المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
12. البحر هو الطهور ماؤه الحل ميتته
سمندر کا پانی پاک ہے اور اس کے مردہ جانور حلال ہیں۔
حدیث نمبر: 499
حدَّثَناه علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، أخبرنا عبيد بن عبد الواحد بن شَرِيك، حدثنا يحيى بن بُكَير، حدثني الليث، عن يزيد بن أبي حَبِيب، حدثني الجُلَاح أبو كَثير، أنَّ ابن سلمة المخزومي حدَّثه، أنَّ المغيرة بن أبي بُرْدة أخبره، أنه سمع أبا هريرة يقول: كنا عند رسول الله ﷺ يومًا فجاءه صيَّاد فقال: يا رسول الله، إنا ننطلقُ في البحر نريد الصيدَ فيَحمِلُ معه أحدُنا الإداوَةَ وهو يرجو أن يَأخُذَ الصيدَ قريبًا، فربما وَجَدَه كذلك، وربما لم يَجِدِ الصيدَ حتى يَبلُغَ من البحر مكانًا لم يَظُنَّ أن يَبلُغَه، فلعلَّه يَحتلِمُ أو يتوضَّأُ، فإن اغتسل أو توضَّأَ بهذا الماء فلعلَّ أحدَنا يُهلِكُه العطشُ، فهل ترى في ماء البحر أن نغتسل به أو نتوضأَ به إِذا خِفْنا ذلك؟ فَزَعَمَ أنَّ رسول الله ﷺ قال:"اغتسِلُوا منه وتوضؤوا به، فإنه الطَّهُورُ ماؤُه، الحِلُّ مَيْتتُه" (3) . قد احتَجَّ مسلمٌ بالجُلَاح أبي كثير. وقد تابع يحيى بنُ سعيد الأنصاريُّ ويزيدُ بنُ محمد القرشي سعيدَ بنَ سلمة المخزوميَّ على رواية هذا الحديث. واختُلف عليه فيه (1) :
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے کہ ایک شکاری آیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم مچھلیوں کے شکار کے لیے سمندر میں جاتے ہیں، ہم میں سے کوئی اپنے ساتھ پانی کا برتن لے جاتا ہے اس امید پر کہ شکار جلد مل جائے گا، لیکن بسا اوقات وہ سمندر میں ایسی جگہ پہنچ جاتا ہے جہاں پہنچنے کا اسے گمان بھی نہیں ہوتا، وہاں اسے احتلام ہو جاتا ہے یا وضو کی ضرورت پڑتی ہے، اب اگر وہ اس پانی (پینے والے) سے غسل یا وضو کرے تو پیاس سے ہلاکت کا ڈر ہے، تو کیا آپ کی رائے میں ہم سمندر کے پانی سے غسل یا وضو کر سکتے ہیں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسی سے غسل اور وضو کرو، کیونکہ اس کا پانی پاک ہے اور اس کا مردار حلال ہے۔“
امام مسلم نے جلاح ابو کثیر سے احتجاج کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 499]
امام مسلم نے جلاح ابو کثیر سے احتجاج کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 499]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 499 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) إسناده قوي. الليث: هو ابن سعد. ¤ ¤ وأخرجه أحمد 14/ (8912) عن قتيبة بن سعيد عن الليث، عن الجلاح، عن المغيرة بن أبي بردة، به مختصرًا. فسقط من الإسناد عنده يزيد بن أبي حبيب بين الليث والجلاح، وسعيد بن سلمة بين الجلاح والمغيرة.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند قوی ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: سند میں "لیث" سے مراد لیث بن سعد ہیں۔ 📖 حوالہ / مصدر: امام احمد نے 14/ (8912) میں قتیبہ عن لیث عن جلاح عن مغیرہ بن ابی بردہ کے طریق سے اسے مختصراً روایت کیا ہے، مگر امام احمد کی سند میں لیث اور جلاح کے درمیان "یزید بن ابی حبیب" اور جلاح و مغیرہ کے درمیان "سعید بن سلمہ" کا نام ساقط (حذف) ہو گیا ہے۔
(1) الخلاف فيه وقع على المغيرة بن أبي بردة، انظر تفصيل ذلك بما لا مزيد عليه عند الدارقطني في "العلل" 9/ 7 (1614)، وأضبطها ما رواه مالك كما سلف عند المصنف. ولا يخلو إسناد ممّا ساقه من مقال.
🔍 فنی نکتہ / علّت: اس روایت میں اختلاف مغیرہ بن ابی بردہ کے حوالے سے واقع ہوا ہے، اس کی بھرپور تفصیل کے لیے امام دارقطنی کی "العلل" 9/ 7 (1614) ملاحظہ کریں۔ سب سے زیادہ مضبوط وہ روایت ہے جو امام مالک نے بیان کی ہے جیسا کہ مصنف کے ہاں پہلے گزر چکا۔ مصنف نے جو سندیں یہاں ذکر کی ہیں ان میں سے کوئی بھی کلام (جرح) سے خالی نہیں ہے۔