🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
291. لا تؤذوا مسلما بكافر والناس معادن خيارهم فى الجاهلية خيارهم فى الإسلام
کسی مسلمان کو کسی کافر کی وجہ سے اذیت نہ دو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5137
أخبرني أبو عبد الله الصَّنْعاني بمكة، حدثنا إسحاق بن إبراهيم بن عَبّاد، حدثنا عبد الرزاق، أخبرنا معمر، عن الزُّهْري، عن أبي بكر بن عبد الرحمن بن الحارث بن هشام، عن عائشة، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"رأيتُ في المَنام كأنَّ أبا جَهْلٍ أتاني فبايَعَني"، فلما أسلَم خالدُ بن الوليد قيل لرسول الله ﷺ: قد صَدَّق اللهُ رؤياك يا رسول الله، هذا كان إسلامَ خالدٍ، فقال:"لَيكُونَنَّ غَيْرُه"، حتى أسلمَ عِكْرمةُ بن أبي جَهْل، وكان ذلك تصديقَ رُؤياهُ (1) . صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5060 - على شرط البخاري ومسلم
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ ابوجہل میرے پاس آیا ہے اور آ کر میری بیعت کی ہے۔ پھر جب سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اسلام لائے تو کسی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ نے آپ کے خواب کو سچ کر دیا ہے۔ وہ سیدنا خالد کا اسلام تھا۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا: وہ کوئی اور شخص ہے۔ حتی کہ سیدنا عکرمہ بن ابوجہل ایمان لے آئے اور یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے خواب کی تصدیق تھی۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5137]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5137 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) رجاله ثقات، لكن المحفوظ فيه في رواية إسحاق بن إبراهيم بن عبّاد - وهو الدَّبَري راوي مُصنف عبد الرزاق، و "جامع معمر بن راشد" - أنه عن عبد الرزاق عن معمر عن الزهري مرسلًا، ليس فيه ذكر أبي بكر بن عبد الرحمن ولا عائشة، كذلك جاء في "جامع معمر" (20365).
🔍 فنی نکتہ / علت: اس کے رجال "ثقہ" ہیں، لیکن اس میں "محفوظ" بات یہ ہے کہ اسحاق بن ابراہیم بن عباد (الدبری، جو مصنف عبد الرزاق اور جامع معمر بن راشد کے راوی ہیں) کی روایت کے مطابق یہ "عبد الرزاق عن معمر عن الزہری" سے "مرسلاً" مروی ہے، اس میں ابوبکر بن عبد الرحمن اور حضرت عائشہ ؓ کا ذکر نہیں ہے۔ "جامع معمر" (20365) میں بھی ایسے ہی آیا ہے۔
لكن رواه ابن المبارك في "الجهاد" (55) عن معمر عن الزهري، عن أبي بكر بن عبد الرحمن بن الحارث بن هشام مرسلًا، فذكر أبا بكر، لكنه لم يذكر عائشة، فلا يُحفَظ فيه ذكر عائشة بيقينٍ، كذلك لا يُحفظ ذكر أبي بكر بن عبد الرحمن في رواية الدبري عن عبد الرزاق، لكن يُحفظ ذكرُه في رواية ابن المبارك عن معمر.
🔍 فنی نکتہ / اضطراب: لیکن ابن المبارک نے "الجہاد" (55) میں اسے معمر عن الزہری عن ابی بکر بن عبد الرحمن بن الحارث بن ہشام سے "مرسلاً" روایت کیا ہے، اس میں انہوں نے ابوبکر کا ذکر تو کیا لیکن حضرت عائشہ کا ذکر نہیں کیا۔ لہٰذا اس میں حضرت عائشہ کا ذکر یقینی طور پر "محفوظ نہیں" ہے۔ اسی طرح دبری کی عبد الرزاق سے روایت میں ابوبکر بن عبد الرحمن کا ذکر محفوظ نہیں ہے، البتہ ابن المبارک کی معمر سے روایت میں ان کا ذکر محفوظ ہے۔