🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
262. ذكر شجاعة أبى دجانة
سیدنا ابو دجانہ رضی اللہ عنہ کی شجاعت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5088
حدثنا علي بن حَمْشاذَ العَدْل، حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حدثنا محمد بن كَثير؛ وحدثنا (1) علي بن عبد العزيز، حدثنا حَجّاج بن مِنْهال، قالا: حدثنا حمّاد بن سَلَمة، عن ثابت، عن أنس: أنَّ النبي ﷺ أخذَ سيفًا يومَ أُحُدٍ وأصحابُه حولَه، فقال:"مَن يأخذُ هذا السيفَ؟" فبَسَطُوا أيديَهم، يقولُ هذا أنا، ويقولُ هذا: أنا، فقال:"مَن يأخذه بحَقِّه؟" فأحجَمَ القومُ، فقال سِماكٌ أبو دُجَانة: أنا آخُذُه بحَقِّه، فدفَعَه رسولُ الله ﷺ إليه، ففَلَقَ به يومئذٍ هامَ المُشركين (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5018 - على شرط مسلم
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جنگ احد کے دن صحابہ کرام رضی اللہ عنہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اردگرد پروانہ وار جمع تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تلوار تھامی اور فرمایا: یہ تلوار کون لے گا؟ کافی سارے لوگ تلوار لینے کے لئے ہاتھ بڑھا کر کہنے لگے: مجھے عطا فرمائیں، مجھے عطا فرمائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تلوار لے کر اس کا حق کون ادا کرے گا؟ (یہ سن کر کئی لوگ) پیچھے ہٹ گئے، سیدنا ابودجانہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں اس کا حق ادا کروں گا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ تلوار ان کو عطا فرما دی، سیدنا ابودجانہ رضی اللہ عنہ نے اس تلوار کے ساتھ مشرکین کی کھوپڑیاں ادھیڑ کر رکھ دیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5088]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5088 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) القائل "وحدثنا" هو علي بن حمشاذ.
📝 نوٹ / توضیح: متن میں "وحدثنا" (اور ہمیں حدیث بیان کی) کہنے والے راوی علی بن حمشاذ ہیں۔
(2) إسناده صحيح. ثابت: هو ابن أسلمَ البُناني، ومحمد بن كثير: هو الثقفي الصَّنْعاني ثم المصِّيصي، وربما يكون العَبْديِّ البصريَّ، فكلاهما له رواية عن حماد بن سلمة، ولكن الثقفي أشهر بالرواية عن حماد بن سلمة.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / تعیینِ راوی: "ثابت" سے مراد ثابت بن اسلم البنانی ہیں۔ "محمد بن کثیر" سے مراد محمد بن کثیر الثقفی الصنعانی (جو بعد میں مصیصی ہو گئے تھے) ہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ یہ "العبدی البصری" ہوں، کیونکہ دونوں ہی حماد بن سلمہ سے روایت کرتے ہیں، لیکن ثقفی کا حماد بن سلمہ سے روایت کرنا زیادہ مشہور ہے۔
وأخرجه أحمد 19/ (12235)، ومسلم (2470) من طريق عفان بن مسلم، وأحمد (12235) عن يزيد بن هارون، كلاهما عن حماد بن سلمة، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے "مسند" (19/12235) اور امام مسلم نے "صحیح مسلم" (2470) میں عفان بن مسلم کے طریق سے روایت کیا ہے، نیز امام احمد (12235) نے یزید بن ہارون کے واسطے سے بھی روایت کیا ہے۔ یہ دونوں راوی (عفان اور یزید) حماد بن سلمہ سے اسی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں۔