المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
246. دعاء أبى حذيفة لشهادته
سیدنا ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ کی شہادت کی دعا
حدیث نمبر: 5058
حَدَّثَنَا أبو العباس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا أحمد بن عبد الجَبّار، حَدَّثَنَا يونس بن بُكَير، عن محمد بن إسحاق، عن العباس بن مَعبَد، عن أبيه، عن ابن عباس: أنَّ رسولَ الله ﷺ قال يومَ بدرٍ:"مَن لَقيَ منكم العباسَ فليَكفُفْ عنه، فإنه خَرجَ مُستَكْرَهًا"، فقال أبو حُذيفة بن عُتبة: أنقتُلُ آبَاءَنا وإخوانَنا وعَشائرَنا ونَدَعُ العباسَ؟! واللهِ لأُلحِمَنَّه (2) بالسيف، فبلَغَتْ رسولَ الله ﷺ، فقال لعمر بن الخطاب:"يا أبا حفص" قال عُمر: إنه لأوّلُ يوم كَنّاني فيه بحفص"أيُضرَبُ وجهُ عَمِّ رسولِ الله بالسَّيف؟" فقال عمر: دَعْني فَلْأضْرِبْ عُنُقَه، فإنه قد نافَقَ. وكان أبو حذيفة يقول: ما أنا بآمِنٍ من تلك الكلمة التي قلتُ، ولا أزالُ خائفًا حتَّى يُكفِّرَها اللهُ عني بالشهادة، قال: فقُتِل يومَ اليمامة شهيدًا (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ بدر کے دن فرمایا: تم میں سے جس کے سامنے عباس (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا) آئیں تو ان کو قتل نہ کرنا، کیونکہ وہ مجبور ہے۔ تو سیدنا ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم اپنے آباء و اجداد کو، اپنے بھائیوں کو اور اپنے خاندان والوں کو قتل کر دیں اور عباس کو چھوڑ دیں؟ خدا کی قسم! میں تو اس کو نہیں چھوڑوں گا۔ یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچ گئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے، اور فرمایا: اے ابوحفص! (سیدنا عمر فرماتے ہیں یہ پہلا دن تھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ابوحفص کی کنیت سے پکارا) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا کے چہرے پر تلوار چلائی جائے گی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: حضور صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے اجازت عطا فرمایئے، میں اس کی گردن مار دیتا ہوں، یہ منافق ہو گیا ہے۔ (اس کے بعد) سیدنا ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے ” اس دن والی گفتگو سے میں کبھی بھی بے خوف نہیں ہوا، اور میں اس کی وجہ سے ہمیشہ خوفزدہ رہا کرتا تھا، حتی کہ اللہ تعالیٰ مجھے شہادت دے کر اس گناہ کو مٹا دے (یعنی مجھے شہادت عطا فرما دے) “ آپ جنگ یمامہ میں شہید ہوئے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5058]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5058 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) في (ز): لأدعنَّه، ونظنها محرفة عن لأُلحِمَنَّه، ولأنَّ الدَّعَّ هو الدفع الشديد، ولا يناسبه ذكر السَّيف، ولهذا ضُبِّب، فوقها، وبُيّض لهذه الكلمة في (ص) و (م)، والمثبت من "دلائل النبوة" للبيهقي 3/ 140 حيث روى هذا الخبر عن أبي عبد الله الحاكم بسنده هذا الذي هنا، وهو الموافق لرواية بعض من خرَّج هذا الحديث. ومعناه: لأقتلنّه كأنه جُعِل لحمًا. ورواه بعضهم بالجيم بدلٌ الحاء.
🔍 فنی نکتہ / علّت: نسخہ (ز) میں "لأدعنہ" لکھا ہے جو کہ "لألحمنہ" کی تحریف لگتی ہے، کیونکہ تلوار کے ذکر کے ساتھ "دع" (زور سے دھکا دینا) مناسب نہیں۔ بیہقی (3/140) کے مطابق درست لفظ "لألحمنہ" ہے جس کا مطلب ہے: "میں اسے ضرور قتل کر دوں گا یہاں تک کہ وہ گوشت کا لوتھڑا بن جائے"۔ بعض نے اسے جیم (الجمنہ) کے ساتھ بھی پڑھا ہے۔
(1) إسناده حسنٌ كسابقه.
⚖️ درجۂ حدیث: پچھلی سند کی طرح یہ بھی "حسن" ہے۔
وأخرجه البيهقي في "دلائل النبوة" 3/ 140 عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد غير أنه قال فيه: عن العباس بن عبد الله بن مَعْبَد، عن بعض أهله، عن عبد الله بن عباس.
📖 حوالہ / مصدر: اسے بیہقی نے "دلائل النبوۃ" (3/140) میں امام حاکم سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے، مگر وہاں "عن بعض اہلہ" کے الفاظ ہیں۔
وكذلك أخرجه ابن هشام في "السيرة النبوية" 1/ 628 - 629، وابن سعد في "طبقاته الكبرى" 4/ 10، ويعقوب بن سفيان في "المعرفة والتاريخ" 1/ 513، والطبري في "تاريخه" 2/ 449 - 450 من طرق عن محمد بن إسحاق، عن العباس بن عبد الله بن معبد، عن بعض أهله، عن ابن عباس.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن ہشام (1/628)، ابن سعد (4/10)، یعقوب بن سفیان (1/513) اور طبری (2/449) نے مختلف طرق سے ابن اسحاق عن العباس بن عبد اللہ عن بعض اہلہ عن ابن عباس کی سند سے روایت کیا ہے۔