🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
227. وجد على جعفر بضع وسبعون جراحة
سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ کے جسم پر ستر سے زائد زخم پائے گئے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5008
حَدَّثَنَا محمد بن صالح بن هانئ، حَدَّثَنَا الحُسين بن الفضل، حَدَّثَنَا سليمان ابن حَرْب، حَدَّثَنَا حماد بن سَلَمة، عن عبد الله بن المُختار، عن محمد بن سِيرِين، عن أبي هريرة، قال: قال رسولُ الله ﷺ:"مَرَّ بي جعفرٌ الليلةَ في ملأٍ من الملائكة، وهو مُخَضَّبُ الجَناحَين بالدَّمِ أبيضُ القَوادمِ (1) " (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4943 - على شرط مسلم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: گزشتہ رات سیدنا جعفر فرشتوں کے ہمراہ میرے پاس سے گزرے ان کے دونوں پروں خون کے سرخ رنگ سے رنگے ہوئے تھے اور دل سفید تھا۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5008]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5008 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) تحرّف في نسخنا الخطية إلى: الفؤاد، والمثبت على الصواب من مصادر التخريج التي خرّجت هذا الخبر عن حماد بن زيد عن عبد الله بن المختار.
📝 نوٹ / توضیح: (1) ہمارے قلمی نسخوں میں یہ لفظ تحریف ہو کر "الفؤاد" بن گیا تھا، جسے ہم نے تخریج کے ان مصادر سے درست کیا ہے جنہوں نے اس خبر کو حماد بن زید > عبداللہ بن المختار سے روایت کیا ہے۔
(2) رجاله لا بأس بهم، إلَّا أنَّ حماد بن سلمة قد خولف في وصله، خالفه حماد بن زيد - وهو أضبط للرواية منه - عند ابن سعد في "الطبقات" 4/ 36، وابن أبي الدنيا في "الهواتف" (11)، فرواه عن عبد الله بن المختار عن النَّبِيّ ﷺ معضَلًا، ومع ذلك قوَّى ابن حجر إسنادَ رواية حماد بن سَلَمة في "فتح الباري" 11/ 149!
⚖️ درجۂ حدیث: (2) اس کے رجال "لا بأس بہم" ہیں، سوائے اس کے کہ حماد بن سلمہ کی اس روایت کو "وصل" کرنے میں مخالفت کی گئی ہے۔ ان کی مخالفت حماد بن زید نے کی ہے - جو روایت میں ان سے زیادہ پختہ (اضبط) ہیں - ابن سعد ["الطبقات": 4/ 36] اور ابن ابی الدنیا ["الہواتف": (11)] کے ہاں؛ انہوں نے اسے عبداللہ بن المختار > نبی ﷺ سے "معضلاً" روایت کیا ہے۔ 📌 اہم نکتہ: اس کے باوجود ابن حجر نے "فتح الباری": 11/ 149 میں حماد بن سلمہ کی سند کو قوی قرار دیا ہے!
وقد سلف نحوه عن أبي هريرة من وجهٍ آخر برقم (4999) ليس فيه ذكر خِضاب الجناحين بالدم، وهو المحفوظ.
🧾 تفصیلِ روایت: اس کی مثل ابو ہریرہ ؓ سے دوسرے طریق سے نمبر (4999) میں گزر چکی، جس میں دونوں پروں کو خون سے رنگنے (خضاب الجناحین بالدم) کا ذکر نہیں ہے، اور وہی "محفوظ" ہے۔