المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
201. آنية حوض الكوثر أكثر من عدد النجوم
حوضِ کوثر کے برتن ستاروں کی تعداد سے بھی زیادہ ہیں
حدیث نمبر: 4948
حدثنا أبو العبّاس محمد بن يعقوب حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدثنا عثمان بن عمر، حدثنا أسامة بن زيد عن الزُّهْري، عن أنس: أنَّ رسول الله ﷺ مَرّ بحمزةَ يوم أُحُدٍ وقد جُدِعَ ومُثِّل به، وقال:"لولا أن صفية تَجِدُ لَتَركْتُه حتى يَحشُرَه اللهُ من بُطون الطَّير والسِّباع"، فكفَّنه في نَمِرةٍ (1) . صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4887 - على شرط مسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4887 - على شرط مسلم
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جنگ احد کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی لاش مبارک کے پاس تشریف لائے تو ان کے ناک کان وغیرہ کاٹ کر چہرہ انور کو بگاڑ دیا گیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہ کی پریشانی کا خیال نہ ہوتا تو میں انہیں اسی طرح (بے گور و کفن) چھوڑ دیتا حتی کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ان کو پرندوں اور درندوں کے پیٹ سے اٹھاتا۔ پھر ان کو ایک دھاری دار چادر میں کفن دیا گیا۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4948]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4948 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) صحيح لغيره، وهذا إسناد رجاله لا بأس بهم، لكن غلط فيه أسامة بن زيد - وهو الليثي - إذ جعله عن الزُّهْري عن أنس، وإنما هو عن الزهري عن عبد الرحمن بن كعب بن مالك عن جابر بن عبد الله، كما تقدّم بيانه برقم (1367) و (2590)، حيث تقدَّم هناك من طرق عن أسامة بن زيد الليثي.
⚖️ درجۂ حدیث: (1) یہ حدیث "صحیح لغیرہ" ہے، یہ والی سند ایسی ہے جس کے رجال "لا بأس بہم" ہیں، 🔍 فنی نکتہ / علّت: لیکن اس میں اسامہ بن زید - جو کہ اللیثی ہیں - سے غلطی ہوئی ہے، انہوں نے اسے "زہری عن انس" بنا دیا، حالانکہ درحقیقت یہ "زہری عن عبدالرحمن بن کعب بن مالک عن جابر بن عبداللہ" ہے، جیسا کہ نمبر (1367) اور (2590) میں اس کا بیان گزر چکا ہے، جہاں اسامہ بن زید اللیثی ہی کے کئی طرق بیان ہوئے تھے۔