🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
206. ذكر مناقب سعد بن الربيع بن عمرو الخزرجي العقبي
سیدنا سعد بن ربیع بن عمرو خزرجی عقبوی رضی اللہ عنہ کے مناقب کا بیان — سیدنا سعد بن ربیع رضی اللہ عنہ کی شہادت اور آخری سانسوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سلام
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4966
حدثني محمد بن صالح بن هانئ حَدَّثَنَا يحيى بن محمد بن يحيى الشهيد، حَدَّثَنَا بن عبد الوهاب الحَجَبي، حَدَّثَنَا حاتم بن إسماعيل، عن عبد الأعلى بن عبد الله بن أبي فَرْوة، عن قَطَن بن وَهْب، عن عُبيد بن عُمير، عن أبي ذَرّ، قال: لما فرغَ رسولُ الله ﷺ يومَ أُحدٍ مَرّ على مُصعب بن عُمير (3) مقتولًا على طريقه، فقرأ: ﴿مَنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا الله عَلَيْهِ﴾ الآية [الأحزاب: 23] (4) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. ذكرُ مناقب سعد بن الرَّبيع بن عمرو الخَزْرجي العَقَبيّ أحدُ النقباء الاثني عشر، وكان كاتبًا شهد بدرًا، وقُتل يومَ أُحُد.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4905 - صحيح
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ احد سے فارغ ہوئے تو سیدنا مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کے قریب سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ہوا، سیدنا مصعب بن عمیر ایک راہ گزر میں شہید پڑے ہوئے تھے۔ ان کو دیکھ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی: مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاھَدُوا اللّٰہَ عَلَیْہِ (الاحزاب: 23) مسلمانوں میں کچھ وہ مرد ہیں جنہوں نے سچا کر دیا جو عہد اللہ سے کیا تھا ۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4966]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4966 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) وقع في (ز) والمطبوع: مصعب الأنصاري، وهو خطأ، إنما هو مهاجريّ لا أنصاريّ، والتصويب من (ص) و (م)، وهو الموافق لما في رواية البيهقي في "دلائل النبوة" 3/ 284 - 285.
📝 نوٹ / توضیح: (3) نسخہ (ز) اور مطبوعہ میں "مصعب الانصاری" ہے جو کہ غلط ہے (وہ مہاجر تھے)، تصحیح نسخہ (ص) اور (م) سے کی گئی ہے جو بیہقی کی "دلائل النبوۃ": 3/ 284-285 کے بھی موافق ہے۔
(4) رجاله لا بأس بهم، لكن الصحيح أنه من رواية عُبيد بن عُمير مرسلًا كما تقدَّم بيانه برقم (3014).
⚖️ درجۂ حدیث: (4) اس کے رجال "لا بأس بہم" ہیں، لیکن صحیح یہ ہے کہ یہ عبید بن عمیر کی روایت سے "مرسلاً" ہے جیسا کہ نمبر (3014) میں بیان ہوا۔
وأخرجه البيهقي في "دلائل النبوة" 3/ 284 - 285 عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد. وأخرجه أبو نعيم في "حلية الأولياء" 1/ 107، من طريق قتيبة بن سعيد، عن حاتم بن إسماعيل، عن عبد الأعلى، عن قَطَن بن وهب، عن عُبيد بن عُمير، مرسلًا.
📖 حوالہ / مصدر: اسے بیہقی نے "دلائل النبوۃ": 3/ 284-285 میں ابو عبداللہ الحاکم سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ اور ابو نعیم نے "حلیۃ الاولیاء": 1/ 107 میں قتیبہ بن سعید > حاتم بن اسماعیل > عبدالاعلیٰ > قطن بن وہب > عبید بن عمیر سے "مرسلاً" روایت کیا ہے۔