🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
12. البحر هو الطهور ماؤه الحل ميتته
سمندر کا پانی پاک ہے اور اس کے مردہ جانور حلال ہیں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 498
[فحدَّثَناه أبو علي الحسن بن علي الحافظ، أخبرنا محمد بن صالح] (1) الكِيلِيني بالرَّيّ، حدثنا سعيد بن كَثِير بن يحيى بن حُمَيد بن نافع الأنصاري، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، عن صفوان بن سُلَيم، عن سعيد بن سَلَمة، عن المغيرة بن أبي بُرْدة - وهو من بني عبد الدار - عن أبي هريرة قال: أَتى رسولَ الله ﷺ نَفَرٌ ممَّن يَركَبُ البحرَ، فقالوا: يا رسول الله، إنا نركبُ البحرَ ونتزوَّد شيئًا من الماء، فإن توضَّأْنا به عَطِشْنا، فهل يَصلُحُ لنا أن نتوضَّأَ من ماءِ البحر؟ فقال رسول الله ﷺ:"هو الطَّهُورُ ماؤُه، الحِلُّ مَيْتَتُه" (2) . وقد تابع الجُلَاحُ أبو كَثيرٍ صفوانَ بنَ سُلَيم على رواية هذا الحديث عن سعيد بن سَلَمة:
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سمندری سفر کرنے والے کچھ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم سمندر میں سفر کرتے ہیں اور کچھ پانی ساتھ رکھتے ہیں، اگر ہم اس سے وضو کریں تو پیاسے رہ جائیں گے، کیا ہمارے لیے سمندر کے پانی سے وضو کرنا درست ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کا پانی پاک ہے اور اس کا مردار حلال ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 498]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 498 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) ما بين المعقوفين مكانه بياض في النسخ الخطية، واستدركناه من "معرفة السنن والآثار" للبيهقي (473) حيث رواه عن أبي عبد الله الحاكم بإسناده ومتنه.
📝 نوٹ / توضیح: بریکٹس (معقوفین) کے درمیان والا حصہ اصل نسخوں میں خالی تھا، جسے ہم نے امام بیہقی کی "معرفة السنن والآثار" (473) سے مکمل کیا ہے، جہاں انہوں نے اسے امام حاکم کی سند اور متن سے نقل کیا ہے۔
(2) حديث صحيح كما سبق، وهذا إسناد ضعيف لضعف إسحاق بن إبراهيم المزني.
⚖️ درجۂ حدیث: جیسا کہ پہلے گزر چکا یہ حدیث صحیح ہے، تاہم زیرِ نظر سند اسحاق بن ابراہیم المزنی کے ضعف کی وجہ سے ضعیف ہے۔