🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
209. ذكر مناقب عبد الله بن عمرو بن حرام بن ثعلبة بن حرام بن كعب بن غنم بن كعب بن سلمة
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن حرام بن ثعلبہ بن حرام بن کعب بن غنم بن کعب بن سلمہ رضی اللہ عنہ کے مناقب کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4970
حَدَّثَنَا أبو العباس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا أحمد بن عبد الجبار، حَدَّثَنَا يونس بن بُكَير، عن ابن إسحاق، قال: حدثني عاصم بن عمر بن قَتَادة، عن محمود بن لَبيد، قال: لما خَرج رسولُ الله ﷺ إلى أُحُدٍ وقع اليمانُ بن حِسْل بن جابر أبُ حُذيفة وثابتُ بن وَقْشِ بن زَعُوراء (3) في الآطَامِ مع النساء والصِّبيان، فقال أحدُهما لِصاحبِه وهما شَيخانِ كبيرانِ: لا أبا لكَ، ما نَنتظِرُ؟! فوالله ما بقي لواحدٍ منا مِن عُمُره إِلَّا ظِمْءُ [حِمارٍ] (1) ، إنما نحن هامَةُ اليومِ (2) ، ألَا نأخذُ أسيافَنا ثم نلحقُ برسولِ الله ﷺ. فدخلا في المسلمين ولا يعلمون بهما، فأما ثابتُ بن وَقْش، فقتله المشركون، وأما أبو حذيفةَ، فاختلَفَتْ عليه أسيافُ المسلمين فقتلوه ولا يَعرِفونه، فقال حذيفةُ: أَبي أَبي، فقالوا: واللهِ إِنْ عَرَفْناه، وصَدَقوا، فقال حذيفةُ: يغفرُ الله لكم وهو أرحمُ الراحمين، فأراد رسولُ الله ﷺ أن يَدِيَه، فتصدَّق به حذيفةُ على المسلمين، فزادَه ذلك عندَ رسول الله ﷺ (3) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. ذكرُ مناقب عبد الله بن عمرو بن حَرَام بن ثَعْلبة بن حَرَام بن كعب بن غَنْم بن كعب بن سَلِمة يُكنى أبا جابرٍ، وهو أبُ (1) جابر بن عبد الله السَّلَمي الأنصاري، وأحدُ النُّقباء ممّن بايعَ ليلةَ العَقَبة، وأول قَتيل قُتل من المسلمين يومَ أُحُد، قتله سفيان بن عبد شمس أبو الأعوَر السُّلَمي، وصلَّى عليه رسولُ الله ﷺ قبلَ الهزيمة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4909 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
محمود بن لبید فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ احد کے لئے روانہ ہوئے تو حذیفہ کے والد یمان بن جابر اور ثابت بن وقش بن زعوراء کو بلند مضبوط مکانوں میں عورتوں اور بچوں کی نگرانی کے لئے مقرر کیا گیا۔ ان میں سے ایک نے اپنے ساتھی سے کہا: (یہ دونوں عمر رسیدہ تھے) ہمارا بھی کوئی حال نہیں ہے، ہم کب تک انتظار کرتے رہیں گے۔ ہماری تھوڑی سی تو عمر باقی بچی ہے جبکہ ہم اپنی قوم کے سردار ہیں کیوں نہ ہم اپنی تلواریں پکڑیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ جہاد میں شریک ہوں، چنانچہ یہ دونوں جا کر مسلمانوں کے لشکر میں شریک ہو گئے، جبکہ مسلمان مجاہدین ان کو جانتے نہ تھے۔ سیدنا ثابت بن وقش رضی اللہ عنہما کو مشرکین نے شہید کر دیا اور سیدنا حذیفہ کے والد، مسلم مجاہدین کے ہاتھوں شہید ہو گئے، کیونکہ یہ لوگ ان کو جانتے نہ تھے اس لئے لاعلمی میں مجاہدین نے ان کو شہید کر ڈالا، سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کہا: یہ میرے والد ہیں، یہ میرے والد ہیں۔ مجاہدین نے جواب دیا: ہم نے ان کو پہچانا نہیں تھا، اور ان کی یہ بات سچ تھی (انہوں نے واقعی ان کو نہیں پہچانا تھا) سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ تعالیٰ تمہاری مغفرت فرمائے اور وہ سب سے بڑا رحم کرنے والا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی دیت ادا کرنا چاہی، لیکن سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے وہ دیت بھی مسلمانوں پر صدقہ کر دی۔ ان کے اس عمل کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر میں ان کا مقام اور بھی بڑھ گیا۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4970]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4970 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) إسناده حسن من أجل محمد بن إسحاق.
⚖️ درجۂ حدیث: (3) اس کی سند محمد بن اسحاق کی وجہ سے "حسن" ہے۔
وأخرجه أحمد 39/ (23639) عن يحيى بن زكريا بن أبي زائدة، عن محمد بن إسحاق، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے مسند احمد: 39/ (23639) میں یحییٰ بن زکریا بن ابی زائدہ سے، انہوں نے محمد بن اسحاق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
مختصرًا بقصة قتل المسلمين لليمان إلى آخرها.
📝 نوٹ / توضیح: یہ یمان (حذیفہ کے والد) کے مسلمانوں کے ہاتھوں قتل ہونے کے قصے پر مشتمل مختصر روایت ہے جو آخر تک ہے۔
وسيأتي عند المصنّف برقم (5722) عن عروة مرسلًا: أنَّ النَّبِيّ ﷺ أمر باليمان فُودِيَ. ولم يذكر تصدُّقَ حذيفة بدِيَته. وانظر بيان هذا الإشكال هناك.
🧾 تفصیلِ روایت: عنقریب مصنف کے ہاں نمبر (5722) میں عروہ سے "مرسلاً" آئے گا کہ: "نبی ﷺ نے یمان کے بارے میں حکم دیا تو ان کی دیت ادا کی گئی"۔ اس میں حذیفہ کا دیت صدقہ کرنے کا ذکر نہیں ہے۔ اس اشکال کا بیان وہاں دیکھیں۔
(1) هذا جائز في لغة العرب بنُدرةٍ كما تقدم قريبًا.
🔍 فنی نکتہ / لغت: (1) یہ (لغوی اسلوب) عربی زبان میں شاذ و نادر جائز ہے جیسا کہ ابھی گزرا۔