المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
109. وجه تلقيب على بأبي تراب
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو ابو تراب کا لقب دیے جانے کی وجہ
حدیث نمبر: 4729
حدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا أبو مسلم، حدثنا إبراهيم بن بشّار، حدثنا سفيان، عن عبد الملك بن أَعْيَن، عن أبي حرب بن أبي الأسود الدِّيْلي، عن أبيه، عن علي، قال: أتاني عبدُ الله بن سَلَام وقد وَضَعتُ رِجْلي في الغَرْزِ وأنا أُريد العراقَ، فقال: لا تأتي (1) العراقَ، فإنك إن أتيتَه أصابكَ به ذُبابُ السَّيف، قال عليُّ: وايْمُ اللهِ، لقد قالها لي رسولُ الله ﷺ قَبلَك. قال أبو الأسود: فقلتُ في نفسي: يا للهِ! ما رأيتُ كاليوم، رجلٌ محاربٌ يُحدِّث الناسَ بمثلِ هذا (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4678 - ابن بشار ذو مناكير وابن أعين غير مرضي
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4678 - ابن بشار ذو مناكير وابن أعين غير مرضي
ابوالاسود دیلی سے روایت ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: میرے پاس عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ تشریف لائے، اس وقت میں عراق کی طرف روانگی کے لئے سواری پر سوار ہو چکا تھا، انہوں نے کہا: آپ عراق تشریف نہ لے جایئے۔ اس لئے کہ اگر آپ وہاں گئے تو جنگ میں مبتلا ہو جاؤ گے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: خدا کی قسم! تم سے پہلے یہ بات خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی مجھ سے فرما چکے ہیں۔ سیدنا ابوالاسود فرماتے ہیں: میں نے اپنے دل ہی دل میں کہا: یا خدایا! میں نے اس جیسا جنگجو لوگوں سے یوں باتیں کرتا آج تک نہیں دیکھا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن انہوں نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4729]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4729 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) كذا في أصولنا الخطية بإثبات الياء مع أنه مجزوم بلا الناهية، فحق الياء أن تحذف، وإثباتها جائز على إشباع الكسرة، فليست هي الياء الأصلية.
📝 نوٹ / توضیح: ہمارے قلمی نسخوں (Manuscripts) میں یہ لفظ اسی طرح "یاء" کے اثبات کے ساتھ موجود ہے حالانکہ یہ "لا ناہیہ" کی وجہ سے مجزوم ہے، لہٰذا قاعدے کے مطابق یاء کو حذف ہونا چاہیے تھا۔ البتہ یاء کا باقی رہنا کسرہ (زیر) کے اشباع (کھینچ کر پڑھنے) کی بنا پر جائز ہے، پس یہ اصلی یاء نہیں ہے۔
(2) إسناده حسن من أجل عبد الملك بن أعْيَن.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی اسناد حسن ہے عبدالمالک بن اعین کی وجہ سے۔
وأخرجه ابن حبان (6733) عن الفضل بن الحباب، عن إبراهيم بن بشّار، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن حبان (6733) نے فضل بن حباب سے، از ابراہیم بن بشار، اسی اسناد کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
وقد تابع إبراهيمَ بنَ بشار عليه جماعةٌ حفاظٌ، منهم الحُميدي في "مسنده" (53).
🧩 متابعات و شواہد: حفاظ کی ایک جماعت نے اس روایت میں ابراہیم بن بشار کی متابعت (تائید) کی ہے، جن میں حمیدی بھی شامل ہیں جنہوں نے اپنی "مسند" (53) میں اسے روایت کیا ہے۔
الغَرْز: رِكابُ الرَّحْل من جلد مخروز، فإذا كان من حديد أو خشب فهو رِكابٌ.
📚 لغوی تحقیق: الغَرْز: یہ اونٹ کے کجاوے کا وہ رکاب ہے جو سلے ہوئے چمڑے سے بنا ہو، اگر یہ لوہے یا لکڑی کا ہو تو اسے "رِکاب" کہتے ہیں۔
وذُباب السيف: طرفه الذي يُضرب به.
📚 لغوی تحقیق: ذُباب السيف: تلوار کا وہ کنارہ جس سے ضرب لگائی جاتی ہے (تلوار کی نوک)۔