🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
263. ذكر مناقب ثعلبة بن عنمة الأنصاري رضي الله عنه
سیدنا ثعلبہ بن عنمہ انصاری رضی اللہ عنہ کے مناقب کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5089
حدثنا أحمد بن كامل القاضي إملاءً، حدثنا أبو قلابة الرَّقَاشي، حدثنا عَمرو بن عاصم الكِلابي، حدثني عُبيد الله بن الوازع بن ثَوْر، حدثنا هشام بن عُرْوة، عن أبيه، عن الزُّبَير بن العوّام، قال: عَرَضَ رسولُ الله ﷺ سيفًا يومَ أحُدٍ، فقال:"مَن يأخذُ هذا السيفَ بحَقِّه؟" فقمتُ فقلتُ: أنا يا رسول الله، فأعرَض عنّي، ثم قال:"مَن يأخذُ هذا السيفَ بحَقِّه؟" فقمتُ فقلت: أنا يا رسول الله، فأعرَض عنّي، ثم قال:"من يأخذُ هذا السيفَ بحَقِّه؟" فقام أبو دُجانة سماكُ بن خَرَشة، فقال: أنا آخُذُه يا رسول الله بحَقِّه، فما حَقُّه؟ قال:"أن لا تَقتُلَ به مُسلمًا ولا تَفِرَّ به عن كافرٍ" قال: فدفعَه إليه، وكان إذا أرادَ القِتالَ أعْلَمَ بعِصابةٍ، قال: قلتُ: لأنظُرنّ اليومَ كيف يَصنَعُ، قال: فجعلَ لا يَرتفعُ له شيءٌ إِلَّا هَتَكَهُ وأَفْرَاه، حتى انتهى إلى نِسوةٍ في سَفْح الجبلِ معهن دُفُوفٌ لهنٌ، فيهن امرأةٌ وهي تقول: نَحنُ بَناتُ طارِقْ … نَمشِي على النَّمَارِقْ إن تُقبِلُوا نُعانِقْ … ونَبَسُطِ النَّمَارِقْ أو تُدبِروا نُفارقْ … فِراقَ غَيرِ وَامِقْ قال: فأَهْوى بالسيفِ إلى امرأةٍ ليَضربَها، ثم كَفَّ عنها، فلما انكشفَ القِتالُ، قلتُ له: كلَّ عمَلِك قد رأيتُ ما خَلا رَفْعَك السيفَ على المرأة، ثم لم تَضربْها! قال: إني واللهِ أكرمتُ سيفَ رسولِ الله ﷺ أن أَقتلَ به امرأةً (1) . صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. ذكرُ مناقب ثَعْلبة بن عَنَمة الأنصاري ﵁ -
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5019 - صحيح
سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ احد کے دن تلوار پیش کی اور فرمایا: اس تلوار کو اس کے حق کے ساتھ کون لے گا؟ (یعنی یہ تلوار لے کر اس کا حق کون ادا کرے گا؟) سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے کھڑے ہو کر عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں۔ لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے تلوار مجھے عنایت نہ فرمائی، پھر فرمایا: یہ تلوار اس کے حق کے ساتھ کون لے گا؟ میں نے پھر عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر بھی وہ تلوار مجھے عنایت نہ فرمائی۔ پھر فرمایا: یہ تلوار اس کے حق کے ساتھ کون لے گا؟ پھر سیدنا ابودجانہ سماک بن خرشہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ تلوار میں اس کے حق کے ساتھ لیتا ہوں۔ یہ ارشاد فرما دیجئے کہ اس کا حق کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کا حق یہ ہے کہ اس کے ساتھ کسی مسلمان کو قتل نہ کیا جائے، اور کوئی کافر اس کے وار سے بچ کر نہ نکلے، سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ تلوار ابودجانہ رضی اللہ عنہ کو عطا فرما دی، (سیدنا ابودجانہ کی عادت تھی کہ) وہ جب جنگ کا ارادہ کر لیتے تو سر پر سرخ رنگ کی پٹی باندھ لیتے تھے، سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے سوچ رکھا تھا کہ آج میں ابودجانہ رضی اللہ عنہ کے جنگی جوہر دیکھوں گا، چنانچہ ابودجانہ رضی اللہ عنہ کے سامنے جو چیز بھی ابھرتی، آپ اس کو (گاجر مولی کی طرح) کاٹتے ہوئے آگے گزر جاتے، حتی کہ آپ پہاڑ کے دامن میں کچھ عورتوں کے پاس جا پہنچے، ان کے پاس دف تھے اور ان میں سے ایک عورت یہ اشعار گا رہی تھی۔ * ہم طارق کی بیٹیاں ہیں ہم بادلوں کے ساتھ چلتی ہیں۔ * اگر تم قبول کرو تو ہم معانقہ کرتی ہیں اور بستر بچھاتی ہیں۔ * یا (اگر) تم منہ پھیر کر جاؤ تو ہم بھی بغیر محبت کئے بچھڑ جاتی ہیں ۔ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: انہوں نے ایک عورت کو مارنے کے لئے تلوار سونتی، پھر ہاتھ روک لیا، پھر جب جنگ میں کچھ وقفہ آیا تو میں نے ان سے کہا: میں نے تمہاری مکمل لڑائی کا مشاہدہ کیا ہے ان میں ایک چیز میں نے نوٹ کی ہے کہ تم نے ایک عورت پر تلوار اٹھائی تھی، پھر اس کو مارے بغیر تلوار ہٹا لی (اس کی کیا وجہ ہے؟) ابودجانہ رضی اللہ عنہ نے کہا: خدا کی قسم! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار کی عزت و ناموس کا خیال کرتے ہوئے اس عورت کو نہیں مارا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5089]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5089 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده حسنٌ من أجل عُبيد الله بن الوازع، فقد روى عنه حفيدُه عمرو بن عاصم وعبد الله بن المبارك في كتابه "الجهاد" (121) وعبد الأعلى بن محمد البصري في جزء من حديث أبي علي الصواف (50)، وذكره ابن حبان في "الثقات"، وقال عنه الذهبي في "الكاشف": صدوق، وهو كما قال، وأخطأ ابن حجر في "التقريب" فجهَّله.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند عبید اللہ بن الوازع کی وجہ سے "حسن" ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / جرح و تعدیل: ان (عبید اللہ) سے ان کے پوتے عمرو بن عاصم نے، عبد اللہ بن مبارک نے اپنی کتاب "الجہاد" (رقم 121) میں، اور عبد الاعلیٰ بن محمد البصری نے "جزء من حدیث ابی علی الصواف" (رقم 50) میں روایت کی ہے۔ ابن حبان نے انہیں "الثقات" میں ذکر کیا ہے، اور حافظ ذہبی نے "الکاشف" میں انہیں "صدوق" (سچا) قرار دیا ہے، اور وہ ایسے ہی ہیں۔ حافظ ابن حجر نے "التقریب" میں غلطی کی ہے کہ انہیں "مجہول" قرار دے دیا۔
وأخرجه البزار في "مسنده" (979)، والدولابي في "الكنى والأسماء" (385)، والطبري في "تاريخه" 2/ 510 - 511، وفي "تهذيب الآثار" في القسم المفرد فيه مسانيد بعض العشرة ص 548 - 549، والبيهقي في "دلائل النبوة" 3/ 232 - 233 من طريق عن عمرو بن عاصم، بهذا الإسناد. وجاء في رواية البزار التصريح بأنَّ المرأة التي كانت تقول الشعر المذكور هي هند يعني بنت عُتبة امرأة أبي سفيان. وصحَّحه الطبري في "التهذيب".
📖 حوالہ / مصدر: اس روایت کو بزار نے "المسند" (979)، دولابی نے "الکنی والاسماء" (385)، طبری نے "تاریخ الامم والملوک" (2/510-511) اور "تہذیب الآثار" (مسند عشرہ مبشرہ حصہ، صفحہ 548-549) میں، اور بیہقی نے "دلائل النبوۃ" (3/232-233) میں عمرو بن عاصم کے طریق سے اسی سند کے ساتھ نقل کیا ہے۔ 📝 نوٹ / توضیح: بزار کی روایت میں یہ صراحت موجود ہے کہ مذکورہ شعر پڑھنے والی خاتون "ہند بنت عتبہ" (ابو سفیان کی بیوی) تھیں۔ امام طبری نے "تہذیب الآثار" میں اس روایت کو صحیح قرار دیا ہے۔