🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
103. أولكم واردا على الحوض ، أولكم إسلاما .
تم میں سب سے پہلے حوضِ کوثر پر آنے والا وہ ہوگا جو تم میں سب سے پہلے اسلام لایا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4712
حدثنا أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيه حدثنا محمد بن أحمد بن النضر الأزدي، قال: حدثني جدِّي معاوية بن عمرو، حدثنا زائدة، حدثنا عبد الله بن محمد بن عَقِيل، عن جابر بن عبد الله، قال: مَشَيتُ مع النبي ﷺ إلى امرأةٍ، فَذَبَحَت لنا شاةً، فقال رسولٌ الله ﷺ:"لَيدخُلَنَّ رجلٌ من أهل الجنة"، فدخل أبو بكر، ثم قال:"ليدخُلَنّ رجلٌ من أهل الجنة" فدخل عُمر، ثم قال:"ليدخُلَنّ رجلٌ من أهل الجنة، اللهم إن شئتَ فاجعله عليًّا" قال: فدخل عليُّ بن أبي طالب (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4661 - صحيح
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک خاتون کے پاس گیا، اس نے ہماری خاطر ایک بکری ذبح کی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (ابھی عنقریب) تمہارے پاس ایک جنتی آدمی آئے گا چنانچہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (ابھی) تمہارے پاس ایک جنتی آدمی آئے گا چنانچہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: (ابھی) تمہارے پاس ایک جنتی آدمی آئے گا، اے اللہ! اگر تو چاہے تو اس کو علی بنا دے (سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما) فرماتے ہیں: چنانچہ (اب کی بار) سیدنا علی رضی اللہ عنہ ہی تشریف لائے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4712]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4712 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حديث حسن كما قال الذهبي في "سير أعلام النبلاء" 10/ 445، وهذا إسناد حسن في المتابعات والشواهد من أجل عبد الله بن عَقيل، وقد روي مثله من وجه آخر عن جابر حسن في المتابعات والشواهد كذلك.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث "حسن" ہے جیسا کہ ذہبی نے "سیر اعلام النبلاء" (10/ 445) میں کہا ہے۔ اور یہ سند عبداللہ بن عقیل کی وجہ سے متابعات اور شواہد میں "حسن" ہے۔ جابر رضی اللہ عنہ سے دوسرے طریق سے بھی اس کی مثل مروی ہے جو متابعات اور شواہد میں حسن ہے۔
وأخرجه أحمد 23 / (15162) عن أبي سعيد مولى بني هاشم، عن زائدة، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (23/ 15162) نے ابو سعید مولیٰ بنی ہاشم سے، انہوں نے زائدہ سے، اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 22 / (14550) و 23/ (14838) و (15065) من طرق عن عبد الله بن محمد بن عَقيل، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (22/ 14550 اور 23/ 14838، 15065) نے عبداللہ بن محمد بن عقیل کے مختلف طرق سے روایت کیا ہے۔
وله طريق أخرى عند ابن عساكر في "تاريخ دمشق" 42/ 244 - 245 من طريق أبي صالح عبد الله بن صالح كاتب الليث، عن عبد الله بن لَهيعة، عن محمد بن المنكدر، عن جابر بن عبد الله. وهذا إسناد حسن في المتابعات والشواهد من أجل عبد الله بن صالح وشيخه ابن لهيعة، فهما ليسا بذاك، لكن تقوى روايتُهما برواية ابن عَقيل، وتتقوى رواية ابن عقيل بروايتهما.
📖 حوالہ / مصدر: اس کا ایک اور طریق ابن عساکر کی "تاریخ دمشق" (42/ 244-245) میں ہے جو ابو صالح عبداللہ بن صالح کاتب اللیث کے طریق سے، وہ عبداللہ بن لہیعہ سے، وہ محمد بن منکدر سے اور وہ جابر بن عبداللہ سے روایت کرتے ہیں۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: یہ سند متابعات اور شواہد میں "حسن" ہے۔ اس میں عبداللہ بن صالح اور ان کے شیخ ابن لہیعہ ہیں جو کہ قوی نہیں ہیں (لیسا بذاک)، لیکن ان کی روایت ابن عقیل کی روایت سے تقویت پاتی ہے، اور ابن عقیل کی روایت ان سے قوی ہو جاتی ہے۔
ويشهد لبعضه في ذكر أبي بكر وحده ما سلف من حديث ابن مسعود برقم (4492)، وفي إسناده ضعفٌ.
🧩 متابعات و شواہد: صرف ابوبکر کے ذکر میں اس کے بعض حصے کی تائید وہ حدیث کرتی ہے جو ابن مسعود سے نمبر (4492) پر گزر چکی ہے، اور اس کی سند میں "ضعف" ہے۔
وقد صحَّ في بِشارة أبي بكر وعمر وعلي ﵃ بدخول الجنة غيرُ ما حديث على الاجتماع والافتراق، ومن ذلك حديث سعيد بن زيد عند أحمد 3 / (1664)، والنسائي (8134)، وابن حبان (6996)، وذكر معهم عثمان بن عفان وطلحة بن عُبيد الله والزبير بن العوام وعبد الرحمن بن عوف وسعد بن أبي وقاص.
🧩 متابعات و شواہد: ابوبکر، عمر اور علی رضی اللہ عنہم کے جنت میں داخلے کی بشارت کے بارے میں کئی صحیح احادیث ثابت ہیں (قطع نظر اس کے کہ وہ اکٹھے ذکر ہوں یا الگ الگ)۔ ان میں سے سعید بن زید کی حدیث ہے جو احمد (3/ 1664)، نسائی (8134) اور ابن حبان (6996) میں ہے، جس میں ان کے ساتھ عثمان بن عفان، طلحہ بن عبیداللہ، زبیر بن عوام، عبدالرحمن بن عوف اور سعد بن ابی وقاص کا بھی ذکر ہے۔