🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
106. مسارته - صلى الله عليه وآله وسلم - عند وفاة مع على .
وفات کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ انس و مسرت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4722
أخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا عبد الله بن محمد بن أبي شَيْبة؛ قال عبد الله بن أحمد: وقد سمعتُه أنا من عبد الله بن محمد بن أبي شَيْبة، قال: حدثنا جَرير بن عبد الحميد، عن مُغيرة، عن أم (1) موسى، عن أم سلمة قالت: والذي أحلِفُ به إن كان عليٌّ لأقربَ الناسِ عهدًا برسولِ الله ﷺ، عُدْنا رسولَ الله ﷺ غَداةً وهو يقول:"جاء عليٌّ؟ جاء عليٌّ؟" مرارًا، فقالت فاطمةُ: كأنك بعثتَه في حاجةٍ، قالت: فجاء بعدُ، قالت أم سلمة: فظننتُ أنَّ له إليه حاجةً فخرجْنا من البيت، فقعدنا عند الباب وكنتُ مِن أدناهم إلى البابِ، فأكبَّ عليه رسولُ الله ﷺ، وجعل يُسارِرُه ويُناجِيه، ثم قُبض رسولُ الله ﷺ من يومِه ذلك، فكان عليٌّ أقربَ الناسِ عهدًا (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4671 - صحيح
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: اس ذات کی قسم جس کی میں قسم کھاتی ہوں، سیدنا علی رضی اللہ عنہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سب سے زیادہ قریب تھے، ہم ایک دن حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی عیادت کے لئے آئی ہوئی تھیں، آپ بار بار پوچھ رہے تھے: علی آ گئے؟ علی آ گئے؟ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا بولیں: یوں لگتا ہے جیسے آپ نے ان کو کسی کام سے بھیجا ہے، آپ فرماتی ہیں: کچھ دیر بعد سیدنا علی رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے، سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں سمجھ گئی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ان سے کوئی ضروری کام ہے۔ چنانچہ ہم حجرہ سے باہر نکل گئیں، لیکن بالکل دروازہ کے قریب ہی بیٹھ گئیں، اور میں تو سب سے زیادہ دروازے کے قریب تھی، (میں نے دیکھا کہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر جھک کر سرگوشی میں کوئی راز کی بات کہ رہے تھے، پھر اسی دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہو گیا، چنانچہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سب سے زیادہ قریبی تھے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4722]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4722 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) تحرَّفت في النسخ الخطية إلى: أبي، والتصويب من "مسند أحمد" نفسه 44/ (26565)، و"فضائل" الصحابة" لأحمد (1171)، ومن سائر مصادر تخريج الخبر.
📝 نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں یہ لفظ تحریف ہو کر "ابی" بن گیا ہے۔ اس کی تصحیح "مسند احمد" (44/ 26565)، احمد کی "فضائل الصحابہ" (1171) اور اس خبر کی تخریج کے دیگر تمام مصادر سے کی گئی ہے۔
(2) إسناده حسن إن شاء الله من أجل أم موسى، وهي سُرِّيّة علي بن أبي طالب، وجاء في "تهذيب الآثار" في قسم مسند عليّ ص 168 أنها أم ولد الحسن بن عليّ، وأنها أم امرأة المغيرة بن مِقسَم، ووثقها العجلي، وقال الدارقطني: حديثها مستقيم يخرّج حديثها اعتبارًا. وقد روت عن عليٍّ وأم سلمة وعائشة والحسن بن علي، وصحَّح حديثَها الطبري في "تهذيب الآثار"، ووثقها الهيثمي.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند ان شاء اللہ "حسن" ہے۔ 🔍 تحقیق راوی: اس کی وجہ "ام موسیٰ" ہیں جو علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی لونڈی (سریہ) تھیں۔ "تہذیب الآثار" (مسند علی، ص 168) میں آیا ہے کہ وہ حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی "ام ولد" تھیں اور مغیرہ بن مقسم کی بیوی کی والدہ تھیں۔ عجلی نے ان کی توثیق کی ہے اور دارقطنی نے فرمایا: "اس کی حدیث مستقیم ہے، اعتبار (تائید) کے طور پر تخریج کی جا سکتی ہے۔" انہوں نے حضرت علی، ام سلمہ، عائشہ اور حسن بن علی سے روایت کی ہے۔ طبری نے "تہذیب الآثار" میں ان کی حدیث کو صحیح کہا اور ہیثمی نے ان کی توثیق کی۔
وهو في "مسند أحمد" 44/ (26565).
📖 حوالہ / مصدر: یہ "مسند احمد" (44/ 26565) میں موجود ہے۔
وأخرجه النسائي (7071) و (8487) عن محمد بن قدامة، و (8486) عن علي بن حُجر، كلاهما عن جَرير بن عبد الحميد بهذا الإسناد. ولفظ علي بن حجر مختصرٌ: أن أحدث الناس عهدًا برسول الله ﷺ عليٌّ.
📖 حوالہ / مصدر: اسے نسائی (7071، 8487) نے محمد بن قدامہ سے، اور (8486) میں علی بن حجر سے، دونوں نے جریر بن عبدالحمید سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ 🧾 تفصیلِ روایت: علی بن حجر کے الفاظ مختصر ہیں کہ: "رسول اللہ ﷺ سے سب سے آخری وقت میں ملنے والے (احدث الناس عہداً) علی رضی اللہ عنہ ہیں۔"
قال الحافظ ابن حجر في "فتح الباري" 12/ 759: الحديث عن عائشة أثبت من هذا (يعني أنَّ رسول الله ﷺ قُبض وهي مُسنِدتُه إلى صدرها) ولعلَّها أرادت آخر الرجال به عهدًا.
📌 اہم نکتہ: حافظ ابن حجر نے "فتح الباری" (12/ 759) میں فرمایا: "عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث اس سے زیادہ ثابت ہے (یعنی رسول اللہ ﷺ کی وفات اس حال میں ہوئی کہ آپ کا سر مبارک عائشہ کے سینے سے لگا ہوا تھا)۔ شاید ان (ام موسیٰ) کی مراد یہ ہو کہ مردوں میں سب سے آخری عہد علی کا تھا۔"