🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
205. ذكر مناقب مصعب الخير وهو ابن عمير بن هاشم - قتل يوم أحد رضى الله عنه -
سیدنا مصعب الخیر، جو مصعب بن عمیر بن ہاشم ہیں، رضی اللہ عنہ کے مناقب کا بیان — آپ غزوۂ اُحد کے دن شہید ہوئے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4965
حدثنا أبو عبد الله الأصبَهاني، حدثنا الحسن بن جَهْم، حدثنا الحسين ابن الفَرَج، حَدَّثَنَا محمد بن عمر، حدثني إبراهيم بن محمد العَبْدَري (1) ، عن أبيه، قال: كان مصعُب بن عُمير فتى مكةَ شبابًا وجمالًا، وكان أبَواه يُحِبّانِه، وكانت أمُّه تكسُوه أحسنَ ما يكون من الثياب وأرَقَّه، وكان أعطرَ أهلِ مكة، وكان رسولُ الله ﷺ يذكُره يقول:"ما رأيتُ بمكة أحسنَ لِمَّةٌ، ولا أرقَّ حُلَّةً، ولا أنعمَ نِعمةً، من مصعب بن عُمير" (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4904 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
ابراہیم بن محمد العبدری اپنے والد کا بیان نقل کرتے ہیں کہ سیدنا مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ مکہ کے حسین و جمیل نوجوان تھے، ان کے ماں باپ ان سے محبت کرتے تھے، ان کی والدہ ان کو بہت ہی دیدہ زیب لباس زیب تن کرواتی تھیں اور آپ پورے مکہ میں سب سے زیادہ اچھی خوشبو لگاتے تھے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کرتے تھے میں نے مصعب بن عمیر سے زیادہ خوبصورت، خوش لباس اور صاحب نعمت کسی کو نہیں دیکھا [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4965]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4965 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) تحرَّف في نسخنا الخطية إلى: العبدي، وأثبتناه على الصواب من "تلخيص المستدرك" للذهبي ومن "طبقات ابن سعد" 3/ 108 حيث رواه عن الواقدي. والعَبْدري نسبة لعبد الدار بن قُصي.
📝 نوٹ / توضیح: (1) قلمی نسخوں میں یہ لفظ "العبدی" تحریف ہو گیا تھا، جسے ہم نے ذہبی کی "تلخیص" اور ابن سعد کی "الطبقات": 3/ 108 سے درست کر کے (العبدری) لکھا ہے۔ "العبدری" کی نسبت عبدالدار بن قصی کی طرف ہے۔
(2) حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف بمرّة من أجل محمد بن عمر الواقدي ولإرساله. والخبر عند ابن سعد في "طبقاته" 3/ 108 عن محمد بن عمر الواقدي، ومحمد والد إبراهيم - وهو محمد بن ثابت بن شُرْحبيل العَبْدري الحَجَبي - تابعيّ، فالخبر مرسل، لكن رُويَ بنحوه من وجه آخر ضعيف سيأتي عند المصنّف برقم (6785).
⚖️ درجۂ حدیث: (2) یہ روایت "حسن لغیرہ" ہے، اگرچہ موجودہ سند محمد بن عمر الواقدی اور "ارسال" کی وجہ سے "انتہائی ضعیف" ہے۔ 🧾 تفصیلِ روایت: یہ خبر ابن سعد کی "الطبقات": 3/ 108 میں واقدی سے مروی ہے۔ اور محمد (والد ابراہیم) - جو کہ محمد بن ثابت بن شرحبیل العبدری الحجبی ہیں - وہ تابعی ہیں، لہٰذا خبر "مرسل" ہے۔ تاہم ایک دوسرے ضعیف طریق سے اس کی مثل مروی ہے جو عنقریب نمبر (6785) میں آئے گا۔
واللِّمّة من شعر الرأس دون الجُمّة، سميت بذلك لأنّها ألمّت بالمنكبين، فإذا زادت فهي الجُمّة.
🔍 فنی نکتہ / لغت: "اللِّمّة" سر کے ان بالوں کو کہتے ہیں جو "جمّہ" سے کم ہوں، اسے یہ نام اس لیے دیا گیا کیونکہ یہ کندھوں کو چھوتے (المّت) ہیں، اور جب بڑھ جائیں تو "جمّہ" کہلاتے ہیں۔