🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
251. ذكر شهادة سالم ومولاه أبى حذيفة
سیدنا سالم اور ان کے مولیٰ سیدنا ابو حذیفہ رضی اللہ عنہما کی شہادت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5070
حدثنا أبو عبد الله بن بُطَّة، حدثنا محمد بن رُسْته، حدثنا سليمان بن داود، حدثني محمد بن عمر، عن شيوخه، قال: سالم مولى أبي حُذيفة بن عُتبة كان مولًى لثُبَيتة (1) بنت يَعَار الأنصارية، وكانت تحت أبي حُذيفة فتَبنّاه، فكان يقال: سالم بن أبي حذيفة، فلما نزل القرآنُ ﴿ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ﴾ [الأحزاب: 5] قيل لسالم: مولى أبي حذيفة. قُتل يوم اليمامة شهيدًا سنة ثنتي عشرة، ووُجِد رأسُه عند رجلِ أبي حذيفة، أو رِجلُ أبي حذيفة عند رأسِه (2) . وقال موسى بن عقبة: هو سالم بن مَعقِل، من أهل إصطَخْرَ (3) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5000 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
محمد بن عمر اپنے شیوخ کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ ابوحذیفہ بن عتبہ کے آزاد کردہ غلام سیدنا سالم رضی اللہ عنہ، ثبیتہ بنت یعار انصاریہ کے غلام تھے اور ثبیتہ انصاریہ سیدنا ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں، تو سیدنا ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ نے ان کو اپنا منہ بولا بیٹا بنا لیا تھا۔ اس لئے ان کو سالم بن ابی حذیفہ کہہ کر ہی بلایا جاتا تھا۔ پھر جب قرآن اکرم کی یہ آیت نازل ہوئی۔ ادعوھم لآبائھم (الاحزاب: 5) انہیں ان کے باپ ہی کا کہہ کر پکارو ۔ تو ان کو سالم مولی حذیفہ کہا جانے لگا۔ آپ بارہویں سن ہجری میں جنگ یمامہ میں شہید ہوئے ان کا سر سیدنا ابوحذیفہ کے پاؤں کے قریب پڑا ہوا ملا تھا، یا (شاید یہ الفاظ ہیں کہ) ابوحذیفہ کے پاؤں، ان کے سر کے پاس تھے۔ اور موسیٰ بن عتبہ کا کہنا ہے کہ وہ سالم بن معقل ہے اہل اصطخر میں سے ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5070]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5070 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) تصحف في نسخنا الخطية إلى: لشينة، كذا أُعجمت في (ز) وصُحِّح فوقها، وكذلك رُسمت في سائر أصولنا، وإنما هو ثُبَيتة، كما في "المؤتلف والمختلف" للدارقطني 1/ 213، و "الإكمال" لابن ماكولا 1/ 186، وغيرهما. وقيل في اسمها غير ذلك، فقيل: عمرة، وقيل: سلمى.
🔍 فنی نکتہ / علّت: قلمی نسخوں میں یہ نام تحریف ہو کر "لشینہ" ہو گیا ہے، جبکہ درست نام "ثُبَيتہ" ہے (دارقطنی 1/213)۔ 📝 نوٹ / توضیح: ان کے نام میں دیگر اقوال بھی ہیں، جیسے عمرہ یا سلمیٰ۔
(2) جاء في "مغازي الواقدي" 1/ 160: سالم مولى ثبيتة بنت يعار، قتل يوم اليمامة. وفي "أنساب الأشراف" للبَلاذُري 9/ 372 عن محمد بن سعد عن الواقدي، عن إبراهيم بن إسماعيل بن أبي حبيبة، عن داود بن الحصين من قوله، بمثل ما جاء في رواية المصنّف هنا، فلم ينفرد به عن الواقديِّ سليمانُ بنُ داود الشاذكوني.
📖 حوالہ / مصدر: واقدی کی "مغازی" (1/160) اور بلاذری کی "انساب الاشراف" (9/372) میں صراحت ہے کہ حضرت سالم رضی اللہ عنہ ثبیتہ بنت یعار کے مولیٰ تھے اور یمامہ میں شہید ہوئے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اس روایت میں شاذکونی تنہا نہیں ہیں۔
(3) وكذلك سمّاه ابن شهاب الزهري ومصعب بن الزبير كما في "المؤتلف والمختلف" للدارقطني 1/ 213، وإنما تلقّاه موسى بن عقبة عن الزهري.
📝 نوٹ / توضیح: امام زہری اور مصعب بن زبیر نے بھی یہی نام ذکر کیا ہے، اور موسیٰ بن عقبہ نے اسے زہری ہی سے حاصل کیا تھا۔