المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
291. لا تؤذوا مسلما بكافر والناس معادن خيارهم فى الجاهلية خيارهم فى الإسلام
کسی مسلمان کو کسی کافر کی وجہ سے اذیت نہ دو
حدیث نمبر: 5138
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن سِنان القَزّاز، حدثنا يعقوب بن محمد الزُّهْري، حدثنا المُطّلب بن كَثير، حدثنا الزُّبير بن موسى، عن مصعب بن عبد الله بن أبي أُمية، عن أم سَلَمة، قالت: قال رسولُ الله ﷺ:"رأيتُ لأبي جَهلٍ عِذْقًا في الجَنّة" فلما أسلمَ عَكْرمةُ بن أبي جهل قال:"يا أم سَلَمة، هذا هو"، قالت أم سلمة: وقال رسولُ الله ﷺ: شكا إليه عِكْرمةُ أنه إذا مَرّ بالمدينة قيل له: هذا ابن عَدوِّ الله أبي جَهْل، فقام رسول الله ﷺ خَطيبًا فقال:"النَّاسُ مَعادنُ، خِيارُهم في الجاهلية خِيارُهم في الإسلام إذا فَقُهوا، لا تُؤذُوا مُسلمًا بكافرٍ" (2) . صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5061 - لا فيه ضعيفان
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5061 - لا فيه ضعيفان
ام المومنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں نے ابوجہل کے لئے جنت میں انگوروں کا ایک خوشہ دیکھا ہے۔ جب سیدنا عکرمہ رضی اللہ عنہ مسلمان ہوئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ام سلمہ! یہ تھی وہ (جنتی خوشے کی حقیقت) ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک دفعہ عکرمہ نے مجھے شکایت کی کہ بعض لوگ ان کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہ اللہ کے دشمن ابوجہل کا بیٹا ہے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک لوگ کان کی مثل ہیں جو زمانہ جاہلیت میں باعزت تھا وہ اسلام لانے کے بعد بھی باعزت ہے جبکہ وہ دین کی سمجھ بوجھ رکھتے ہوں۔ تم مسلمان کو کسی کافر کی وجہ سے تکلیف مت دو۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5138]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5138 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده ضعيف، يعقوب بن محمد الزُّهري ليِّن الحديث، ويحدِّث عمّن لا يُعرف من الشيوخ، وشيخُه هنا - وهو المُطَّلب بن كثير - مجهول لا يُعرف. وأعله الذهبي في "تلخيصه" بوجود ضعيفين في إسناده. قلنا: لعله قصد محمد بن سنان ويعقوب بن محمد، لكن محمد بن سنان متابع.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "ضعیف" ہے۔ یعقوب بن محمد الزہری "لین الحدیث" (کمزور) ہیں اور غیر معروف شیوخ سے روایت کرتے ہیں، اور یہاں ان کے شیخ "المطلب بن کثیر" مجہول ہیں اور پہچانے نہیں جاتے۔ ذہبی نے "تلخیص" میں سند میں دو ضعیف راویوں کی موجودگی کی وجہ سے اسے معلول قرار دیا ہے۔ ہم کہتے ہیں: شاید ان کی مراد محمد بن سنان اور یعقوب بن محمد تھے، لیکن محمد بن سنان کی متابعت موجود ہے۔
وأخرجه يعقوب بن عبد الرحمن بن أحمد الجصاص في "فوائده" كما في "الإصابة" لابن حجر 4/ 538، ومن طريقه أخرجه ابن عساكر في "تاريخ دمشق" 41/ 60، وابن الأثير في "أسد الغابة" 3/ 570 عن محمد بن سنان القزاز بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے یعقوب بن عبد الرحمن بن احمد الجصاص نے اپنی "الفوائد" (بحوالہ الاصابہ لابن حجر 4/538) میں، اور ان کے طریق سے ابن عساکر نے "تاریخ دمشق" (41/60) اور ابن الاثیر نے "اسد الغابۃ" (3/570) میں محمد بن سنان القزاز سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه البخاري في "تاريخه الكبير" تعليقًا 3/ 412، وأخرجه الطبراني في "الكبير" 23/ (673) من طريق محمد بن عبادة الواسطي، كلاهما (البخاري ومحمد بن عُبادة) عن يعقوب بن محمد الزهري، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام بخاری نے "التاریخ الکبیر" (تعلیقاً 3/412) میں اور طبرانی نے "المعجم الکبیر" (23/673) میں محمد بن عبادہ الواسطی کے طریق سے روایت کیا ہے۔ یہ دونوں (بخاری اور محمد بن عبادہ) اسے یعقوب بن محمد الزہری سے روایت کرتے ہیں۔