🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
277. ذكر مناقب ضرار بن الأزور الأسدي الشاعر رضى الله عنه
سیدنا ضرار بن ازور اسدی، شاعر رضی اللہ عنہ کے مناقب کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5111
قال ابن إسحاق: وحدثني عبد الله بن أبي بكر بن محمد بن عمرو بن حَزْم، عن عَمْرة، عن عائشة: أنَّ رسولَ الله ﷺ بعث إلى السَّرِيّة الذين أصابُوا مالَ أبي العاص، وقال لهم:"إنَّ هذا الرجلَ منا حيثُ قد علمتُم، وقد أصبتُم له مالًا، فإن تُحسِنوا تَردُّوا عليه الذي له، فإنا نُحبُّ ذلك، وإن أبَيتُم ذلك فهو فَيْء الله الذي أفاءه عليكم، فأنتم أحقُّ به" قالوا يا رسول الله، بل نَردُّه عليه. قال: فرَدُّوا عليه مالَه، حتى إنَّ الرجلَ ليأتي بالحَبْل ويأتي الرجلُ بالشَّنّة والإداوة، حتى إنَّ أحدَهم ليأتي بالشِّظاظ (1) ، حتى رَدُّوا عليه مالَه بأسْرِه لا يَفقِدُ منه شيئًا، ثم احتَمَل إلى مكةَ، فأدّى إلى كُلّ ذِي مالٌ من قريشٍ مالَه ممَّن كان أبضَعَ معه، ثم قال: يا مَعشرَ قُريش، هل بقيَ لأحدٍ منكم عندي مالٌ لم يأخذْه؟ قالوا: لا، فجزاك اللهُ خيرًا، فقد وجدناك وفِيًّا كريمًا، قال: فإني أشهد أن لا إلهَ إِلَّا الله وأنَّ محمدًا عبدُه ورسولُه، وما مَنَعني من الإسلام عندَه إلَّا تخوُّفًا أن تَظُنُّوا أني إنما أردتُ أخذَ أموالِكم، فلما أدَّاها الله ﷿ إليكم، وفَرغْتُ منها أسلمتُ، ثم خرج حتى قدم على رسول الله ﷺ (2) .
ابن اسحاق کہتے ہیں: ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: جو لشکر ابوالعاص کا قافلہ لوٹ کر آیا تھا، اس کی جانب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیغام بھیجا یہ آدمی ہمارا ہے اور تم لوگوں نے اس کا مال چھینا ہے، اگر تم مہربانی کر کے اس کا مال اس کو لوٹا دو تو مجھے دلی خوشی ہو گی، اور اگر تمہیں اس بات سے انکار ہو تو بھی مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے، کیونکہ یہ وہ مال غنیمت ہے جو اللہ تعالیٰ نے تمہیں عطا فرمایا ہے، اور تم لوگ ہی اس کے زیادہ حقدار ہو، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (ہماری کیا مجال ہے کہ آپ کا حکم ٹالیں) ہم اس کا مال اس کو لوٹا دیتے ہیں۔ چنانچہ انہوں نے ابوالعاص کا مال اس کو لوٹا دیا۔ حتی کہ کسی کے پاس اگر ان کی کوئی ایک رسی بھی تھی تو وہ بھی اس کو دے دی گئی، کسی کے پاس کوئی چھوٹا موٹا برتن یا پرانی کمان یا مشکیزہ تھا وہ بھی واپس کر دیا گیا، ایک آدمی ایک خوبصورت لونڈی لے کے آیا، اور واپس کر دی، الغرض ان کی پائی پائی واپس کر دی گئی۔ پھر وہ مکہ کی جانب روانہ ہو گئے، مکہ مکرمہ پہنچ کر قریش مکہ کا تمام مال ان کے مالکوں کو واپس کر دیا۔ پھر قریش سے کہا: اے گروہ قریش! تم میں کوئی آدمی ایسا تو نہیں بچا جس کو اس کا مال واپس نہ ملا ہو؟ قریش نے جواباً کہا: نہیں، اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے، ہم نے آپ کو امانتدار اور اچھا انسان پایا۔ اس کے بعد ابوالعاص نے کہا: تو میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ بے شک محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں۔ اور ابھی تک میں قبول اسلام سے صرف اس لئے رکا رہا کہ تم کہیں میرے بارے میں یہ بدگمانی نہ کرو کہ میں نے تمہارا مال ہتھیانے کے لئے اسلام قبول کیا ہے اب جبکہ میں نے وہ تمام مال تمہیں ادا کر دیا ہے اور میں تمہاری طرف سے فارغ ہوں تو میں نے اسلام قبول کر لیا، پھر وہ وہاں سے نکلے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہو گئے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5111]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5111 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) الشِّظاظ: العُودُ الذي يُدخَل في عُروة الجُوالِق، وهو الوعاء من جلود وثياب وغيرها.
📝 لغوی تحقیق: "الشِّظاظ": وہ لکڑی یا ڈنڈا جو "جُوالِق" (بڑے تھیلے یا بورے) کے کڑے میں ڈالا جاتا ہے۔ "جوالق" چمڑے یا کپڑے وغیرہ سے بنا ہوا سامان رکھنے کا برتن/تھیلا ہوتا ہے۔
(2) إسناده رجاله لا بأس بهم، لكن المحفوظ فيه أنه عن ابن إسحاق، عن عبد الله بن أبي بكر بن محمد بن عمرو بن حَزْم، مرسلًا، ليس فيه ذكر عَمْرة - وهي بنت عبد الرحمن بن سعْد بن زُرارة - ولا عائشة كما رواه سائر أصحاب ابن إسحاق عنه، وقد رواه المصنِّف على الصواب في "مغازي ابن إسحاق" بروايته كما رواه عنه البيهقي في "سننه الكبرى" 9/ 143، وفي "دلائل النبوة" 4/ 85، ومن طريقه أخرجه ابن عساكر في "تاريخ دمشق" 67/ 14، وقد أشار البيهقي في "سننه" 9/ 95 إلى ذلك التغاير في الوصل والإرسال بين رواية الحاكم في "مغازي ابن إسحاق" وبين روايته في "المستدرك" فيما يتعلق بقصة أبي العاص.
🔍 فنی نکتہ / علت: اس سند کے رجال "لا بأس بہم" ہیں، لیکن اس میں "محفوظ" بات یہ ہے کہ یہ ابن اسحاق سے عبد اللہ بن ابی بکر بن محمد بن عمرو بن حزم سے "مرسلاً" مروی ہے۔ اس میں نہ عمرہ (بنت عبد الرحمن بن سعد بن زرارہ) کا ذکر ہے اور نہ حضرت عائشہ کا، جیسا کہ ابن اسحاق کے دیگر تمام شاگردوں نے اسے (مرسلاً) روایت کیا ہے۔ خود مصنف (حاکم) نے اپنی کتاب "مغازی ابن اسحاق" میں اسے درست طور پر (مرسلاً) روایت کیا ہے، جیسا کہ بیہقی نے ان سے "السنن الکبریٰ" (9/143) اور "دلائل النبوۃ" (4/85) میں نقل کیا ہے (اور اسی طریق سے ابن عساکر نے "تاریخ دمشق" 67/14 میں تخریج کی ہے)۔ امام بیہقی نے اپنی "سنن" (9/95) میں ابو العاص کے قصے کے متعلق حاکم کی "مغازی ابن اسحاق" والی روایت اور "المستدرک" والی روایت کے درمیان اس اختلاف (وصل اور ارسال) کی طرف اشارہ کیا ہے۔
وأخرجه على الصواب ابن عساكر في "تاريخ دمشق" 67/ 12 من طريق رضوان بن أحمد الصيدلاني، عن أحمد عبد الجبار، عن يونس بن بُكَير، عن ابن إسحاق، عن عبد الله بن أبي بكر مرسلًا.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن عساکر نے "تاریخ دمشق" (67/12) میں رضوان بن احمد الصیدلانی عن احمد بن عبد الجبار عن یونس بن بکیر عن ابن اسحاق عن عبد اللہ بن ابی بکر کے واسطے سے "مرسلاً" (درست طریقے پر) روایت کیا ہے۔
وكذلك أخرجه ابن هشام في "السيرة النبوية" 1/ 658 عن زياد البكائي، والطبري في "تاريخه" 2/ 471 - 472 من طريق سلمة بن الفضل الأبرش، والطبراني في "الكبير" 22/ (1050) من طريق محمد بن سَلَمة الحرَّاني، كلهم عن ابن إسحاق، عن عبد الله بن أبي بكر مرسلًا. ويشهد له مرسل موسى بن عقبة عن الزهري عند البيهقي في "دلائل النبوة" 4/ 174، ورجاله ثقات. لكن ليس فيه إسلام أبي العاص.
📖 حوالہ / مصدر: اسی طرح ابن ہشام نے "السیرۃ النبویہ" (1/658) میں زیاد البکائی سے، طبری نے "تاریخ" (2/471-472) میں سلمہ بن الفضل الابرش کے طریق سے، اور طبرانی نے "المعجم الکبیر" (22/1050) میں محمد بن سلمہ الحرانی کے طریق سے روایت کیا ہے۔ یہ سب ابن اسحاق سے، اور وہ عبد اللہ بن ابی بکر سے "مرسلاً" روایت کرتے ہیں۔ 🧩 متابعات و شواہد: اس کی تائید (شاہد) موسیٰ بن عقبہ کی "مرسل" روایت کرتی ہے جو زہری سے مروی ہے (دیکھیے: بیہقی کی "دلائل النبوۃ" 4/174)، اور اس کے رجال "ثقہ" ہیں۔ البتہ اس (موسیٰ بن عقبہ والی روایت) میں ابو العاص کے اسلام لانے کا ذکر نہیں ہے۔
ويشهد له بأجمعه مرسلُ الشعبي عند ابن هشام 1/ 659، وابن سعد في "طبقاته" 5/ 7، وابن عساكر 67/ 13 و 14. ورجاله ثقات.
🧩 متابعات و شواہد: اس تمام قصے کی تائید (شاہد) امام شعبی کی "مرسل" روایت سے ہوتی ہے جو ابن ہشام (1/659)، ابن سعد کی "الطبقات" (5/7) اور ابن عساکر (67/13 و 14) کے پاس موجود ہے، اور اس کے رجال "ثقہ" ہیں۔
والشَّنّة: القِربة.
📝 لغوی تحقیق: "الشَّنَّۃ" کا معنی "مشکیزہ" (القِربۃ) ہے۔
والإداوة: إناء صغير من جلد يُتخذ للماء.
📝 لغوی تحقیق: "الإداوۃ": چمڑے کا چھوٹا برتن جو پانی کے لیے استعمال ہوتا ہے۔