المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
261. عطاء النبى سيفا أبا دجانة يوم أحد
غزوۂ اُحد کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سیدنا ابو دجانہ رضی اللہ عنہ کو تلوار عطا فرمانا
حدیث نمبر: 5087
حدثنا أبو عبد الله الأصبهاني، حدثنا الحسن بن الجَهْم، حدثنا الحُسين بن الفَرَج، حدثنا محمد بن عمر، عن شُيوخه: اسمُ أبي دُجَانَة سِمَاكُ بنُ خَرَشة بن لَوْذانَ بن عبد وَدِّ بن زيد بن ثعلبة بن الخزرَج، آخى رسولُ الله ﷺ بينه وبين عُتبة بن غَزْوان، وشهد أبو دُجَانة بدرًا وأحدًا وثبت يومئذٍ مع رسولِ الله ﷺ، وبايَعَه على الموت، وشهد اليَمامةَ، وكان فيمن شَرِكَ في قتل مُسيلِمةَ، وقُتِل أبو دُجَانةَ يومئذٍ شهيدًا (1) .
محمد بن عمر اپنے شیوخ کے حوالے سے فرماتے ہیں: ابودجانہ کا نام ” سماک بن خرشہ بن لوذان بن عبدود بن زید بن ثعلبہ بن خزرج “ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اور سیدنا عتبہ بن غزوان رضی اللہ عنہما کو بھائی بھائی بنایا تھا۔ سیدنا ابودجانہ رضی اللہ عنہ جنگ بدر اور احد میں شریک ہوئے اور اس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ثابت قدم رہے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دست اقدس پر موت کی بیعت کی۔ آپ جنگ یمامہ میں شریک ہوئے اور مسیلمہ کو قتل کرنے والی جماعت میں یہ بھی شامل تھے۔ سیدنا ابودجانہ رضی اللہ عنہ اسی دن (جنگ یمامہ میں) شہید ہوئے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5087]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5087 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) وهو في "الطبقات الكبرى" لابن سعد مُقطّعًا 3/ 515 و 516 عن محمد بن عمر الواقدي من قوله هو.
📖 حوالہ / مصدر: یہ روایت ابن سعد کی "الطبقات الکبریٰ" (3/515 اور 516) میں "منقطع" سند کے ساتھ موجود ہے، جو کہ محمد بن عمر الواقدی کے اپنے قول سے مروی ہے۔
وممَّن ذكره فيمن شهد بدرًا عروةُ بن الزبير عند الطبراني في "الكبير" (6502)، وابنُ شهاب الزهري عند ابن أبي عاصم في "الآحاد والمثاني" (1824)، والطبراني أيضًا (6503)، وابنُ إسحاق كما في "السيرة النبوية" لابن هشام 1/ 695.
🧾 تفصیلِ روایت: جن ائمہ نے ان (صحابی) کو غزوہ بدر کے شرکاء میں شمار کیا ہے، ان میں عروہ بن زبیر ہیں (دیکھیے: طبرانی کی "المعجم الکبیر"، رقم 6502)، ابن شہاب الزہری ہیں (دیکھیے: ابن ابی عاصم کی "الآحاد والمثاني"، رقم 1824 اور طبرانی کی بھی رقم 6503)، اور ابن اسحاق ہیں (دیکھیے: ابن ہشام کی "السیرۃ النبویہ" 1/695)۔
وثبت عن أنس بن مالك عند خليفة بن خياط في "تاريخه" ص 111: أنَّ أبا دجانة رمى بنفسه في الحديقة - يعني حديقة الموت يوم اليمامة - فانكسرت رجلُه، فقاتل حتى قُتل.
📌 اہم نکتہ: خلیفہ بن خیاط کی "تاریخ" (صفحہ 111) میں حضرت انس بن مالک ؓ سے ثابت ہے کہ: حضرت ابو دجانہ ؓ نے (جنگ یمامہ کے روز) خود کو "حدیقۃ الموت" (موت کے باغ) کے اندر پھینک دیا تھا، جس سے ان کی ٹانگ ٹوٹ گئی، لیکن وہ مسلسل لڑتے رہے یہاں تک کہ شہید ہو گئے۔
وأما مشاركته في قتل مُسيلمة فأشار إليه وحشيّ بن حرب في حديثه الذي رواه في قصة قتله لحمزة يوم أحد، ثم ذكر طرفًا من قصة اليمامة، قال فيه: فلما كان من أمر مُسيلمة ما كان وانبعث إليه البعثُ انبعثتُ معه، وأخذتُ حَرْبتي، فالتقينا فبادرتُه أنا ورجلٌ من الأنصار فربُّك أعلم أيُّنا قتله … فقد جزم ابن عبد البر في "الاستيعاب" ص 798 أنه ممّن اشترك في قتل مُسيلمة، وقال ابن الجوزي في "المنتظم" 4/ 82: لا شكَّ أنَّ الأنصاري هو أبو دجانة سماك بن خَرَشَة، وبه جزم ابن كثير أيضًا في "البداية والنهاية" 5/ 364. وقد أخرج حديثَ وحشيٍّ هذا الطيالسيُّ (1410)، وابن إسحاق كما في "السيرة النبوية" لابن هشام 2/ 70 - 72، وإسناده عند الطيالسي صحيح، ومن طريق ابن إسحاق حسنٌ.
🧾 تفصیلِ روایت: مسیلمہ کذاب کے قتل میں ابو دجانہ کی شرکت کی طرف وحشی بن حرب ؓ نے اپنی اس حدیث میں اشارہ کیا ہے جس میں انہوں نے یومِ احد میں حضرت حمزہ ؓ کے قتل کا واقعہ اور پھر یمامہ کا قصہ بیان کیا۔ وحشی کہتے ہیں: "پھر جب مسیلمہ کا معاملہ پیش آیا اور لشکر روانہ ہوا تو میں بھی ساتھ نکلا اور اپنا وہی حربہ (چھوٹا نیزہ) ساتھ لیا۔ جب ہمارا آمنا سامنا ہوا تو میں اور ایک انصاری صحابی اس کی طرف لپکے... تیرا رب ہی بہتر جانتا ہے کہ ہم دونوں میں سے کس نے اسے قتل کیا۔" 🔍 تحقیق: ابن عبد البر نے "الاستیعاب" (صفحہ 798) میں یقین کے ساتھ لکھا ہے کہ وہ مسیلمہ کے قتل میں شریک تھے۔ ابن الجوزی نے "المنتظم" (4/82) میں فرمایا: "اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ انصاری صحابی حضرت ابو دجانہ سماک بن خرشہ تھے،" اور ابن کثیر نے بھی "البدایہ والنہایہ" (5/364) میں اسی بات کا جزم کیا ہے۔ 📖 حوالہ / مصدر: وحشی کی یہ حدیث طیالسی (رقم 1410) اور ابن اسحاق (بحوالہ ابن ہشام 2/70-72) نے روایت کی ہے۔ طیالسی کے ہاں اس کی سند "صحیح" ہے اور ابن اسحاق کے طریق سے "حسن" ہے۔