🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
203. رؤيا النبى شهادة رجل من عترته فاستشهد حمزة
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خواب کہ آپ کی عترت میں سے ایک شخص شہید ہوگا، چنانچہ سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ شہید ہوئے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4957
حدثنا علي بن حَمَشاذَ، حدثنا أبو المثنَّى، حدثنا عبد الواحد بن غِياث، حدثنا حماد بن سَلَمة، عن علي بن زيد، عن أنس بن مالك: أنَّ رسول الله ﷺ رأى فيما يرى النائمُ، قال:"رأيتُ كأني مُردِفٌ كبشًا، وكأنَّ ظُبَةَ سيفي انكسرتْ فأوَّلتُ أن أَقتُل كبشَ القَومِ، وأوَّلتُ أنَّ ظُبَة سيفي رجلٌ من عِتْرَتي". فقُتل حمزةُ، وقَتل رسولُ الله ﷺ طلحةَ، وكان صاحبَ اللِّواء (1) (2) .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خواب میں دیکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: میں نے دیکھا ہے کہ میں ایک مینڈھے کا پیچھا کر رہا ہوں، اور میری تلوار کا کنارہ ٹوٹ گیا ہے۔ میں نے اس کی تعبیر یہ کی ہے کہ میں قوم کے مینڈھے (لشکر کے سپہ سالار) قتل کروں گا۔ اور تلوار کا کنارہ ٹوٹنے کی یہ تعبیر کی ہے کہ میرے خاندان کا کوئی آدمی ہے (جو شہید ہو گا) چنانچہ سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ شہید ہوئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طلحہ کو قتل کیا، یہ مشرکین کا علم بردار تھا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4957]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4957 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) المثبت من "تلخيص المستدرك" للذهبي ومصادر التخريج وفي نسخنا الخطية: صاحب القول.
📝 نوٹ / توضیح: (1) ہم نے یہ متن ذہبی کی "تلخیص المستدرک" اور تخریج کے مصادر سے ثابت کیا ہے، جبکہ ہمارے قلمی نسخوں میں "صاحب القول" کے الفاظ ہیں۔
(2) إسناده ضعيف لضعف علي بن زيد - وهو ابن جُدعان - لكن روي مثلُ هذه الرؤيا عن ابن عبّاس كما تقدَّم عند المصنّف برقم (2620) بإسناد حسن غير أنه لم يُسمِّ فيها حمزة ولا طلحة، وإنما قال: "ورأيت أن سيفي ذا الفقار فُلَّ فأوَّلتُه فَلًّا فيكم" فجعلها عامّةً وليس بخصوص حمزة.
⚖️ درجۂ حدیث: (2) اس کی سند علی بن زید - جو کہ ابن جدعان ہے - کے ضعف کی وجہ سے "ضعیف" ہے۔ 🧩 متابعات و شواہد: لیکن اس طرح کا خواب ابن عباس ؓ سے بھی مروی ہے جو مصنف کے ہاں نمبر (2620) میں "حسن سند" کے ساتھ گزر چکا، مگر اس میں انہوں نے حمزہ اور طلحہ کا نام نہیں لیا بلکہ فرمایا: "میں نے دیکھا کہ میری تلوار ذوالفقار ٹوٹ گئی ہے، تو میں نے اس کی تعبیر تم میں شکست/نقصان سے کی"۔ پس انہوں نے اسے عام رکھا، حمزہ کے ساتھ خاص نہیں کیا۔
وأخرجه أحمد 21 / (13825) عن عفان، عن حماد بن حماد بن سلمة به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے مسند احمد: 21/ (13825) میں عفان سے، انہوں نے حماد بن حماد بن سلمہ سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وطلحة صاحب اللواء: هو طلحة بن أبي طلحة العَبْدري.
🔍 فنی نکتہ / اسماء الرجال: (روایت میں مذکور) طلحہ صاحب اللواء (جھنڈے والے) سے مراد طلحہ بن ابی طلحہ العبدری ہیں۔
والظُّبة: حدُّ السيف.
🔍 فنی نکتہ / لغت: "الظُّبَة" کا معنی تلوار کی دھار ہے۔