں روایات اور الفاظ کے اختلاف کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 467
حدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن خالد بن خَلِيٍّ الحمصي، حدثنا أحمد بن خالد الوَهْبي، حدثنا محمد بن إسحاق. وأخبرنا عبد الله بن الحسين القاضي بمَرْو، حدثنا الحارث بن أبي أسامة، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا محمد بن إسحاق، عن محمد بن جعفر بن الزُّبير، عن عُبيد الله بن عبد الله بن عمر، عن ابن عمر قال: سمعت النبي ﷺ وسُئِلَ عن الماء يكون بأرض الفَلَاة وما يَنوبُه من الدوابِّ والسِّباع، فقال رسول الله ﷺ:"إذا كان الماءُ قَدْرَ قُلَّتينِ، لم يَحمِل الخَبَثَ" (1) . وهكذا رواه سفيان الثَّوْري وزائدةُ بن قُدَامة وحَمَّاد بن سَلَمة وإبراهيم بن سعد وعبد الله بن المبارَك ويزيد بن زُرَيع وسعيد بن زيد أخو حماد بن زيد وأبو معاوية. وعَبْدة بن سليمان، قد حدَّث به عبدُ الله (2) ، عن عُبيد الله بن عبد الله وعَبد الله جميعًا. وبصِحَّة ما ذكرتُه:
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس پانی کے بارے میں پوچھا گیا جو چٹیل میدان میں ہو اور اس پر درندے آتے ہوں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب پانی دو مٹکوں (قلتین) کی مقدار کے برابر ہو، تو وہ ناپاک نہیں ہوتا۔
اس حدیث کو سفیان ثوری، زائدہ، حماد بن سلمہ اور ابن مبارک جیسے کبار ائمہ نے بھی محمد بن اسحاق کے واسطے سے روایت کیا ہے، جو اس کی صحت کی مزید دلیل ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 467]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 467 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، وقد صرَّح محمد بن إسحاق بالتحديث عند الدارقطني في "السنن" (17).
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث صحیح ہے اور یہ سند "حسن" درجے کی ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: امام محمد بن اسحاق نے امام دارقطنی کی "السنن" (17) میں سماع (براہ راست سننے) کی تصریح کر دی ہے، جس سے ان کی تدلیس کا شبہ دور ہو گیا ہے۔
وأخرجه أحمد 8/ (4803)، وابن ماجه (517) من طريق يزيد بن هارون، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد 8/ (4803) اور ابن ماجہ (517) نے یزید بن ہارون کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 8/ (4605) و 9/ (4961)، والترمذي (67) من طريق عبدة بن سليمان، عن محمد بن إسحاق، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد 8/ (4605) و 9/ (4961) اور امام ترمذی (67) نے عبدہ بن سلیمان کے واسطے سے، انہوں نے محمد بن اسحاق سے، اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
(2) يعني ابن المبارك، وروايته عند ابن ماجه (517 م) والطبري في مسند ابن عباس من "تهذيب الآثار" 2/ 732 عن ابن إسحاق، عن محمد بن جعفر بن الزبير عن عُبيد الله بن عبد الله بن عمر، به. ولم نقف على روايته عن عَبد الله مكبَّرًا.
🔍 فنی نکتہ / علّت: یہاں "عبداللہ" سے مراد ابن المبارک ہیں؛ ان کی روایت ابن ماجہ (517 م) اور امام طبری کی "تہذیب الآثار" (مسند ابن عباس) 2/ 732 میں محمد بن اسحاق عن محمد بن جعفر بن زبیر عن عُبید اللہ (تصغیر کے ساتھ) بن عبداللہ بن عمر کے طریق سے مروی ہے۔ ہمیں ان کی کوئی ایسی روایت نہیں ملی جس میں "عَبد اللہ" (بغیر تصغیر کے) مذکور ہو۔