🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
108. إخباره - صلى الله عليه وآله وسلم - بمقاتلة على الناكثين وغيرهم .
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جانب سے اس بات کی خبر کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ ناکثین اور دیگر گروہوں سے قتال کریں گے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4728
أخبرنا أحمد بن سهل الفقيه ببُخارَى، حدثنا سهل بن المتوكِّل، حدثنا أحمد بن يونس، حدثنا محمد بن فُضيل، عن أبي حيَّان التيمي، عن سعيد بن جُبَير، عن ابن عبّاس قال: قال النبي ﷺ لِعليٍّ:"أمَا إنك ستَلْقى بَعدي جَهْدًا"، قال: في سَلامةٍ من دِيني؟ قال:"في سَلامةٍ من دِينِك" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4677 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: تم میرے بعد مشقت میں مبتلا ہو گے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے عرض کی: (یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان حالات میں) میرا ایمان سلامت ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیرا دین سلامت ہو گا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن انہوں نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4728]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4728 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده جيد من أجل محمد بن فضيل، فهو لا بأس به إلّا أنه كان غاليًا في التشيُّع. أبو حَيَّان التيمي: هو يحيى بن سعيد بن حَيّان.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی اسناد جید (عمدہ) ہے محمد بن فضیل کی وجہ سے، کیونکہ وہ "لا بأس بہ" (قابلِ قبول) ہیں سوائے اس کے کہ وہ تشیع میں غالی تھے۔ 🔍 تعینِ راوی: ابو حیان التیمی: یہ یحییٰ بن سعید بن حیان ہیں۔
وانظر لزامًا تخريج الحديث المتقدم برقم (4723).
📖 حوالہ / مصدر: گزشتہ حدیث نمبر (4723) کی تخریج لازمی ملاحظہ کریں۔